رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز (RSF) نے 10 اگست 2026 کو جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں افغانستان میں طالبان حکومت کے پانچ سالہ دور کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ 20 سے زائد قومی ہدایات اور متعدد صوبائی احکامات کے ذریعے ملک میں صحافتی آزادی کو منظم انداز میں ختم کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق انتظامی نوعیت کی سنسرشپ سے شروع ہونے والا یہ عمل اب دھمکانے، تنقید کو خاموش کرنے، سیاسی بیانیے پر کنٹرول، خواتین کو میڈیا سے بے دخل کرنے اور آزاد صحافت کو جرم قرار دینے کے ایک مستحکم نظام میں تبدیل ہوچکا ہے۔ RSF نے افغانستان کو ’معلومات کی جیل‘ قرار دیا ہے۔
19 ستمبر 2021 کو طالبان حکومت نے صحافت سے متعلق 11 قواعد نافذ کیے، جن کے ذریعے حکام کو اس امر پر وسیع اختیار حاصل ہوگیا کہ صحافی کیا شائع کرسکتے ہیں۔ مواد، عوامی رائے، تنقید اور رپورٹنگ پر عائد پابندیوں کے نتیجے میں صحافت آزادانہ نگرانی کے بجائے طالبان کی نگرانی میں انجام پانے والی سرگرمی بن گئی۔
طالبان حکومت نے جلد ہی صحافیوں کی رپورٹنگ کے موضوعات کو کنٹرول کرنے سے آگے بڑھتے ہوئے اس امر پر بھی پابندیاں عائد کردیں کہ وہ کن افراد سے گفتگو کرسکتے ہیں۔ نومبر 2021 میں صحافیوں کو طالبان حکومت کے ناقد تجزیہ کاروں کے انٹرویوز سے روک دیا گیا، جبکہ ستمبر 2024 کی پابندیوں کے تحت براہِ راست سیاسی پروگراموں پر پابندی عائد کردی گئی، مہمانوں کو طالبان کی منظور کردہ شخصیات تک محدود کردیا گیا اور طالبان کے قوانین و پالیسیوں پر تنقید ممنوع قرار دی گئی۔
افغان میڈیا سے خواتین کو بھی منظم انداز میں باہر دھکیلا گیا۔ نومبر 2021 کی پابندیوں کے تحت خواتین ٹی وی میزبانوں کے لیے چہرہ ڈھانپنا لازمی قرار دیا گیا، جبکہ مارچ 2025 میں قندھار میں جاری کی گئی ہدایات کے ذریعے ریڈیو نشریات میں خواتین کی آوازوں پر پابندی عائد کردی گئی۔ اس طرح صنفی امتیاز خواتین صحافیوں اور میزبانوں کے خلاف براہِ راست سنسرشپ میں تبدیل ہوگیا۔
طالبان حکومت نے اطلاعات کے آزاد اور بین الاقوامی ذرائع کو بھی نشانہ بنایا۔ مارچ 2022 میں وائس آف امریکا (VOA) اور ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی (RFE/RL) کے مواد کی دوبارہ نشریات پر پابندی عائد کی گئی، جبکہ جولائی 2024 میں نافذ کیے گئے قانون کے تحت جانداروں کی تصاویر دکھانے والی نشریات پر پابندی عائد کردی گئی۔ اس پابندی پر 20 سے زائد صوبوں میں عمل درآمد کیا گیا۔ یوں اطلاعات پر کنٹرول کا دائرہ وسیع، سخت اور بتدریج زیادہ ادارہ جاتی شکل اختیار کرتا گیا۔
جولائی 2022 میں طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے یہ اعلان کہ سیاسی عہدیداروں پر تنقید اسلامی قانون کے منافی ہے، احتساب کے حوالے سے طالبان حکومت کے بنیادی رویے کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے نظام میں حکمرانوں سے سوال کرنا جائز صحافت نہیں بلکہ حکومت کے نظریے کے خلاف جرم تصور کیا جاتا ہے۔
اپریل 2024 میں طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف نے 2015 کے پریس قانون کی منسوخی کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں صحافت کے لیے پہلے سے موجود قانونی ڈھانچہ مزید کمزور ہوگیا، جبکہ آزاد میڈیا پر پابندیوں کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا رہا۔
سنسرشپ سے قانونی جبر تک
جنوری 2026 میں صورتحال نے سنسرشپ سے قانونی جبر کی جانب ایک خطرناک موڑ لیا۔ RSF کے مطابق طالبان حکومت کے نئے ضابطۂ فوجداری طریقۂ کار نے صحافیوں اور دیگر آزاد آوازوں کو سخت سزاؤں کے خطرے سے دوچار کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ضابطے کی دفعہ 23 میں امارت کی قیادت کی توہین پر 20 کوڑوں اور چھ ماہ قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، جبکہ دفعہ 19 میں طالبان کے سپریم لیڈر کی توہین پر 39 کوڑوں اور ایک سال قید کی سزا رکھی گئی ہے۔
دفعہ 24 معاشرے کو نگرانی کے ایک ذریعے میں تبدیل کرتی ہے، جس کے تحت حکومت کے مخالفین سے رابطے کی اطلاع دینا لازم قرار دیا گیا ہے۔ بغاوت، تخریب کاری اور بدعت جیسے مبہم جرائم کی دفعات طالبان ججوں کو حکومت کے بیانیے کو چیلنج کرنے والے افراد کو خوف زدہ کرنے، مقدمات قائم کرنے اور خاموش کرنے کے وسیع اختیارات فراہم کرتی ہیں۔ RSF کے مطابق نئے ضابطے میں میڈیا سے وابستہ افراد کو کوئی خصوصی تحفظ یا استثنیٰ حاصل نہیں۔
RSF کی پانچ سالہ جائزہ رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت نے جان بوجھ کر صحافت کو ایک آزاد نگران ادارے سے تبدیل کرکے اپنے کنٹرول میں موجود پروپیگنڈا مشینری بنا دیا ہے۔ تنقید پر پابندی، انٹرویو کے لیے شخصیات کے انتخاب پر کنٹرول، خواتین کو خاموش کرنا، بین الاقوامی نشریاتی اداروں کو محدود کرنا، تصاویر پر سنسرشپ اور اختلافِ رائے کو جرم قرار دینا اس امر کا ثبوت ہے کہ آزادیِ اظہار طالبان حکومت کے ’ذمہ دار طرزِ حکمرانی‘ کے دعوے سے مطابقت نہیں رکھتی۔
طالبان حکومت کی پابندیوں اور جبر کے باعث سیکڑوں افغان صحافی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ RSF کے مطابق جو حکومت صحافیوں سے خوفزدہ ہو، تنقید کو جرم قرار دے اور آزاد آوازوں کو سزا دے، وہ باخبر معاشرے کی حکمرانی نہیں کر رہی بلکہ ایک ایسی ’معلوماتی جیل‘ کو کنٹرول کر رہی ہے جہاں اطلاعات کی آزادی محدود کردی گئی ہے۔














