پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے پس منظر میں طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی اور ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویوز کے بعد دونوں ممالک کے مؤقف ایک بار پھر نمایاں ہوگئے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کابل کی جانب سے تعلقات میں خرابی کی ذمہ داری اسلام آباد پر ڈالنے کی کوشش اصل مسئلے، یعنی افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی، سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔
امیر خان متقی نے اپنے انٹرویو میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی بندش اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کو پاکستان کے یک طرفہ اقدامات کے طور پر پیش کیا۔ تاہم پاکستانی مؤقف کے مطابق سرحدی اور تجارتی اقدامات کسی سیاسی مقصد کے تحت نہیں بلکہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کے خلاف سلامتی کے تقاضوں کے تحت کیے گئے ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے افغانستان کے ساتھ سفارتی روابط، تجارت، علاقائی رابطوں اور انسانی بنیادوں پر تعاون کے دروازے مسلسل کھلے رکھے ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی امداد کو افغانستان پہنچانے میں سہولت فراہم کرنا بھی پاکستان کی جانب سے انسانی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا ثبوت قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی خیرسگالی کو اس کی سلامتی کے خلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں طالبان دور میں 6,929 شہری ہلاک اور زخمی، ہزاروں گرفتار ہوئے، انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ
دوسری جانب ذبیح اللہ مجاہد کے بی بی سی انٹرویو میں طالبان حکومت کے طرز حکمرانی پر بھی متعدد سوالات اٹھتے ہیں۔ مجاہد نے افغانستان میں استحکام کو بڑی حد تک نظریاتی یکسانیت اور سخت انتظامی کنٹرول سے جوڑتے ہوئے سیاسی اختلاف اور کثیرالجماعتی نظام کو سیکیورٹی کے تناظر میں پیش کیا۔ طالبان کی جانب سے افغانستان کو تمام افغان شہریوں کا ملک قرار دینے کے باوجود ناقدین اور مخالف سیاسی حلقوں کے لیے گنجائش محدود ہونے پر بھی سوالات موجود ہیں۔
افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے 5 سال بعد بھی ملک کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے کوئی واضح اور قابلِ پیمائش روڈ میپ سامنے نہیں آیا۔ عبوری نظام کے طویل عرصے تک جاری رہنے کی بات کے باوجود انتخابات، سیاسی شمولیت، نگرانی اور عوامی مینڈیٹ کے حوالے سے واضح ٹائم لائن موجود نہیں۔
خواتین اور لڑکیوں کے حقوق بھی عالمی سطح پر تشویش کا اہم موضوع ہیں۔ طالبان حکومت نے خواتین کے لیے بعض شعبوں میں کام کی اجازت دی ہے، تاہم لڑکیوں کی ثانوی تعلیم اور جامعات میں تعلیم کی مکمل بحالی کے حوالے سے اب تک کوئی واضح تاریخ نہیں دی گئی۔ طالبان حکام خواتین کے حقوق کو تحفظ، حیا اور ضرورت کے مطابق روزگار جیسے تصورات سے جوڑتے ہیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی برادری شدید تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان: بدخشان میں ایک اور اہم طالبان عہدیدار بم دھماکے میں ہلاک
میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بھی طالبان حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مجاہد نے افغانستان میں میڈیا کی صورتحال کا دفاع دیگر ممالک کے حالات سے تقابل کرتے ہوئے کیا، تاہم ناقدین کے مطابق آزاد صحافت، سنسرشپ اور صحافیوں کی گرفتاریوں سے متعلق خدشات اپنی جگہ موجود ہیں۔ طالبان کا شرعی نظام کو میڈیا سمیت ریاستی معاملات میں حتمی ضابطہ قرار دینا بھی آزادی اظہار کے دائرہ کار کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔
اسی طرح سرکاری بجٹ اور مالی معاملات میں شفافیت کے فقدان کا دفاع قومی سلامتی اور بیرونی مداخلت کے خدشات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مالی شفافیت اور عوامی احتساب کو سیکیورٹی کا مسئلہ قرار دینا حکومت کے احتساب کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
طالبان حکومت افغانستان کو ایک پرامن اور مستحکم ملک کے طور پر پیش کرتی ہے، تاہم عالمی سطح پر جاری جائزوں میں افغان سرزمین پر دہشتگرد گروہوں کی موجودگی کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی 38ویں رپورٹ میں بھی افغانستان کو دہشتگرد گروہوں کے لیے اہم مرکز قرار دیے جانے سے متعلق خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کے ساتھ پائیدار تعلقات کے لیے محض سفارتی بیانات کافی نہیں بلکہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا بنیادی شرط ہے۔ اسلام آباد کے مطابق افغانستان میں پائیدار استحکام سیاسی شمولیت، شفاف حکمرانی، بنیادی حقوق کے احترام اور دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے بغیر ممکن نہیں۔
دونوں طالبان رہنماؤں کے بیانات نے یوں نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود اختلافات کو نمایاں کیا ہے بلکہ طالبان حکومت کے سیاسی، سماجی اور انتظامی ماڈل کے مستقبل پر بھی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔













