بلوچستان میں ’رد الفتنہ 3‘ کے تحت بڑی کارروائیاں، بھارتی پروکسیز کے نیٹ ورک کو شدید دھچکا

اتوار 16 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کے ضلع خاران میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ایک کامیاب آپریشن کے دوران 7 دہشتگردوں کو ہلاک جبکہ متعدد کو زخمی کر دیا۔ آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کر کے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، گولا بارود اور گاڑیاں بھی برآمد کر لی گئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع خاران کے علاقے لاجے میں سیکیورٹی فورسز نے ’آپریشن رد الفتنہ 3‘ کے تحت انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اہم کارروائی کی۔ اس آپریشن کے دوران ‘فتنہ الخوارج’ سے تعلق رکھنے والے 7 دہشتگرد مارے گئے جبکہ کئی دیگر شدید زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے خضدار کے پہاڑی سلسلے میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 10 دہشتگرد ہلاک، متعدد زخمی

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی علاقے میں دہشتگردوں کی موجودگی کی پختہ اطلاع پر کی گئی۔ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کے قبضے سے جدید ترین اسلحہ، بھاری مقدار میں گولا بارود، عسکری سامان، دو گاڑیاں اور ایک موٹر سائیکل برآمد کی گئی، جبکہ آپریشن کے دوران ان کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ عناصر خاران اور لاجے کے علاقوں میں بھتہ خوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔

وفاقی حکومت نے گزشتہ برس بلوچستان میں متحرک تمام دہشتگرد گروہوں کو ‘فتنۃ الہندوستان’ کا نام دیتے ہوئے بھارت پر ان تنظیموں کے ذریعے پروکسی وار چلانے کا الزام عائد کیا تھا، جبکہ ‘فتنہ الخوارج’ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے ریاست کی سرکاری اصطلاح ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق انٹیلی جنس کی بنیاد پر جاری یہ تیز ترین کارروائیاں ’رد الفتنہ 3‘ مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد بھارتی پروکسیز کا مکمل خاتمہ ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقوں سرکینی اور چڈگی میں بھی ‘رد الفتنہ 3’ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم کمانڈر وزیر (ولد جمال) سمیت 5 دہشتگردوں کو ہلاک کیا تھا۔ اسی طرح 9 اگست کو بھی فورسز نے مستونگ، بولان، واشک، آواران، سبی، خضدار، ہرنائی اور نوشکی میں کارروائیاں کرتے ہوئے 15 دہشتگردوں کو ہلاک اور ان کا مواصلاتی و آپریشنل نیٹ ورک مفلوج کر دیا تھا، جبکہ 6 اگست کو واشک اور مستونگ میں ‘فتنۃالہندوستان’ کے 12 دہشتگرد مارے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:پنجگور میں فتنہ الہندوستان کے اہم سرغنہ وزیر ولد جمال سمیت 5 دہشتگرد ہلاک

عالمی مانیٹرنگ تنظیم ‘اے سی ایل ای ڈی’ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سال 2022 کے بعد سے دہشتگردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ڈیٹا کے مطابق ملک میں حملوں کی تعداد 2022 میں 658 سے بڑھ کر 2025 میں 2,425 تک پہنچ گئی، جبکہ اس عرصے کے دوران ٹی ٹی پی کے حملوں میں سات گنا سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اگرچہ خیبر پختونخوا دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا ہے، تاہم بلوچستان بھی بھارتی پروکسیز کا اہم ہدف بنا ہوا ہے، جہاں اکثر عام شہریوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سال 2025 کے آخری روز بھی گوادر اور خاران میں دہشتگردوں نے عام شہریوں پر حملہ کر کے خواتین، بچوں اور مسافروں سمیت 18 افراد کو شہید کر دیا تھا۔

رواں ماہ کے آغاز میں بھی زیارت کے علاقے کچ مانگی میں دہشتگردوں نے پولیس اہلکاروں پر  گھات لگا کر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں 27 پولیس اہلکاروں سمیت 30 افراد شہید ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے فوراً بعد پاک فوج، فرنٹیئر کور اور بلوچستان پولیس نے مشترکہ آپریشن کا آغاز کیا جو تاحال جاری ہے اور صوبے بھر میں دہشتگرد عناصر کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل سعود شکیل کا اعتماد بحال، وارم اپ میچ میں سینچری جڑ دی

آزاد کشمیر میں حکومت سازی، نواز شریف کے خواتین کی مخصوص نشستوں پر امیدواروں کے انٹرویوز

پاکستان نے ویمنز ایشیا کپ اور ایشین گیمز کے لیے اسکواڈز کا اعلان کردیا

افغانستان کے ضلع نوسے میں لڑائی پانچویں روز بھی جاری، مواصلاتی نظام مکمل بند

راولاکوٹ: کالعدم ایکشن کمیٹی کی پرتشدد کارروائیاں جاری، حملے میں ایف سی اہلکار زخمی

ویڈیو

آزاد کشمیر میں موجودہ صورتحال تشویشناک ہے، ماضی کی حکومتوں نے ذمہ داری نہیں نبھائی، نواز شریف

آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ برقرار، عوام مہنگے پیٹرول کے لیے تیار ہوجائیں، صدر ٹرمپ کا امریکیوں کو پیغام

ایٹمی پلانٹ بچانے کی انوکھی تدبیر، ہنگری کا ندی میں 2 بڑے بحری جہاز ڈبونے کا فیصلہ

کالم / تجزیہ

انکار کا اعزاز

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں