ایک موت، قرض اور ایک ناقابلِ شناخت لاش: کیا میر رضا علی خان کیس کی گھتیاں سلجھنے والی ہیں؟

پیر 10 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے نوجوان میر رضا علی خان کی پراسرار موت محض ایک کیس نہیں رہا، بلکہ یہ اُس پورے نظام کی کہانی بن گیا ہے جو ہر بار ایک لاش کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔ پولیس کی ناقص تفتیش اور میڈیکل لیگل آفیسر (MLO) کی سنگین غفلت نے اس معاملے کو ایسے دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں سچ اور جھوٹ کی تمیز مشکل ہو چکی ہے۔ لاش اس قدر ناقابلِ شناخت تھی کہ ورثا کو محض کپڑوں اور ناخنوں کی بنیاد پر یہ ماننا پڑا کہ یہ انہی کے بیٹے کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب چہرہ خاموش ہو جائے تو انصاف کس زبان میں بولے؟

عدالت کا سخت فیصلہ، قبر سے نکلے گا جواب

جب پولیس اور میڈیا کا رویہ سوالیہ نشان بنتا گیا تو سول سوسائٹی کے وکیل جبران ناصر اور مقتول کے والد نے خود عدالت کا دروازہ جا کھٹکھٹایا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا کہ سیکریٹری صحت نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دیں اور لاش کی قبر کشائی کر کے دوبارہ معائنہ کیا جائے۔ اب آئی جی سندھ پر عوامی اور میڈیا کا دباؤ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ تفتیش کو شفاف انجام تک پہنچانا پولیس کے لیے ایک کڑا امتحان بن گیا ہے۔

قرض، خوف اور ایک لاش جو جواب مانگ رہی ہے

میر رضا علی خان کا پوسٹ مارٹم سرے سے ہوا ہی نہیں، اور یہی خاموشی اب سب سے بڑا سوال بن چکی ہے۔ عدالتی حکم کے بعد لاش قبر سے نکالی جائے گی اور نیا میڈیکل بورڈ دوبارہ معائنہ کرے گا، شاید تب کوئی حقیقت سامنے آئے۔ مگر ایک بات طے ہے کہ یہ کیس شروع دن سے ہی بگاڑ کا شکار رہا۔

جب ایک تاجر نے اپنی موت کا ڈرامہ رچایا

کراچی کے تاجر ذیشان ناز کا نام یاد کیجیے، جن پر 50 سے 55 کروڑ روپے کا قرض چڑھ چکا تھا۔ راستہ نکالنے کے بجائے انہوں نے موت کا کھیل کھیلا۔ نارتھ کراچی کے مزدور چوک سے ایک بے قصور مزدور کو اٹھایا، زہریلی دوا دی، گلا گھونٹا اور پھر اپنے کپڑے، والٹ اور موبائل اسی لاش پر رکھ کر گاڑی کو آگ لگا دی۔ مگر گاڑی پوری طرح جل نہ سکی۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ بیوی نے لاش کو شوہر تسلیم کر لیا مگر بھائیوں نے انکار کر دیا۔ تفتیش کھلی تو معلوم ہوا کہ ملتان کا ایک غریب مزدور، قربان حسین، محض اس لیے مارا گیا کہ کسی اور کے قرض اور خوف کی قیمت چکائے۔ ذیشان ناز بیرونِ ملک فرار ہونا چاہتے تھے، مگر منصوبہ ادھورا رہ گیا اور آج وہ اپنے ساتھی سمیت جیل میں ہیں۔

اغوا کا جھوٹا ڈرامہ اور ایک گولی جو سچائی ثابت کرنے کے لیے چلائی گئی

شاہ لطیف ٹاؤن کے نوجوان اسماعیل محسود کی کہانی بھی کچھ کم دلچسپ نہیں۔ اپنے ساتھیوں عمران اور فرحان کے ساتھ مل کر اس نے اپنے ہی اغوا کا ڈرامہ رچایا اور مٹیاری چلا گیا، جہاں سے ایک ساتھی پولیس اہلکار بن کر گھر والوں کو دھمکیاں دیتا رہا، حتیٰ کہ افغانستان سے 8 لاکھ روپے تاوان کی کال بھی کروائی گئی۔ کہانی کو ’حقیقی‘ ثابت کرنے کے لیے ساتھی عمران نے اس کی ٹانگ پر گولی تک چلا دی۔ مگر جیو فینسنگ اور فارنزک تفتیش نے پردہ چاک کر دیا۔ اسماعیل مٹیاری سے پکڑا گیا جبکہ عمران تاحال فرار ہے۔

تین دن کی تبلیغی جماعت میں چھپا ایک اور جھوٹا اغوا

اسی طرز کا ایک اور واقعہ کراچی میں پیش آیا، جہاں ایک نوجوان نے پیسوں کے لیے خود کو تین دن کے لیے تبلیغی جماعت میں چھپا لیا اور وہاں سے گھر والوں کو اغوا کی جھوٹی کالیں کرواتا رہا۔ یہ منصوبہ بھی زیادہ دیر چل نہ سکا اور ملزم پکڑا گیا۔

