ممتاز اور تجربہ کار سفارتکار اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ مستقبل میں وسیع تر علاقائی اتحاد کی بنیاد بن سکتا ہے اور وقت کے ساتھ خطے کے مزید ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، وزیراعظم کا خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ معاہدہ کسی ایک ملک کے خلاف نہیں بلکہ اجتماعی سلامتی، امن اور استحکام کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کی بنیاد اس تصور پر رکھی گئی ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود سنبھالیں اور ایک دوسرے کے تحفظ میں معاون بنیں۔
اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ ابتدا میں مصر بھی اس معاملے پر ہونے والی بات چیت میں شریک تھا اس لیے ممکن ہے کہ وہ دوبارہ اس عمل کا حصہ بنے۔ ان کے مطابق قطر بھی اس اتحاد میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتا ہے جبکہ کویت بھی پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے باعث مستقبل میں اس جانب پیشرفت کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر خطے سے امریکی موجودگی بتدریج کم ہوتی ہے تو دیگر ممالک کے لیے بھی اجتماعی سلامتی کے اس نظام میں شامل ہونے کی ترغیب بڑھے گی اور ایران بھی مستقبل میں اس معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔
معاہدہ خطے میں دفاعی توازن اور استحکام کا ذریعہ
اعزاز چوہدری کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی خصوصیات اور صلاحیتیں ایک دوسرے کو مکمل کرتی ہیں۔ ترکیہ کے پاس دفاعی صنعت اور ڈرون ٹیکنالوجی کی نمایاں صلاحیت موجود ہے اور پاکستان ایک ایٹمی ملک اور تربیت یافتہ مسلح افواج رکھتا ہے جبکہ سعودی عرب کے پاس وسیع مالی وسائل موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تینوں ممالک اپنے اپنے وسائل کو یکجا کرکے ایک مضبوط دفاعی نظام تشکیل دے سکتے ہیں تاہم اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ بنانا نہیں بلکہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے میں یہ شق موجود ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر حملہ باقی ممالک کے لیے بھی حملہ تصور ہوگا۔ تاہم یہ نیٹو کے اجتماعی دفاع کی شق جیسا معاہدہ نہیں اور اس میں فوجی کارروائیوں کی تفصیلی عملی نوعیت بیان نہیں کی گئی۔
اعزاز چوہدری کے مطابق کسی ہنگامی صورتحال میں تینوں ممالک باہمی مشاورت سے یہ طے کریں گے کہ ایک دوسرے کی کس طرح مدد کی جائے۔ ان کے بقول دفاعی معاہدوں کی عملی تفصیلات عموماً خفیہ رکھی جاتی ہیں۔
ممتاز سفارتکار نے کہا کہ معاہدے کا ایک اہم پہلو اس کا دفاعی اور حفاظتی نوعیت کا ہونا ہے۔ ان کے مطابق اس کا مقصد کسی فریق کے خلاف جارحانہ اتحاد قائم کرنا نہیں بلکہ ایسا نظام تشکیل دینا ہے جس میں کسی بھی ممکنہ حملہ آور کو کارروائی سے قبل یہ سوچنا پڑے کہ اسے صرف ایک نہیں بلکہ تین ممالک کا سامنا ہوگا۔
مزید پڑھیں: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، اسحاق ڈار
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کا دفاعی تعاون خود ایک روک تھام کا ذریعہ بن سکتا ہے اور خطے میں استحکام پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
تینوں ممالک کو مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا
اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی سیکیورٹی ضروریات اور خطرات ایک جیسے نہیں ہیں۔ پاکستان کو بھارت اور افغانستان میں موجود دہشتگرد عناصر سے خطرات کا سامنا ہے، سعودی عرب کو خطے کے بعض تنازعات اور سلامتی کے خطرات درپیش ہیں جبکہ ترکیہ کو یونان، قبرص، آرمینیا اور شام سے متعلق مختلف سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔
ان کے مطابق خطرات مختلف ہونے کے باوجود تینوں ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پورے خطے میں استحکام آنے کی صورت میں انفرادی طور پر بھی ان کی سلامتی مضبوط ہوگی۔
مکہ مکرمہ میں معاہدے کی علامتی اہمیت
انہوں نے کہا کہ معاہدے کا مکہ مکرمہ میں ہونا بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اور مذہبی تعلقات انتہائی گہرے ہیں جبکہ ترکیہ کا بھی خطے کے ساتھ تاریخی تعلق رہا ہے۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کے مشکل وقت میں ساتھ کھڑے رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو وسیع تر علاقائی استحکام کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان کو سفارتی اور اقتصادی فوائد کی توقع
اعزاز چوہدری کے مطابق پاکستان کو اس تعاون کے کچھ فوائد پہلے ہی حاصل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ان کے بقول بھارت کی جانب سے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں اور پاکستان کا تاثر دہشتگردی کے بجائے امن کے ساتھ جڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے چنا ہے‘، مکہ دفاعی معاہدے پر اراکین پارلیمنٹ کا اظہار خیال
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات مزید بہتر ہونے کی توقع ہے جبکہ کراچی، بن قاسم اور گوادر کی بندرگاہوں سے متعلق ٹرانس شپمنٹ کے امکانات بھی پاکستان کے لیے اقتصادی بہتری کا باعث بن سکتے ہیں۔
خطے میں امن ہی اجتماعی سلامتی کی بنیاد ہے
اعزاز چوہدری نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان تعاون کا بنیادی تصور ’کلیکٹو سیکیورٹی‘ یعنی اجتماعی سلامتی ہے۔ ان کے مطابق اس تصور کے تحت کوئی ایک ملک اس وقت تک مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ساتھ موجود دوسرے ممالک بھی محفوظ نہ ہوں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ معاہدہ وقت کے ساتھ ایک وسیع تر علاقائی سلامتی کے ڈھانچے میں تبدیل ہو سکتا ہے جس میں خطے کے مزید ممالک امن، استحکام اور باہمی سلامتی کے مشترکہ مقصد کے تحت شامل ہوں۔












