ترکیہ کے شہر ازمیر کے مضافات میں زیتون کے درختوں سے ڈھکی پہاڑیوں کے درمیان ایک غار موجود ہے جسے مقامی لوگ نسل در نسل ’ہومر کی وادی‘ کہتے آئے ہیں۔ روایت ہے کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں قدیم یونانی شاعر ہومر نے اپنی شہرۂ آفاق رزمیہ نظم ’دی اوڈیسی‘ تخلیق کی تھی۔
غار کے بارے میں ترک محقق التان التین کہتے ہیں کہ مقامی لوگ ہمیشہ سے اسے ہومر کی وادی کے نام سے جانتے تھے اور دنیا بھر سے آنے والے سیاح اس غار کو دیکھنے پہنچتے رہے ہیں جہاں روایت کے مطابق ہومر نے اپنی نظمیں تخلیق کیں۔
تاہم تاریخ اس دعوے کی قطعی تصدیق نہیں کرتی۔ یہ معلوم نہیں کہ ہومر نے اپنی شہرۂ آفاق نظمیں کہاں تخلیق کیں اور نہ ہی ان کی زندگی کے بارے میں مکمل تاریخی معلومات دستیاب ہیں۔ ہومر کی شخصیت ہی صدیوں سے تاریخ، روایت اور اساطیر کے امتزاج کا موضوع رہی ہے۔
مزید پڑھیں:کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی
کرسٹوفر نولان کی نئی فلم ’دی اوڈیسی‘ کی عالمی مقبولیت نے ہومر اور ان کی قدیم دنیا کے بارے میں دلچسپی ایک بار پھر بڑھا دی ہے۔ اسی کے ساتھ ازمیر کے علاقے میں یہ بحث بھی دوبارہ زندہ ہوگئی ہے کہ آخر ہومر کا تعلق کہاں سے تھا۔
قدیم سمرنا اور ہومر
ازمیر کا خطہ قدیم زمانے میں ’سمرنا‘ کے نام سے معروف تھا اور ہومر کو طویل عرصے سے اسی علاقے سے منسوب کیا جاتا ہے۔
دوسری صدی عیسوی کے یونانی مؤرخ اور جغرافیہ دان پاؤسانیاس نے لکھا تھا کہ سمرنا کے باشندوں کے پاس دریائے میلیس موجود ہے اور اس کے چشموں کے قریب ایک غار ہے جہاں روایت کے مطابق ہومر نے اپنی نظمیں تخلیق کیں۔
یہی تاریخی حوالہ صدیوں سے اس بحث کو تقویت دیتا آیا ہے کہ ہومر کہاں پیدا ہوئے، کہاں رہے اور ان کی عظیم رزمیہ شاعری کی تخلیق کا اصل مقام کون سا تھا۔
یونانی جزیرے چیوس سمیت کئی مقامات ہومر کو اپنا باشندہ قرار دیتے ہیں، تاہم ازمیر کا قدیم سمرنا اور اس کے نواحی علاقے، خصوصاً موجودہ بورنووا، ہومر کے ساتھ مضبوط تاریخی اور ثقافتی نسبت رکھتے ہیں۔
ترک محقق التان التین کا اصرار ہے کہ ہومر کا تعلق بورنووا سے تھا۔ ان کے مطابق اگر اسے حتمی طور پر ثابت نہ بھی کیا جائے تو کم از کم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ہومر کا تعلق قدیم آئونیا کے اسی خطے سے تھا جس میں سمرنا اور چیوس شامل تھے۔
3 ہزار سال پرانا سراغ؟
ہومر کے تعلق سے اپنے مؤقف کی تائید میں التین تیسری صدی قبل مسیح کے ایک سنگی نقش کا حوالہ دیتے ہیں جس میں ہومر کی تعظیم اور ان کی دیومالائی حیثیت کو دکھایا گیا ہے۔
ان کے مطابق اس نقش میں بنائی گئی غار اور موجودہ ’ہومر کی غار‘ کے درمیان حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نقش میں علاقے کی جغرافیائی تفصیلات اس قدر درست دکھائی گئی ہیں کہ یہ ہومر کے ساتھ اس مقام کے قدیم تعلق کا ایک اہم اشارہ ہوسکتی ہیں۔
ماہر آثار قدیمہ مہمت عاکف اردم کے مطابق علاقے میں ہونے والی کھدائیوں سے ملنے والے آثار بھی ہومر اور قدیم سمرنا کے درمیان تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان کے بقول ہومر کی شبیہ والے سکے اس بات کا ثبوت ہیں کہ قدیم سمرنا کے باشندے شاعر کو اپنا ہیرو اور اپنے خطے کا فرد سمجھتے تھے۔
’ایلیڈ‘ اور ’اوڈیسی‘ میں استعمال ہونے والی قدیم یونانی زبان کے آئونک اور آئولک لہجوں کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے، جس کی بنیاد پر بعض ماہرین کا خیال ہے کہ سمرنا اور بورنووا ہومر کے آبائی خطوں میں شامل ہوسکتے ہیں۔
