مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے باوجود خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے امریکا سے جون میں طے پانے والے مفاہمتی سمجھوتے پر عمل درآمد کی شرط عائد کردی ہے، جبکہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 11 افراد کی ہلاکت کے بعد جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے اپنے طویل عرصے سے تعینات طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو خطے میں بھیج دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کا فیصلہ اس بات سے مشروط ہوگا کہ امریکا جون میں طے پانے والے مفاہمتی سمجھوتے کی پاسداری کرتا ہے یا نہیں۔
UN aid reaches Palestinian families under a week-long siege by Israeli settlers in Qusra, occupied West Bank, delivering water, food and essential supplies.
Al Jazeera’s Nour Odeh reports live. pic.twitter.com/fP5l3ot4A8
— Al Jazeera English (@AJEnglish) August 16, 2026
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت بدستور شدید متاثر ہے اور اس معاملے پر ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے پر اس کا کنٹرول برقرار رہے گا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں آبنائے پر امریکی کنٹرول کی بات بھی کی ہے۔ اس صورت حال نے عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی قیمتوں کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
ادھر جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں نے جون میں ہونے والی جنگ بندی کو ایک بار پھر شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ 15 اگست کو ہونے والے حملوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 19 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عالمی میڈیا نے اسے جون میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد لبنان میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز اسرائیلی حملہ قرار دیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حملے حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں کیے گئے، جبکہ لبنانی حکام نے شہریوں کو نشانہ بنانے اور علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالنے پر شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کو جلد امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کروں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا اعلان
دوسری جانب امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن بحرِ عرب کی جانب بڑھ رہا ہے تاکہ طویل عرصے سے خطے میں موجود یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ لے سکے۔ لنکن تقریباً 250 دن سے مسلسل سمندر میں تعینات ہے اور اس کے عملے کی ذہنی صحت، طویل تعیناتی اور زندگی کے حالات پر امریکا میں تشویش سامنے آچکی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق جارج واشنگٹن کی تعیناتی اسی سلسلے میں کی جارہی ہے۔
ادھر قطر نے ایران کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا ہے کہ اس نے مارچ میں طیارے گرائے جانے کے بعد 3 ایرانی پائلٹوں کو حراست میں لے رکھا ہے۔ قطری وزارت خارجہ نے اس دعوے کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ تلاش اور امدادی کارروائیوں کے دوران ایک پائلٹ کی باقیات ملی تھیں اور انہیں ایران کے حوالے کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم تہران کی جانب سے تاحال تعاون نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرلیا، اسے برقرار رکھیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں اسرائیلی آبادکاروں کے محاصرے میں پھنسے فلسطینی خاندانوں تک اقوام متحدہ کی جانب سے کچھ امداد پہنچائی گئی ہے۔ قُصرہ کے علاقے میں متعدد خاندان کئی روز تک گھروں میں محصور رہے اور پانی، بجلی اور بنیادی اشیائے ضروریہ تک رسائی متاثر ہوئی۔ رائٹرز اور دیگر عالمی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے بعض مقامات پر مداخلت کی، تاہم آبادکاروں کی کارروائیاں جاری رہنے کے باعث شہریوں کے تحفظ کے خدشات برقرار ہیں۔
اس تمام صورت حال کے درمیان سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، جبکہ قطر اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ الجزیرہ کے مطابق پاکستان نے بھی حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی ہیں۔














