پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور مہنگائی کے خلاف چیئرنگ کراس لاہور میں جماعت اسلامی کا احتجاجی دھرنا تیسرے روز میں داخل ہو گیا ہے۔ جماعت اسلامی نے شدید موسم اور گرمی سے کارکنان کو بچانے کے لیے نئی حکمتِ عملی مرتب کرتے ہوئے پنجاب بھر سے مرحلہ وار قافلے بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ 8 روز تک دھرنا جاری رکھنے کے لیے طعام، قیام اور ادویات کے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے 8 روزہ دھرنے کی تیاریاں مکمل، پیٹرول کی قیمت کم ہونے تک واپس نہیں جائیں گے، حافظ نعیم
پارٹی ذرائع کے مطابق شدید موسم کے اثرات سے کارکنان کو محفوظ رکھنے کے لیے عوام کو منظم رکھنے کی نئی حکمتِ عملی بنائی گئی ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت دن کے وقت دھرنے کے پنڈال میں کارکنان کی تعداد کم رکھی جائے گی، جبکہ صوبے کے مختلف اضلاع سے مرحلہ وار قافلے شام کے وقت پنڈال پہنچیں گے۔
آج شام وسطی اور شرقی پنجاب کے اضلاع سے قافلے دھرنے میں شمولیت اختیار کریں گے۔ رات کے آخری پہر آئے ہوئے شرکاء واپس روانہ ہوں گے اور اگلے دن دیگر اضلاع کے کارکنان ان کی جگہ سنبھالیں گے۔ اس مقصد کے لیے صوبہ پنجاب کے تمام عہدیداران کو دن کے حساب سے ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔
جماعت اسلامی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ فی الوقت 8 روز تک دھرنا مسلسل جاری رکھنے کے لیے شرکاء کے کھانے پینے اور ادویات کا مکمل انتظام کر لیا گیا ہے۔ دھرنے سے آج جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان شرکاء سے خطاب کے ساتھ ساتھ ایک اہم پریس کانفرنس بھی کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے کراچی، لاہور اور پشاور میں دھرنے
اس موقع پر امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا فوری خاتمہ اور پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کرنا ہے۔ گزشتہ روز امیرِ جماعت حافظ نعیم الرحمان نے بھی یہ واضح کیا ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے ناجائز معاہدوں کو فوری ختم کیا جائے۔
ضیاء الدین انصاری نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ہمارے تمام مطالبات منظور نہیں ہوتے یا امیرِ جماعت حافظ نعیم الرحمان کی طرف سے اگلی کال نہیں آتی، ہم چیئرنگ کراس پر ہی ڈٹے رہیں گے۔














