بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے اڈیالہ جیل سے پارٹی کے سابق دیرینہ ساتھی اور بانی رکن اکبر ایس بابر کے نام اہم پیغام بھجوایا ہے، جس میں پی ٹی آئی کے ابتدائی دور کے ساتھیوں، نظریاتی کارکنوں، بانی اراکین اور ناراض رہنماؤں کو دوبارہ ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اکبر ایس بابر نے عمران خان کی جانب سے پیغام موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پیغام جیل میں موجود عمران خان کے ایک دوسرے دیرینہ دوست کے ذریعے ان تک پہنچایا گیا۔
ان کے مطابق عمران خان نے پیغام میں کہا کہ جب بھی جیل سے باہر آیا تو سب سے پہلے اکبر ایس بابر کے گھر جاؤں گا۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کی یہی روش رہی تو اس پر انتخابات سے قبل پابندی لگ سکتی ہے، اکبر ایس بابر کا انتباہ
اکبر ایس بابر کے مطابق پی ٹی آئی کے بانی اراکین نے حال ہی میں ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے، جس کے قیام کے بعد تین ابتدائی اجلاس بھی منعقد ہو چکے ہیں۔
اس پلیٹ فارم کا مقصد پی ٹی آئی کے ان تمام بانی اراکین، نظریاتی شخصیات، ناراض رہنماؤں اور کارکنوں کو دوبارہ متحد کرنا ہے جو جماعت کے ابتدائی دور میں عمران خان کے ساتھ کھڑے رہے۔
انہوں نے بتایا کہ بانی اراکین کی جانب سے آئندہ ماہ لاہور میں ایک کنونشن بھی منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں پی ٹی آئی کے بانی اراکین، نظریاتی کارکنوں اور ماضی میں پارٹی سے وابستہ رہنے والی اہم شخصیات کو مدعو کیا جائے گا۔
اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ابتدائی دور میں جو لوگ اس وقت عمران خان کے ساتھ کھڑے تھے جب اقتدار کے حصول کے امکانات انتہائی محدود دکھائی دیتے تھے، ان تمام افراد کو دوبارہ ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کے بقول ان میں وہ رہنما اور کارکن بھی شامل ہیں جو مختلف ادوار میں سیاسی یا تنظیمی اختلافات کے باعث پارٹی سے علیحدہ ہو گئے تھے۔
مزید پڑھیں:جب تک شفاف انٹرا پارٹی الیکشنز نہیں ہوتے پی ٹی آئی کے اثاثے منجمد کیے جائیں، اکبر ایس بابر
انہوں نے کہا کہ ان شخصیات کی عمران خان سے ناراضگیاں ختم ہو چکی ہیں اور اب انہیں دوبارہ متحد کرنے کی کوشش جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اختلافات ذاتی نوعیت کے نہیں بلکہ سیاسی تھے اور اب ماضی کے اختلافات کو پس پشت ڈال کر جماعت کے ابتدائی نظریاتی ساتھیوں کو یکجا کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
اکبر ایس بابر کے مطابق عمران خان چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے تمام ناراض اراکین کو منایا جائے اور انہیں دوبارہ سیاسی عمل کا حصہ بنایا جائے۔
ان کے مطابق اس سلسلے میں بعض سابق رہنماؤں اور کارکنوں سے رابطے بھی کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان رابطوں میں پی ٹی آئی کے ابتدائی دور سے وابستہ بعض نمایاں شخصیات بھی شامل ہیں، جن میں امین زکی، رانا سہیل اور فیصل پیرزادہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
رانا سہیل ماضی میں پی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر جبکہ فیصل پیرزادہ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن (آئی ایس ایف) کے صدر رہ چکے ہیں۔
اکبر ایس بابر نے مزید کہا کہ لاہور میں ہونے والا بانی اراکین اور نظریاتی کارکنوں کا کنونشن آئندہ ماہ پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل منعقد کیے جانے کی تجویز ہے۔
اس کنونشن میں جماعت کے ابتدائی ساتھیوں اور نظریاتی لوگوں کو جمع کرکے مستقبل کے سیاسی اور تنظیمی لائحہ عمل پر بھی غور کیا جائے گا۔
ان کے مطابق بانی اراکین مستقبل میں پی ٹی آئی کے اندر آزاد، شفاف اور جمہوری انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کے لیے بھی کردار ادا کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:اڈیالہ جیل پی ٹی آئی کا کیمپ آفس بنی ہوئی ہے، حکومت کو کچھ کرنا چاہیے، اکبر ایس بابر
ان انتخابات میں پارٹی کے نظریاتی کارکنوں اور بانی اراکین کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ جماعت کے اندر تنظیمی معاملات کو جمہوری انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ موجودہ کوشش کا بنیادی مقصد ماضی کے اختلافات کو ختم کرکے پی ٹی آئی کے ان تمام لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنا ہے جو جماعت کے ابتدائی نظریے اور سیاسی جدوجہد سے وابستہ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے ملنے والے پیغام کے بعد بانی اراکین کی کوششوں کو مزید تقویت ملی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید ناراض رہنماؤں اور کارکنوں سے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔













