طالبان کے خلاف دنیا کے 28 شہروں میں مظاہرے، حکومت تسلیم نہ کرنے کا مطالبہ

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

طالبان کے افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر دنیا کے 28 شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور آگاہی پروگرام منعقد کیے گئے، جن میں مظاہرین نے عالمی برادری سے طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر نہ لانے، افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ اور افغانستان میں مبینہ ’صنفی امتیاز‘ کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔

افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق 15 اگست کے حوالے سے ہونے والی احتجاجی سرگرمیاں جرمنی، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈز، آسٹریا، ناروے، سویڈن، اسپین، کینیڈا، امریکا، پاکستان، ایران، فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک کے شہروں میں ہوئیں۔ بون، جنیوا، برلن، میونخ، ہیمبرگ، اسلام آباد، ایمسٹرڈیم، میڈرڈ، بارسلونا، ٹورنٹو، لندن اور واشنگٹن سمیت 28 شہروں میں افغان شہریوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے مختلف انداز میں احتجاج کیا۔

جرمنی کے شہر بون میں مظاہرین نے اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر ریلی نکالی اور عالمی ادارے سے افغانستان میں صنفی امتیاز کو تسلیم کرنے اور طالبان کو قانونی حیثیت دینے کی کوششیں روکنے کا مطالبہ کیا۔ جنیوا میں افغان خواتین اور لڑکیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرہ کیا گیا، جبکہ برلن میں احتجاجی خیمہ لگانے کے ساتھ رضاکارانہ بھوک ہڑتال بھی کی گئی۔

میونخ میں افغان کارکنوں، ماہرین تعلیم، انسانی حقوق کے نمائندوں اور شہریوں نے افغانستان میں خواتین کی تعلیم، روزگار، آزادی، انسانی حقوق، معیشت اور مہاجرت کی صورتحال پر گفتگو کی۔ شرکا نے کہا کہ طالبان سے کسی بھی سیاسی رابطے میں انسانی حقوق کی صورتحال کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:کابل اسکول دھماکا: داعش کے ملوث ہونے کا شبہ ہے، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد

کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں مظاہرین نے افغان خواتین کے تعلیم اور روزگار کے حق پر زور دیتے ہوئے حکومت سے طالبان کو تسلیم نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسلام آباد میں افغان خواتین کی مختلف تحریکوں، تنظیموں اور انسانی حقوق گروپوں نے مشترکہ احتجاج کیا اور خواتین کے تعلیم، روزگار اور آزادی کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

15 اگست 2021 کو امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے دوران طالبان کابل میں داخل ہوئے اور سابق حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ طالبان اس دن کو ’یوم فتح‘ قرار دیتے ہیں، جبکہ ان کے مخالفین اور انسانی حقوق کے کارکن اسے افغانستان کی تاریخ کا ’یوم سیاہ‘ قرار دیتے ہیں۔

طالبان کی حکومت کو روس کے سوا کسی ملک نے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ اقتدار میں واپسی کے بعد طالبان نے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مہک پنڈی والی کی دھواں دھار بیٹنگ نے سب کو حیران کردیا، پاکستان ویمنز ٹیم میں شامل کرنے کا مطالبہ

غزہ پر جارحیت، حماس کا نیتن یاہو پر جنگ بندی مذاکرات سبوتاژ کرنے کا الزام

راولپنڈی، اسلام آباد میں موسلادھار بارش نے تباہی مچا دی، سڑکیں تالاب بن گئیں، گاڑیاں ڈوب گئیں، میٹرو کی چھتیں ٹپکنے لگیں

چھوٹے دکانداروں کے لیے ٹیکس اسکیم آسان اور اختیاری ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

ٹرمپ نے سیول کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کی مدت میں کمی کیوں کی؟ جنوبی کوریائی وزیر خارجہ کا انکشاف

ویڈیو

پاکستان میں کون سے نئے صوبے بننے چاہئیں؟ اراکین پارلیمنٹ کی رائے

وی ایکسکلوسیو: عمران خان بیمار ہیں تو انہیں طبی سہولیات ملنی چاہییں، رانا احسان افضل

پاکستان میں خواتین معذوری کے ساتھ کن مسائل کا سامنا کرتی ہیں؟

کالم / تجزیہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟

انتقال کے 29 برس بعد