آسٹریلیا کے سابق نامور اوپننگ بلے باز ڈیوڈ وارنر کو پولیس کی ناکہ بندی دیکھ کر گاڑی میں خاتون سے سیٹ تبدیل کرنے کی ناکام کوشش اور شراب کے نشے میں ڈرائیونگ کرنے کے جرم میں سڈنی کی مقامی عدالت کی جانب سے مجرم قرار دیتے ہوئے 1,500 آسٹریلین ڈالر (تقریباً 1,810 نیوزی لینڈ ڈالر) کا جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔
آسٹریلیا کے 39 سالہ سٹار کرکٹر ڈیوڈ وارنر کے خلاف ایسٹر کی چھٹیوں کے دوران سڈنی کے مشرقی علاقے میں الکحل پی کر گاڑی چلانے اور ناکہ بندی دیکھ کر گاڑی میں موجود خاتون سے سیٹ بدلنے کی کوشش کے کیس کا فیصلہ آ گیا ہے۔ ویورلی لوکل کورٹ کی جج کلیئر فارنن نے کیس کی سماعت کے بعد ڈیوڈ وارنر کو ڈرنک ڈرائیونگ کا مجرم قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے ڈیوڈ وارنر پر آسٹریلیا میں مقدمہ، کرکٹ نیو ساؤتھ ویلز کا ردعمل سامنے آگیا
عدالتی حقائق کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈیوڈ وارنر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں کراچی کنگز کی کپتانی کے بعد چھٹیاں گزارنے آسٹریلیا واپس آئے ہوئے تھے۔ شاہراہ پر پولیس کی جانب سے الکحل کی جانچ کے لیے لگائے گئے ہنگامی ناکے کو دیکھ کر ڈیوڈ وارنر نے گاڑی تھوڑی دور ہی روک لی اور اندر موجود خاتون مسافر سے سیٹیں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، وہ پولیس اہلکاروں کی کڑی نظر سے نہ بچ سکے، جس کے بعد وارنر کو حراست میں لے لیا گیا جہاں الکحل کا معائنہ کرنے پر ان کے خون میں الکحل کی مقدار قانونی حد سے دو گنا سے بھی زیادہ (0.104) پائی گئی۔
سماعت کے دوران ڈیوڈ وارنر کے وکیل اویس احمد نے موقف اپنایا کہ عالمی میڈیا (بشمول ای ایس پی این، الجزیرہ اور انڈین ایکسپریس) میں اس واقعے کی شدید کوریج کی وجہ سے ان کے موکل کی عالمی اور خصوصاً ایشیائی لیگز میں تجارتی اور اسپانسرشپ کے مواقع شدید متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے استدعا کی کہ میڈیا کوریج اور سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے باعث وارنر پہلے ہی کافی سزا بھگت چکے ہیں، اس لیے انہیں باقاعدہ مجرم قرار دینے کے بجائے رعایت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیے کراچی کنگز کے کپتان ڈیوڈ وارنر مشکل میں، آسٹریلوی عدالت نے طلب کرلیا
تاہم، جج کلیئر فارنن نے یہ استدعا رد کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کی حفاظت اور عوام کو ڈرنک ڈرائیونگ سے باز رکھنے کے لیے قانون کی بالادستی ضروری ہے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ واقعہ کے وقت گاڑی میں بچے بھی سوار تھے جس سے معاملے کی نوعیت مزید سنگین ہو جاتی ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد ڈیوڈ وارنر کی گاڑی میں خصوصی ‘انٹرلاک ڈیوائس’ نصب کی جائے گی اور وہ اس آلے کی منظوری کے بعد ہی دوبارہ گاڑی ڈرائیو کرنے کے اہل ہوں گے۔ اس واقعے کے بعد بگ بیش لیگ (BBL) میں سڈنی تھنڈر کی کپتانی اور ان کے دیگر معاہدوں پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔














