ریاست کے خلاف بولنے والے دہشتگردی پر خاموش، اسما جتک کیس میں انصاف ہوگا، مینا مجید، راحیلہ حمید

اتوار 16 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کی مشیر برائے کھیل مینا مجید بلوچ اور وزیر تعلیم راحیلہ حمید نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بھارتی دہشتگردوں کی موجودگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان کے پروپیگنڈے کو آگے پھیلاتی ہے، جبکہ ہمیشہ ریاست کے خلاف بولنے والے دہشتگردی پر مکمل خاموش ہیں۔

مشیر برائے کھیل مینا مجید، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید اور ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے اسما کیس میں ایکشن لیا ہے، ملزمان کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں جہاں ضرورت پڑی فل فلیج آپریشن ہوگا، دہشتگردوں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے، میر ضیاء اللہ لانگو

مینا مجید نے کہاکہ اسما کے والد کے قتل میں ملوث ملزم کے گھر کو مسمار کیا گیا ہے، جبکہ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوچکے ہیں، اسما کو انصاف ملے گا۔

انہوں نے کہاکہ پشتون بیلٹ کا واقعہ خاندانی مسئلہ تھا، جس پر حکومتی تحقیقات کی گئیں، تاہم موجودہ واقعے میں کھلم کھلا دہشتگردی ہوئی اور مظلوم خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔

مینا مجید کا کہنا تھا کہ خواتین پر حملے دہشتگردوں کی بزدلی اور ان کا مکروہ چہرہ ظاہر کرتے ہیں، مظلوم خواتین پر حملہ کسی بہادری یا کارنامے کی علامت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھارتی دہشتگردوں کی موجودگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، پہاڑوں میں چھپے دہشتگرد آبادیوں میں گھس کر خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

مینا مجید کے مطابق خواتین پر حملوں میں ملوث عناصر کی شناخت کے لیے حکومت کے ساتھ عوام کا کردار بھی اہم ہے۔ عوام آبادیوں میں گھس کر خواتین پر حملے کرنے والوں کو مسترد کریں۔

انہوں نے کہاکہ خواتین کے قتل پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی افسوسناک ہے، انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار دہشتگردی کے واقعات پر خاموش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کی دہشتگردی اور بیرونی سرپرستی دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکی ہے، حکومت اور سیکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ہی نہیں بلکہ عام بلوچ مرد، خواتین اور بچے بھی دہشتگردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ دہشتگرد بلوچ نوجوانوں کو مایوسی اور خوف کے ماحول میں رکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بی بی حنیفہ اور حفصہ کا قتل ہر اس بلوچ خاندان پر حملہ ہے جو تعلیم اور ترقی چاہتا ہے۔ ہندوستانی عناصر بلوچ قوم کے خیرخواہ نہیں بلکہ دشمن ہیں۔

مینا مجید نے واضح کیا کہ حملے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور بلوچستان کے امن کے خلاف سازشیں کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام خواتین پارلیمنٹیرینز دہشتگردی کی مذمت کرتی ہیں، دہشتگردوں کو شکست دیں گے اور امن و ترقی کا سفر جاری رہے گا۔

انہوں نے کہاکہ کسی تنظیم یا آلہ کار کو بلوچستان کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، دہشتگردوں کا مکروہ چہرہ دنیا اور بلوچستان کے سامنے آچکا ہے۔

مینا مجید نے کہاکہ خواتین کی عزت اور بلوچ غیرت کا دعویٰ کرنے والے بے گناہ خواتین پر حملے کرتے ہیں، بلوچ گھر میں گھس کر مظلوم خواتین کو قتل کرنا کون سی بلوچیت اور غیرت ہے؟

انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے ثابت کردیا ہے کہ ان کی لڑائی غیرت اور ناموس کی نہیں، خواتین پر حملوں نے دہشتگردوں کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔

مینا مجید نے کہا کہ وہ پہلی بار اسمبلی میں آئی ہیں اور ان کا سیاست کا سفر کونسلر کی سطح سے شروع ہوا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین ارکان اسمبلی اپنی قابلیت، محنت اور پارٹی خدمات کی بنیاد پر آگے آئی ہیں، سیاسی جماعتیں خواتین کو قابلیت، تعلیم اور محنت کی بنیاد پر اسمبلیوں میں لاتی ہیں۔

گھر میں فائرنگ کرکے خواتین کو قتل کرنا افسوسناک ہے، راحیلہ حمید

اس موقع پر وزیر تعلیم بلوچستان راحیلہ حمید نے بلوچستان میں خواتین کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گھر میں خواتین کو فائرنگ کرکے قتل کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔

راحیلہ حمید نے کہاکہ ماں اور بیٹی روزگار کے لیے کام کر رہی تھیں، ان کے قتل کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ خواتین کو کام سے روکنے کے لیے قتل کرنا انتہائی تشویشناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ 21ویں صدی میں خواتین کو کام کرنے کی سزا دینا افسوسناک ہے، خواتین کے قتل سے دہشتگرد اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتے بلکہ اس طرح وہ اپنا بیانیہ بھی کمزور کر رہے ہیں۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ہر باشعور انسان خواتین کے قتل کی مذمت کرے گا۔ حکومت ہر واقعے کو قانون کے مطابق دیکھتی ہے اور ہر کیس کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔

خواتین کی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے راحیلہ حمید نے کہا کہ خواتین ارکان کا حق کوئی نہیں مارتا، پارٹی فیصلہ کرتی ہے۔ خواتین کو پارٹی خدمات، قابلیت اور سینیارٹی کی بنیاد پر آگے لایا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

انہوں نے کہا کہ خواتین کی نمائندگی کا معاملہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں بلکہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں بھی خواتین کی نمائندگی کے لیے یہی طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔

راحیلہ حمید کے مطابق پارٹی اپنی خواتین کی کارکردگی اور خدمات کو دیکھتے ہوئے انہیں ذمہ داریاں سونپتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp