پاکستان کے سینئر اداکار شہود علوی نے اپنے حالیہ متنازع بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور ویوز حاصل کرنے کے لیے ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر نشر کیا جا رہا ہے۔
شہود علوی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری وضاحتی بیان میں کہا کہ ان کی گفتگو کو اصل سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ اداکار کے مطابق مکمل پروگرام دیکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ ایک خاتون نے لائیو کال کے ذریعے سوال کیا تھا کہ ان کا شوہر انہیں توجہ کیوں نہیں دیتا اور ہر وقت فون میں کیوں مصروف رہتا ہے۔

ان کے بقول اس موقع پر پروگرام میں معاشرے میں عمومی طور پر مردوں کی سوچ اور رویوں پر گفتگو ہو رہی تھی جسے ان کے ذاتی خیالات یا خواتین کے بارے میں نظریات سے جوڑنا درست نہیں۔
شہود علوی نے مزید کہا کہ وہ بااختیار اور پُراعتماد خواتین کے حامی ہیں اور انہوں نے ہمیشہ اپنی اہلیہ اور بیٹیوں کے ساتھ بھی اسی سوچ کے تحت برتاؤ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپنی اہلیہ کو گھر کے ضروری امور کے حوالے سے مکمل تعاون حاصل ہے اور وہ اپنی اہلیہ کی جانب سے اپنے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا دل سے احترام کرتے ہیں۔

اداکار نے کہا کہ اس وقت سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں جو تاثر پھیلایا جا رہا ہے وہ نہ تو ان کے اصل بیان کی عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی ان کے نظریات کی۔
شہود علوی نے ویوز اور توجہ حاصل کرنے کے لیے کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کسی کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا قابلِ مذمت ہے اور ایسا کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی سے ادرک، لہسن کی بو آئے تو کون اسے دیکھے گا؟ شہود علوی کے بیان پر نئی بحث چھڑگئی
واضح رہے کہ شہود علوی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی تھی جس میں انہوں نے خواتین کی ظاہری شخصیت اور ذاتی صفائی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دفاتر میں کام کرنے والی خواتین عموماً خود کو بہتر انداز میں پیش کرتی ہیں اور پرفیوم استعمال کرتی ہیں جبکہ گھر میں زیادہ وقت گزارنے والی خواتین اس حوالے سے کم توجہ دیتی ہیں۔
انہوں نے گھریلو خواتین کے حوالے سے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گھر میں خواتین سے ادرک اور لہسن کی بو آ رہی ہوتی ہے، ان کے مطابق سوال یہ ہے کہ گھر میں رہنے والی خواتین بھی اپنی ذاتی صفائی اور ظاہری شخصیت پر اتنی ہی توجہ کیوں نہیں دیتیں۔
شہود علوی کے ان ریمارکس پر سوشل میڈیا صارفین نے تنقید کی۔ بعض صارفین نے کہا کہ گھریلو خواتین دن بھر گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہیں اور ان کی محنت کو نظر انداز کرنے کے بجائے شوہروں کو بھی گھریلو ذمہ داریوں میں حصہ لینا چاہیے۔














