بھارتی فوج کے زیرِ کنٹرول غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع ادھم پور میں بھارت نواز ملیشیا ویلج ڈیفنس گارڈ (وی ڈی جی) کے ایک مسلح رکن کی فائرنگ سے اس کا ساتھی ہلاک جبکہ ایک اور شدید زخمی ہوگیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حکام نے بتایا کہ جمعہ کو ادھم پور کے مونگری/پنچاری علاقے میں وی ڈی جی کے رکن بل دیو سنگھ کو فائرنگ کے واقعے میں ہلاک اور رومیش سنگھ کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تینوں افراد ڈمنوٹ پولیس چوکی کی جانب سفر کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج کے اہلکار ایل او سی کے قریب بارودی سرنگ کا شکار، حالت نازک
رپورٹ کے مطابق دورانِ سفر وی ڈی جی ارکان کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوگئی، جس کے بعد ایک رکن نے مبینہ طور پر اپنے ساتھیوں پر فائرنگ کردی۔ واقعے کے بعد علاقے میں تشویش پھیل گئی جبکہ حکام نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔
ویلیج ڈیفنس گارڈز کیا ہیں؟
واضح رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ویلیج ڈیفنس گارڈز یعنی گاؤں کی دفاعی گارڈز، بھارتی حکومت اور پولیس کی زیرِ نگرانی قائم کردہ ایک مسلّح شہری ملیشیا یا رضا کارانہ فورس ہے۔
اس کا بنیادی مقصد دور دراز، پہاڑی اور سرحدی علاقوں میں مقامی لوگوں کو مسلح کر کے بھارتی سیکیورٹی فورسز کا تعاون کرنا ہے۔
یہ نظام سب سے پہلے 1995ء میں (VDCs) یعنی ’ویلج ڈیفنس کمیٹیوں‘ کے نام سے ضلع ڈوڈہ اور دیگر علاقوں میں شروع کیا گیا تھا۔
ری سٹرکچرنگ مارچ 2022ء میں بھارتی وزارتِ داخلہ نے پرانے وی ڈی سی نظام کو ختم کر کے اس کا نیا ڈھانچہ تشکیل دیا اور نام بدل کر ویلیج ڈیفنس گارڈز (VDG) رکھ دیا۔
اس میں زیادہ تر مقامی دیہاتی، سابقہ فوجی اور ہندو اکثریتی علاقوں کے مقامی نوجوانوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ ہر پنچایت یا گاؤں کی سطح پر 10 سے 15 ارکان کا گروپ بنایا جاتا ہے۔پہلے انہیں پرانی Rifle .303 دی جاتی تھیں، اب جدید Self-Loading Rifles (SLR) دیے جاتے ہیں۔
یہ فورس علاقے کے ڈسٹرکٹ ایس ایس پی اور بھارتی فوج/سی آر پی ایف کے تحت کام کرتی ہے۔نئے نظام (2022) کے تحت ہر ممبر کو ماہانہ 4,000 سے 4,500 روپے وظیفہ دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
ان گارڈز کی بنیادی ذمہ داریوں میں رات اور دن کے وقت اپنے علاقوں اور مذہبی مقامات کی حفاظت کرنا، مقامی سطح پر کسی بھی غیر معمولی یا مشکوک نقل و حرکت کی اطلاع بھارتی فوج کو دینا اور سرچ آپریشنز اور محاصروں کے دوران بھارتی فوج اور پولیس کی رہنمائی کرنا شامل ہے۔
مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اکثر یہ خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں کہ اس طرح کی مسلّح شہری ملیشیا قانون سے بالاتر ہو کر کام کرتی ہے۔
ان کمیٹیوں کے ارکان پر ماضی میں اختیارات کے ناجائز استعمال، قتل، بھتہ خوری اور اپوزیشن/مقامی آبادی کو ڈرانے دھمکانے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔














