امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے نامعلوم پروازوں سے متعلق 41 نئی دستاویزات جاری کردی ہیں، جن میں 1963 میں برازیل میں ایک دھاتی غبارے نما شے کے حادثے، افغانستان میں آسمان کو ڈھانپ دینے والی مثلث نما شے اور خلیج عمان میں انتہائی تیز رفتاری سے حرکت کرنے والی 25 نامعلوم اشیا کے مشاہدات شامل ہیں۔
پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے جمعہ کو ان دستاویزات کے اجرا کا اعلان کیا۔ یہ رواں سال نامعلوم پروازوں یا ’یو اے پی‘ سے متعلق خفیہ ریکارڈز کی جاری کی جانے والی پانچویں کھیپ ہے۔ دستاویزات پینٹاگون، ایف بی آئی، سی آئی اے، محکمہ خارجہ اور امریکی صدر کے ایگزیکٹو آفس سے متعلق ریکارڈز پر مشتمل ہیں، جن میں 1950 سے 2026 تک کے واقعات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پینٹاگون کی نئی یو ایف او فائلز منظر عام پر، پراسرار چمکتے گولوں کے انکشاف نے توجہ حاصل کر لی
جاری کردہ ریکارڈز میں 1963 میں برازیل سے بھیجا گیا ایک ٹیلی گرام خاص توجہ کا مرکز ہے، جس میں ایک دھاتی غبارے نما شے کے حادثے اور اس کے اندر ایک ہلاک شخص کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تاہم صرف 6 روز بعد بھیجی گئی ایک اور رپورٹ میں پہلے واقعے کو من گھڑت قرار دے دیا گیا تھا۔
دستاویزات میں اس سے بھی پرانے واقعات کا ذکر موجود ہے۔ جنوری 1947 کی ایک انٹیلیجنس رپورٹ میں فن لینڈ اور ڈنمارک میں نظر آنے والے ’گھوسٹ راکٹس‘ کا ذکر کیا گیا تھا، جنہیں اس وقت سوویت راکٹ تجربات سے جوڑا گیا تھا۔ 1948 کی ایک یادداشت میں بھی ایک نامعلوم ’پرواز کرنے والی شے‘ دیکھے جانے کی تصدیق کی گئی، تاہم اس کی کوئی واضح وضاحت پیش نہیں کی گئی۔
حالیہ ریکارڈز میں 2021 کا ایک واقعہ بھی شامل ہے، جس میں خلیج عمان میں فوجی اہلکاروں نے ایک لائیو فائر مشق کے دوران 25 نامعلوم اشیا کو حرکت کرتے دیکھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ اشیا تقریباً 1300 میل فی گھنٹہ تک کی رفتار سے سفر کر رہی تھیں۔
The Pentagon has released 41 declassified files spanning decades of unexplained sightings, and more videos are expected to come. Full story: https://t.co/JN6Ptu7q9s pic.twitter.com/FfSYVoWRis
— news.com.au (@newscomauHQ) August 8, 2026
اسی طرح جون 2002 میں افغانستان کے بگرام ایئرفیلڈ کے قریب ایک سابق فوجی اہلکار نے تقریباً 500 فٹ لمبی، خاموش اور مثلث نما شے دیکھنے کا دعویٰ کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ شے اس قدر بڑی تھی کہ اس کے گزرنے کے دوران آسمان کے ستارے بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے۔
ایف بی آئی نے 2023 اور 2011 میں بھی کولوراڈو اسپرنگز میں دیکھے جانے والی 2 مثلث نما اشیا کی ڈیجیٹل تصاویر تیار کی تھیں، تاہم یہ دونوں مشاہدات تصویروں کے بجائے عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی تھے۔
پینٹاگون کے مطابق مزید نامعلوم فضائی مظاہر سے متعلق دستاویزات بھی جاری کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔













