برطانیہ میں جی سی ایس ای کے نتائج کے بعد بہت سے طلبہ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ انہیں اپنی اگلی تعلیمی منزل کے طور پر اے لیولز، اپرنٹس شپ یا کسی پیشہ ورانہ تعلیمی پروگرام کا انتخاب کرنا چاہیے۔ ایسے طلبہ کے لیے ٹی لیولز ایک اہم آپشن ہیں جو روایتی تعلیمی تعلیم کے بجائے عملی اور پیشہ ورانہ مہارتوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیمبرج جون 2026 امتحانی سیشن کے او لیول اور آئی جی سی ایس ای کے نتائج جاری
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹی لیولز انگلینڈ میں 16 سے 19 سال کے طلبہ کے لیے تیار کی گئی پیشہ ورانہ تعلیمی اسناد ہیں۔ ان کا آغاز سنہ 2020 میں ہوا تھا اور ان میں کلاس روم میں تعلیم کے ساتھ عملی تربیت بھی شامل ہوتی ہے۔
ٹی لیولز میں کیا پڑھایا جاتا ہے؟
ٹی لیول کورس میں طلبہ کو متعلقہ شعبے کی نظریاتی تعلیم کے ساتھ کام کی عملی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ کورس کا تقریباً 20 فیصد حصہ صنعتی ادارے میں عملی تربیت پر مشتمل ہوتا ہے جس کے لیے کم از کم 315 گھنٹے یا تقریباً نو ہفتے مقرر ہیں۔
یہ نظام ان طلبہ کے لیے متعارف کرایا گیا جو اے لیولز کے بجائے زیادہ عملی نوعیت کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن مکمل اپرنٹس شپ اختیار نہیں کرنا چاہتے۔
اپرنٹس شپ میں طالب علم کا وقت عام طور پر کسی ادارے یا آجر کے ساتھ زیادہ گزرتا ہے اور بعض پروگراموں میں یہ تناسب تقریباً 80 فیصد تک ہوسکتا ہے۔
ٹی لیولز میں گریڈ کیسے دیا جاتا ہے؟
ٹی لیول کی حتمی کارکردگی کا تعین امتحانات، کورس ورک اور صنعتی ادارے میں عملی تربیت مکمل کرنے سمیت مختلف اجزا کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
طلبہ کو مجموعی طور پر 4 میں سے ایک گریڈ دیا جاتا ہے جو پاس سے لے کر ڈسٹنکشن اسٹار تک ہوتا ہے۔ سرٹیفکیٹ پر مجموعی گریڈ کے ساتھ طالب علم کی کورس کے دوران حاصل کی گئی عملی تربیت اور تجربے کی تفصیلات بھی درج ہوتی ہیں۔
اعلیٰ گریڈ حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے ٹی لیولز اعلیٰ تعلیم میں داخلے کا راستہ بھی کھول سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: علمی سرقہ اسکینڈل میں’گرفتار‘ کیمبرج کے سابق پروفیسر کی پُراسرار موت
ڈسٹنکشن اسٹار کے 168 یوکاس پوائنٹس ہیں جو اے لیول میں تین اے اسٹار گریڈز کے برابر ہیں جبکہ میرٹ کو 3 بی گریڈز کے مساوی قرار دیا جاتا ہے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق برطانیہ کی 150 سے زیادہ جامعات اور کالجز ٹی لیولز کو اعلیٰ تعلیم میں داخلے کے لیے قابل قبول تعلیمی قابلیت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔
ٹی لیولز میں کون سے مضامین شامل ہیں؟
اس وقت طلبہ کے لیے 20 سے زیادہ ٹی لیول مضامین دستیاب ہیں۔ ان میں اکاؤنٹنگ، کرافٹ اینڈ ڈیزائن، انجینیئرنگ اور میڈیا پروڈکشن سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔
تاہم تمام مجوزہ کورسز مستقل طور پر جاری نہیں رہ سکے۔ مثال کے طور پر سائٹ پر تعمیرات سے متعلق ٹی لیول میں نئے طلبہ اب داخلہ نہیں لے سکیں گے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق اس پروگرام میں طلبہ کی تعداد کم تھی اور اس شعبے کی ضروریات اپرنٹس شپ اور دیگر کلاس روم پروگرامز کے ذریعے بہتر طور پر پوری کی جاسکتی ہیں۔
کچھ دیگر ٹی لیول پروگرامز کے آغاز میں بھی تاخیر ہوئی ہے جن میں کیٹرنگ کا شعبہ شامل ہے جبکہ بالوں کی آرائش سے متعلق بعض مجوزہ کورسز کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا۔
ٹی لیولز کتنے کامیاب رہے؟