سب کے پیچھے ایک ہی کہانی: پیسہ، خوف اور ایک جان کی قربانی

حیران کن بات یہ ہے کہ یہ تمام واقعات الگ الگ مقامات پر مگر محض ہفتہ دس دن کے وقفے میں پیش آئے، اور ان سب کی جڑ ایک ہی نکلی: مالی بحران۔ میر رضا علی کا معاملہ 8 کروڑ روپے سے جڑا بتایا جاتا ہے، ذیشان ناز 50 سے 55 کروڑ کے قرض میں دبے تھے، جبکہ شاہ لطیف کے نوجوان نے 8 لاکھ روپے کے لیے خود کو اغوا کروایا۔ مگر میر رضا کے کیس کو سب سے زیادہ نقصان ایم ایل او کی نااہلی اور غفلت نے پہنچایا، جس کی وجہ سے مناسب پوسٹ مارٹم نہ ہو سکا اور سچائی دھندلا گئی۔

’جب کیس ہائی پروفائل بنتا ہے تو مشینری جاگتی ہے‘ 

سینئر صحافی محمد فاروق سمیع کے مطابق یہ کیس پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے ماضی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ عامر لیاقت حسین اور ارمغان جیسے کیسز میں بھی یہی ہوا۔ تفتیش وقت پر نہیں ہوتی، غلطیاں چھپی رہتی ہیں، اور جب معاملہ ہائی پروفائل بن جاتا ہے تب جا کر آئی جی سندھ سے لے کر وزیرِ داخلہ تک سب متحرک ہوتے ہیں۔ مگر تب تک اتنا نقصان ہو چکا ہوتا ہے کہ عوامی اعتماد کبھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو پاتا۔

کیا شناخت کے اصول واقعی پورے کیے گئے؟

سینئر صحافی جنید شاہ کے مطابق گلستانِ جوہر سے ملنے والی لاش کی شناخت میں ڈی این اے جیسے بنیادی سائنسی طریقہ کار کو نظرانداز کیا گیا۔ لاش ملتے ہی جلد بازی میں شناخت کا اعلان کر دیا گیا، جبکہ مناسب تفتیش بعد میں شروع ہوئی، جب تک بہت کچھ ہاتھ سے نکل چکا تھا۔

خودکشی یا کچھ اور؟ اسکرین شاٹس کیا بتاتے ہیں

پولیس ذرائع کے مطابق یہ معاملہ بنیادی طور پر خودکشی کا لگتا ہے، جس کی جڑ بھی معاشی مشکلات میں پیوست ہے۔ میر رضا کے کچھ اسکرین شاٹس سامنے آئے ہیں جن میں وہ مختلف لوگوں سے مالی مدد مانگتے دکھائی دیتے ہیں۔

ناقابلِ شناخت چہرہ، مگر شناخت کیسے ہوئی؟

یہی وہ سوال ہے جو پورے کیس کا مرکز بن چکا ہے۔ فاروق سمیع بتاتے ہیں کہ لاش کا چہرہ اس قدر مسخ تھا کہ شناخت ممکن ہی نہیں تھی۔ میر رضا کے والدین نے خود بتایا کہ انہوں نے ناخنوں اور کپڑوں سے شناخت کی، حالانکہ ماضی میں ایسے کئی واقعات ریکارڈ پر ہیں جن میں محض کپڑے بدل کر پوری کہانی ہی تبدیل کر دی گئی۔

فاروق سمیع واضح کرتے ہیں کہ ان کی ہمدردیاں میر رضا کے خاندان اور سول سوسائٹی کے ساتھ ہیں، مگر رپورٹنگ کرتے وقت وہ دونوں فریقین کا موقف دیکھتے ہیں، نہ سرکاری بیان کو حرفِ آخر مانتے ہیں اور نہ متاثرہ فریق کے ہر دعوے کو بغیر جانچے قبول کرتے ہیں۔

دباؤ کے بعد پولیس کا دعویٰ: کیس ٹریس کر لیا

آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ کیس ٹریس کر لیا گیا ہے اور جلد پریس کانفرنس کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں گے، تاہم کچھ معاملات ابھی پسِ پردہ ہیں۔ دوسری جانب جبران ناصر اور میر رضا کے والد میر حسین نے جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ کی عدالت میں باقاعدہ درخواست دائر کر کے اب تک کی پولیس تفتیش پر سوال اٹھا دیے ہیں۔

سسٹم تب ہی جاگتا ہے جب کوئی سوال اٹھائے

ذرائع کے مطابق عدالت میں ایک اور درخواست بھی جلد دائر کی جائے گی جس میں پولیس رپورٹ کے مکمل تجزیے کی استدعا کی جائے گی۔ یہ پورا واقعہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ ہمارے روایتی تفتیشی نظام کی وہی پرانی تصویر بھی پیش کرتا ہے: جب تک کوئی آواز نہ اٹھائے، سسٹم خاموش رہتا ہے، اور جیسے ہی سوال اٹھتا ہے، پورا ڈھانچہ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ سندھ پولیس کی صلاحیت پر شک نہیں، اور امید ہے کہ حقائق جلد عوام کے سامنے آئیں گے، مگر یہ سب تب ممکن ہوا جب دباؤ بنایا گیا، اور یہی سوال پیچھے رہ جاتا ہے: کیا انصاف کو ہمیشہ دباؤ کا محتاج ہونا چاہیے؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp