امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان تجارتی خسارے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’قلم کے صرف ایک وار‘ (یک جنبش قلم) سے اس خسارے کا خاتمہ کر سکتے ہیں جس سے سوئٹزرلینڈ کی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کو ایران جنگ جلد ختم ہونے کی امید، آبنائے ہرمز معاہدہ بھی قریب پہنچ گیا
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گردش کرنے والے ایک انٹرویو کلپ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو سوئٹزرلینڈ کے ساتھ تقریباً 39 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے جسے وہ ایک فیصلے سے ختم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا سوئٹزرلینڈ سے گھڑیاں اور دیگر مصنوعات خریدنا بند کر دے تو امریکا کو اربوں ڈالر کی بچت ہوگی جبکہ سوئٹزرلینڈ کی معیشت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ خوش قسمتی سے میں ایک اچھا انسان ہوں۔
صددر ٹرمپ نے کہا کہ میں صرف یہ کہہ دوں کہ مجھے تمہاری گھڑیاں اور تمہاری اشیا نہیں چاہییں لہٰذا ہم 39 یا 41 ارب ڈالر بچا لیں گے اور سوئٹزرلینڈ ایک ایلیٹ ملک سے مشکلات کا شکار ملک بن جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل سوئس درآمدات پر 30 فیصد ٹیرف عائد کر چکی تھی جس میں اعلیٰ معیار کی گھڑیاں اور دیگر قیمتی مصنوعات بھی شامل تھیں۔ تاہم بعد ازاں سنہ 2025 کے آخر میں دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدے کے بعد یہ ٹیرف کم کرکے 15 فیصد کر دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیے: ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی، آبنائے ہرمز کھولنے کے عبوری معاہدے کے امکانات روشن، صدر ٹرمپ کا دعویٰ
اس معاہدے کے تحت سوئٹزرلینڈ نے بھی امریکا سے درآمد کی جانے والی بعض زرعی اور صنعتی مصنوعات پر درآمدی محصولات میں کمی کی تھی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں توازن پیدا کیا جا سکے۔
امریکی بیورو آف اکنامک اینالیسز کے اعداد و شمار کے مطابق سوئٹزرلینڈ امریکا کے اہم ترین تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سالانہ سامان اور خدمات کی مجموعی تجارت 290 ارب ڈالر سے تجاوز کر جاتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2025 میں امریکا اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان مجموعی تجارت تقریباً 292.9 ارب ڈالر رہی، جبکہ اسی سال امریکا کا تجارتی خسارہ 8.12 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے ایک سال قبل یعنی سال 2024 میں یہ خسارہ 9.58 ارب ڈالر تھا۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی سوئٹزرلینڈ امریکا کے لیے اہم ملک سمجھا جاتا ہے۔ وہ امریکا میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں چھٹے نمبر پر ہے جبکہ سوئس سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 350 ارب ڈالر بتایا جاتا ہے جس کے ذریعے امریکا میں لاکھوں ملازمتوں کو سہارا ملتا ہے۔
واضح رہے کہ یہاں ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا مطلب یہ تھا کہ اگر امریکا سوئٹزرلینڈ سے درآمدات محدود یا بند کر دے تو امریکا کا تجارتی خسارہ کم ہو سکتا ہے تاہم اس سے سوئٹزرلینڈ کی برآمدات متاثر ہونے کا امکان پیدا ہوگا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ فیصلے کے باوجود ٹرمپ کا نیا اقدام، پیدائشی شہریت محدود کرنے کے لیے نئے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط
تاہم ماہرین کے مطابق عملی طور پر ایسا فیصلہ تجارتی معاہدوں، عالمی قوانین اور دونوں ممالک کے کاروباری مفادات کی وجہ سے اتنا آسان نہیں ہوگا اس لیے ٹرمپ کے بیان کو زیادہ تر سیاسی دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔













