پی ٹی آئی کی یہی روش رہی تو اس پر انتخابات سے قبل پابندی لگ سکتی ہے، اکبر ایس بابر کا انتباہ

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رہنماؤں میں شامل اکبر ایس بابر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر پارٹی نے اپنی موجودہ سیاسی حکمت عملی تبدیل نہ کی تو خدشہ ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل اس پر پابندی لگ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: نورین نیازی کے بیان پر عوام میں غم و غصہ، سیاست کی خاطر ریاست کی بے توقیری قابل قبول نہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

وی ایکسکلوزیو میں گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق مقدمات میں شواہد سامنے آ چکے ہیں اور اگر ان معاملات کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا تو پارٹی پر پابندی بھی عائد ہو سکتی ہے۔ تاہم ان کے بقول ایسی کسی بھی کارروائی کے بعد پارٹی قیادت اسے سیاسی انتقام قرار دے کر عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔

اکبر ایس بابر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے قیام کا مقصد ایک نظریاتی، جمہوری اور آئین کے مطابق چلنے والی سیاسی جماعت کی تشکیل تھا جہاں اندرونی جمہوریت کو فروغ دیا جاتا مگر آج صورتحال اس کے برعکس ہے۔

ان کے مطابق پارٹی آئین میں بانی چیئرمین کے لیے نہ کوئی آئینی کردار موجود ہے اور نہ ہی کوئی خصوصی اختیار جبکہ آئین کے تحت کوئی بھی چیئرمین دو مرتبہ سے زیادہ انتخاب نہیں لڑ سکتا، تاہم ان اصولوں پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران کرپشن کی نئی مثالیں قائم ہوئیں اور اقتدار میں آنے کے بعد ایسی قیادت سامنے آئی جس نے جماعت کے نظریے اور بنیادی اصولوں کو نقصان پہنچایا۔ ان کے بقول موجودہ قیادت پارٹی سے مخلص نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے اسے استعمال کر رہی ہے اور وقت آنے پر اسے چھوڑ کر چلی جائے گی۔

مزید پڑھیے: جب تک شفاف انٹرا پارٹی الیکشنز نہیں ہوتے پی ٹی آئی کے اثاثے منجمد کیے جائیں، اکبر ایس بابر

انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس میں انہوں نے آٹھ برس تک مسلسل قانونی جنگ لڑی، جبکہ اس دوران پی ٹی آئی نے اپنے نو وکلا تبدیل کیے۔ اس کے برعکس انہوں نے پورا مقدمہ ایک ہی وکیل اور ایک ہی آڈیٹر کے ساتھ لڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں میں پارٹی کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے، اور اگر ایسا فیصلہ کسی یورپی ملک میں آتا تو اب تک پوری پارٹی قیادت سزا یافتہ قرار دی جا چکی ہوتی۔

اکبر ایس بابر نے کہا کہ پی ٹی آئی خود اس مقدمے میں مدعی تھی جس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ سزا یافتہ شخص سیاست نہیں کر سکتا، مگر آج قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے فیصلے ایک سزا یافتہ شخص جیل سے کر رہا ہے، جو ان کے بقول ایک واضح تضاد ہے۔

مزید پڑھیں: ’یہ تو وہی جگہ ہے‘، اکبر ایس بابر 13 برس بعد پی ٹی آئی سیکریٹریٹ پہنچ گئے

انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی رہنما اقتدار سے محروم ہونے کے بعد پاکستان دشمنی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ عمران خان کی جانب سے جنرل پرویز مشرف کے ریفرنڈم کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی انہوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی۔ ان کے مطابق ماضی میں پارٹی کے اندر مشاورت اور جمہوری روایات موجود تھیں لیکن اب وہاں ایک فرد کی حکمرانی اور اندھی تقلید کا ماحول قائم ہو چکا ہے، جس کے باعث جماعت شدید بحران سے دوچار ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے آئین کا احترام کیا جائے تو سیاسی عمل کے دروازے دوبارہ کھل سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کا منصوبہ پارٹی آئین کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات کرانا ہے، جس کے بعد منتخب قیادت کا نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن میں جمع کرایا جائے گا تاکہ نئی قیادت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا جا سکے اور پارٹی کا انتخابی نشان بھی واپس حاصل کیا جا سکے۔

اکبر ایس بابر نے عمران خان کی بہنوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ مشکل حالات سے گزر رہی ہیں اور ان کے جذبات قابل فہم ہیں تاہم پارٹی یا سیاست میں ان کا کوئی آئینی کردار نہیں۔ انہوں نے مودی کے حق میں دیے گئے مبینہ بیانات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد حب الوطنی پر رکھی گئی تھی اس لیے پاکستان کے ازلی دشمن کے حق میں کسی بھی قسم کا بیان ناقابل قبول ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے سنجیدہ سیاست اور ذمہ دارانہ قانونی حکمت عملی اختیار کی ہوتی تو آج صورتحال مختلف ہو سکتی تھی تاہم موجودہ طرز عمل نے جماعت کو سیاسی اور قانونی دونوں محاذوں پر نقصان پہنچایا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار