ثنا سے زیبو تک، پاکستانی ڈراموں کی وہ 6 خواتین جنہوں نے ہار ماننے سے انکار کیا

اتوار 9 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی ڈراموں کی تاریخ میں کئی ایسے خواتین کردار سامنے آئے جنہوں نے صرف حالات کا شکوہ نہیں کیا بلکہ مشکلات کا مقابلہ کیا، اپنے فیصلے خود کیے اور اپنی شناخت بنائی۔ ’ان کہی‘ کی ثنا سے ’اڈاری‘ کی زیبو تک 6 ایسے کردار ہیں جنہوں نے ٹیلی وژن پر عورت کو محض مظلوم دکھانے کے بجائے اسے باہمت، خودمختار اور جدوجہد کرنے والی شخصیت کے طور پر پیش کیا۔

ان کہی،  ثنا مراد

1982 کے ڈرامے ان کہی میں حسینہ معین نے ثنا مراد کا ایسا کردار تخلیق کیا جو اس دور کے روایتی خواتین کرداروں سے مختلف تھا۔ شہناز شیخ کی اداکاری میں ثنا کے پاس نہ زیادہ پیسہ تھا اور نہ ہی خاص تعلیمی قابلیت، لیکن اس کے اندر اعتماد اور ہمت کی کمی نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں:’ہر قسط کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں‘، بھارتی اداکار جونی لیور کس پاکستانی ڈرامے کے مداح نکلے؟

والد کے انتقال کے بعد خاندان مالی مشکلات کا شکار ہوتا ہے تو ثنا حالات کو سنبھالنے کی ذمہ داری اپنے سر لے لیتی ہے۔ ایک موقع کے ذریعے اسے ملازمت مل جاتی ہے اور وہ دفتر کی زندگی میں قدم رکھتے ہوئے اپنے لیے جگہ بناتی ہے۔

تنہائیاں، 2 بہنوں کی جدوجہد

1985 کے ڈرامے تنہائیاں میں 2 بہنوں کی کہانی پیش کی گئی جو اپنے والدین اور گھر سے محروم ہونے کے بعد اپنی زندگی دوبارہ سنوارنے کی کوشش کرتی ہیں۔

حسینہ معین کے تحریر کردہ اور شہزاد خلیل کی ہدایت کاری میں بننے والے اس ڈرامے میں خواتین کو ملازمت کرتے اور اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے محنت کرتے دکھایا گیا۔ ڈرامے نے ان کے کام کرنے کو کسی غیر معمولی بات کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ انہیں اپنے مسائل خود حل کرتے ہوئے دکھایا۔

مات، صبر کی طاقت

2011 کے ڈرامے مات میں صبا قمر اور آمنہ شیخ نے 2 بہنوں کے کردار ادا کیے جو ایک ہی گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود زندگی کے بالکل مختلف راستے اختیار کرتی ہیں۔

صبا قمر کی ادا کردہ سمن آرام، آسائش اور سماجی حیثیت کے حصول کے لیے ایک کے بعد دوسری شادی کرتی ہے، جبکہ آمنہ شیخ کی ادا کردہ ایمن خاموشی سے مشکلات برداشت کرتے ہوئے اپنی زندگی سنوارنے کی کوشش کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سب سے زیادہ دیکھے جانے والے 10 پاکستانی ڈرامے کون سے ہیں؟

ابتدا میں ایمن کو زندگی میں ناکام اور نظرانداز کیا جانے والا کردار دکھایا جاتا ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ صورت حال بدل جاتی ہے۔ 25 سال بعد سمن تنہائی اور پچھتاوے کا شکار ہوتی ہے جبکہ ایمن اپنا گھر بسانے میں کامیاب رہتی ہے۔

در شہوار، سمجھوتے کی قیمت

2012 کے ڈرامے در شہوار میں ایک ایسی عورت کی کہانی پیش کی گئی جو شادی سے محبت اور اپنائیت کی امید رکھتی ہے، لیکن اسے شوہر کی بے اعتنائی اور ساس کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سمینہ پیرزادہ اور صنم بلوچ نے مختلف عمروں میں مرکزی کردار ادا کیا۔ کہانی اس وقت مزید گہری ہوجاتی ہے جب بیٹی شندانہ کو معلوم ہوتا ہے کہ جس شادی کو وہ مثالی سمجھتی رہی، اس کے پیچھے اس کی ماں کی کتنی مشکلات اور قربانیاں چھپی تھیں۔