ٹی لیولز شروع ہونے کے بعد ہر سال ان میں داخلہ لینے والے طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تاہم کورس مکمل کرنے والے طلبہ کی شرح اب بھی ایک اہم چیلنج ہے۔
سنہ 2024 میں ٹی لیول شروع کرنے والے طلبہ میں سے 77 فیصد نے 2026 میں اپنا 2 سالہ پروگرام مکمل کیا۔ یہ شرح 2025 میں 73 فیصد تھی۔
اس کے مقابلے میں بیشتر اے لیولز اور دیگر مساوی تعلیمی پروگرامز میں طلبہ کو برقرار رکھنے کی شرح مسلسل 90 فیصد سے زیادہ رہی ہے۔
ٹی لیولز کے معیار تدریس اور امتحانات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ جولائی 2024 میں برطانیہ کے امتحانات کے نگران ادارے آفکال نے این سی ایف ای امتحانی بورڈ پر 3 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا تھا۔ یہ کارروائی سنہ 2022 میں صحت اور سائنس کے ٹی لیول کے امتحانات دینے والے تقریباً 1200 طلبہ کے امتحانی پرچوں میں ’سنگین خامیوں‘ کے باعث کی گئی تھی۔
ٹی لیولز اور دیگر پیشہ ورانہ اسناد میں کیا فرق ہے؟
سنہ 2020 میں ٹی لیولز متعارف کرائے جانے کے وقت برطانیہ میں 12 ہزار سے زیادہ پیشہ ورانہ تعلیمی اسناد موجود تھیں جنہیں 150 سے زیادہ امتحانی و تعلیمی ادارے پیش کررہے تھے۔
ٹی لیولز کا ایک مقصد اس پیچیدہ نظام کو آسان بنانا اور طلبہ و آجروں کے لیے 16 سال کے بعد دستیاب تعلیمی و پیشہ ورانہ راستوں کو زیادہ واضح کرنا تھا۔
ٹی لیولز متعارف کراتے وقت بعض دیگر پیشہ ورانہ اسناد، خصوصاً ایسے بی ٹی ای سی پروگرامز جنہیں ٹی لیولز سے مماثل سمجھا گیا، کی سرکاری فنڈنگ ختم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
حکومتی جائزے کے بعد بعض پروگراموں کی فنڈنگ ختم کردی گئی جبکہ کچھ دیگر کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ مختلف پیشہ ورانہ اسناد عبوری طور پر ٹی لیولز کے ساتھ جاری رہ سکتی ہیں تاہم طویل مدت میں ٹی لیولز کو بڑی تکنیکی تعلیمی قابلیت کے طور پر ترجیحی انتخاب بنانے کا منصوبہ ہے۔
برطانیہ میں ٹی لیولز کے علاوہ دیگر پیشہ ورانہ تعلیمی راستوں میں بی ٹی ای سی، این وی کیوز اور اسکاٹش ووکیشنل کوالیفکیشنز شامل ہیں۔
یوں ٹی لیولز ان طلبہ کے لیے ایک نسبتاً نیا راستہ ہیں جو 16 سال کی عمر کے بعد صرف روایتی تعلیمی مضامین تک محدود رہنے کے بجائے کسی مخصوص شعبے میں نظریاتی علم کے ساتھ عملی تجربہ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
پاکستان میں ٹی لیولز کا کیا مستقبل ہے؟
واضح رہے کہ برطانیہ کے ٹی لیولز فی الحال پاکستان کے تعلیمی نظام کا حصہ نہیں ہیں اور پاکستان میں انہیں اسی شکل میں متعارف کرانے کا کوئی باقاعدہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
تاہم پاکستان میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کا اپنا نظام موجود ہے جس کے تحت نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں عملی اور فنی مہارتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ پاکستان میں ٹی وی ای ٹی نظام کو روزگار کی مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے اور نوجوانوں کو عملی مہارتیں دینے کے لیے اصلاحات بھی جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستانی طلبہ کو پہلی بار کیمبرج کے امتحانی پرچوں کے اسکرپٹس دیکھنے کی اجازت
اگر مستقبل میں پاکستان بھی ٹی لیولز جیسے کسی نظام کو اپناتا ہے تو اس کے ذریعے انٹرمیڈیٹ کی سطح کے طلبہ کو روایتی تعلیمی تعلیم کے ساتھ صنعتوں اور کاروباری اداروں میں عملی تجربہ فراہم کیا جاسکتا ہے جس سے تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود خلا کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے پاکستان کے موجودہ تعلیمی اور فنی تربیتی نظام کے ساتھ مطابقت، صنعتوں کی شمولیت اور معیاری عملی تربیت کا مؤثر انتظام ضروری ہوگا۔