بورنووا میں ہومر آج بھی زندہ ہے
ہومر کی نسبت صرف آثار قدیمہ یا قدیم کتابوں تک محدود نہیں۔ بورنووا میں آج بھی ہومر شہر کی شناخت کا حصہ ہیں۔
ازمیر کے قدیم ترین معلوم انسانی آباد علاقوں میں شمار ہونے والے ’یشیلووا ہویوک‘ میں ہومر کا مجسمہ نصب ہے، جس کے ساتھ ایک عبارت درج ہے کہ ہومر نے اسی سرزمین پر ’ایلیڈ‘ اور ’اوڈیسی‘ تخلیق کیں اور بورنووا میں زندگی گزاری۔
شہر میں ہومر کے نام سے کتاب میلہ بھی منعقد ہوتا ہے، جبکہ ایک مقامی پارک میں ٹروجن جنگ کے ہیرو ہیکٹر کا مجسمہ بھی موجود ہے۔
اب مقامی انتظامیہ ہومر سے منسوب غار کی تزئین و آرائش کرکے اسے سیاحوں کے لیے کھولنے کا منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ قدیم شاعر سے وابستہ اس روایت کو ثقافتی سیاحت کا حصہ بنایا جاسکے۔
بورنووا کے میئر عمر ایسکی کے مطابق ہومر کا ورثہ محفوظ رکھنا پوری انسانیت کے لیے ایک ذمہ داری ہے، کیونکہ وہ عالمی ادب کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ہومر کے نام پر اختلاف
ہومر کی نسبت پر سبھی متفق نہیں۔ 2024 میں صدر رجب طیب اردوان کی جماعت اے کے پارٹی سے تعلق رکھنے والے بلدیاتی عہدیداروں نے ہومر کی وادی کا نام تبدیل کرکے اسے ایک ترک جنگی طیارے سے منسوب کرنے کی تجویز دی تھی۔ اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے بورنووا کے میئر نے کہا کہ ہومر کا نام مٹانا شہر کے ساتھ ہونے والی بدترین زیادتیوں میں سے ایک ہوگا۔
ان کا مقصد ہومر کو دنیا بھر میں بورنووا سے تعلق رکھنے والی تاریخی شخصیت کے طور پر متعارف کرانا اور شہر کو ہومر سے وابستہ ایک اہم سیاحتی مقام بنانا ہے۔
نولان کی فلم نے دلچسپی بڑھا دی
ہومر کے حوالے سے یہ قدیم بحث اب ایک نئے دور میں داخل ہوگئی ہے۔ کرسٹوفر نولان کی فلم ’دی اوڈیسی‘ نے ایک بار پھر دنیا بھر میں ہومر کے نام اور ان کی عظیم رزمیہ داستان کو موضوعِ گفتگو بنا دیا ہے۔
ازمیر کے ایک کتاب فروش مصطفیٰ کوچی ایت کے مطابق فلم کی کامیابی کے بعد ’اوڈیسی‘ کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ازمیر کے ایک استاد شفق توسون کہتے ہیں کہ انہیں معلوم تھا ہومر اسی خطے سے تعلق رکھتے تھے، تاہم یہ نہیں جانتے تھے کہ انہیں خاص طور پر ازمیر سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول ہومر کو اپنا ہم وطن سمجھنا ان کے لیے فخر اور اعزاز کی بات ہے۔
مزید پڑھیں:عراق میں کرپشن کیس: نائب وزیر تیل اور ساتھیوں سے 2 کروڑ ڈالر نقدی اور 60 کلو سونا برآمد
محقق التان التین بھی ہومر کی شاعری میں اناطولیہ کے ثقافتی اثرات دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ’ایلیڈ‘ کا مطالعہ کرنے پر ایسے واقعات، ثقافتی حوالہ جات اور روایات ملتی ہیں جو اس خطے سے ہومر کے گہرے تعلق کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
لیکن ان کے نزدیک ہومر کو ترکیہ یا یونان کی ملکیت قرار دینے کی بحث بھی بے معنی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہومر قریباً 2800 سال پرانی شخصیت ہیں جبکہ ترکیہ اور یونان کے درمیان موجودہ سرحد کو ابھی صرف ایک صدی گزری ہے۔ ہومر یونانی تھے، ہومر اناطولیائی تھے۔ ہم میں سے کوئی بھی ان سے قدیم نہیں، حتیٰ کہ ہمارے موجودہ ممالک بھی نہیں۔