ڈائجسٹ رائٹر، خواب دیکھنے والی فریدہ

2014 کے ڈرامے ڈائجسٹ رائٹر میں صبا قمر نے فریدہ کا کردار ادا کیا، جو متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی طالبہ ہے۔ گھر میں والد کی توجہ اور وسائل زیادہ تر بھائی کے لیے مختص کیے جاتے ہیں، لیکن لکھنے کا شوق فریدہ کو اپنی الگ شناخت بنانے کا موقع دیتا ہے۔

فریدہ ’رشکِ حنا‘ کے قلمی نام سے کہانیاں لکھتی ہے۔ اس کی تحریر ایک پروڈیوسر کی توجہ حاصل کرتی ہے اور اسے اپنی کہانی کو ٹیلی وژن کے لیے ڈھالنے کا موقع ملتا ہے۔

تاہم یہ کامیابی آسان نہیں ہوتی۔ اسے پیشہ ورانہ دھوکے، صنعت میں موجود مفادات اور خاندانی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈراما یہ دکھاتا ہے کہ صرف صلاحیت کافی نہیں بلکہ اپنے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے کئی مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔

اڈاری، خاموشی کے خلاف آواز

2016 کے ڈرامے اڈاری کے مرکز میں زیبو کا کردار ہے، جو کم عمری میں ایک تکلیف دہ تجربے سے گزرتی ہے۔ تاہم کہانی اسے صرف متاثرہ کردار تک محدود نہیں رکھتی بلکہ اسے آگے بڑھ کر اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتے دکھاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس کا مقابلہ کرسکتے ہیں، فیصل قریشی

زیبو کی والدہ، جو ابتدا میں اس شخص کو سمجھ نہیں پاتی جس سے اس نے شادی کی تھی، بعد میں اپنی بیٹی کے تحفظ کے لیے اہم فیصلہ کرتی ہے اور نئی زندگی شروع کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسی دوران پڑوس میں رہنے والی گلوکارہ میرا بھی زیبو کا ساتھ دیتی ہے اور اسے خاموش رہنے کے بجائے سچ بیان کرنے کی ہمت دیتی ہے۔

ڈرامے میں زیبو کا عدالت میں اپنے تجربے کے خلاف آواز اٹھانا اس کی جدوجہد کا اہم مرحلہ بنتا ہے۔ کہانی متاثرہ شخص کو صرف ترس کا مستحق بنانے کے بجائے اس کی ہمت، مزاحمت اور اپنی زندگی پر دوبارہ اختیار حاصل کرنے کی کوشش کو نمایاں کرتی ہے۔

4 دہائیوں کی ایک مشترکہ کہانی

ان 6 ڈراموں میں ایک بات مشترک نظر آتی ہے: خواتین کرداروں کو صرف مظلوم یا مکمل ہیرو کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ ان کہی کی ثنا ملازمت حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتی ہے، تنہائیاں کی بہنیں اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی ہیں، مات کی ایمن صبر کے ذریعے زندگی سنوارتی ہے، دورِ شہوار سمجھوتوں کی حقیقت سامنے لاتا ہے، ڈائجسٹ رائٹر کی فریدہ اپنے خواب کے لیے لڑتی ہے جبکہ اڈاری کی زیبو خاموشی توڑ کر اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتی ہے۔

یہ کردار پاکستانی ڈراموں میں خواتین کی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جو مشکلات کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے فیصلے بھی کرتی ہیں اور اپنی شناخت بنانے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجگور میں فتنہ الہندوستان کے اہم سرغنہ وزیر ولد جمال سمیت 5 دہشتگرد ہلاک

گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے ہاتھوں امریکی صدر ٹرمپ کو شرمندگی کا سامنا

’وہ مجھے گالیاں دیتی ہے، میں برداشت کرلیتا ہوں‘، گووندا نے اہلیہ کے الزامات پر خاموشی توڑ دی

’ایکس‘ پر کمائی کے لیے اب نیا نظام متعارف، کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہوگا؟

وزیراعظم شہباز شریف کی ملائیشین ہم منصب انور ابراہیم کی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات

ویڈیو

آزاد کشمیر میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ: پونچھ ڈویژن کے 4 حلقوں میں پولنگ جاری، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

جشن آزادی پر قومی جذبے کا منفرد اظہار، معروف ایتھلیٹ جمال سید کی ’کے ٹو‘ سے اسکردو تک دوڑ

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روز بدلنے سے غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوئی، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

سب گل سڑ چکا ہے

فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار