معروف بھارتی گلوکار کمار سانو نے انکشاف کیا ہے کہ بالی ووڈ میں 1990 کی دہائی کے دوران انہیں بعض مشکل پیشہ ورانہ فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ رومانوی گیتوں کے حوالے سے شہرت رکھنے والے گلوکار نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ ان کے گانوں میں فحاشی یا نامناسب مواد شامل نہ ہو، تاہم صنعت کی جانب سے شدید دباؤ کے باعث چند مواقع پر وہ اپنے اصول پر قائم نہ رہ سکے۔
یہ بھی پڑھیے گانے کے فحش الفاظ سے بے خبر تھی، فلم سازوں نے دھوکا دیا، نورا فتیحی کا انکشاف
زوم کو دیے گئے انٹرویو میں کمار سانو نے 90 کی دہائی کی موسیقی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس دور کو آج بھی اپنی یادگار دھنوں اور گیتوں کے باعث یاد کیا جاتا ہے، تاہم اس زمانے میں ایسے گانے بھی بنے جنہیں وقت گزرنے کے ساتھ مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ ان کے مطابق وہ اپنے کام کو اس نوعیت کی موسیقی سے الگ رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔
کمار سانو نے کہا، ’میرا ایک اصول تھا کہ میں اپنے گانوں میں فحاشی شامل نہیں کروں گا، لیکن ایک دو مواقع ایسے آئے جب میں اس اصول پر قائم نہ رہ سکا۔ مجھ پر اتنا دباؤ تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ اگر میں وہ گانے نہ گاؤں تو معاملات آگے نہیں بڑھیں گے۔ ‘
یہ بھی پڑھیے مجرے کے دوران اشارے پبلک ڈیمانڈ پر کرتے ہیں، تھیٹر رقاصائیں
گلوکار نے بالی ووڈ میں موجود دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے اسے ’مووی مافیا‘ سے بھی تعبیر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض گانے گانے سے انکار شاید ان کے پیشہ ورانہ کیریئر کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ہو، تاہم وہ اپنے کیے گئے زیادہ تر فیصلوں سے مطمئن ہیں۔














