طالبان کے افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر دنیا کے 28 شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور آگاہی پروگرام منعقد کیے گئے، جن میں مظاہرین نے عالمی برادری سے طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر نہ لانے، افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ اور افغانستان میں مبینہ ’صنفی امتیاز‘ کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق 15 اگست کے حوالے سے ہونے والی احتجاجی سرگرمیاں جرمنی، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈز، آسٹریا، ناروے، سویڈن، اسپین، کینیڈا، امریکا، پاکستان، ایران، فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک کے شہروں میں ہوئیں۔ بون، جنیوا، برلن، میونخ، ہیمبرگ، اسلام آباد، ایمسٹرڈیم، میڈرڈ، بارسلونا، ٹورنٹو، لندن اور واشنگٹن سمیت 28 شہروں میں افغان شہریوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے مختلف انداز میں احتجاج کیا۔
Protests have been held in 24 cities across several countries against Afghan Taliban regime’s five-year rule#Afghanistan #News #RadioPakistan https://t.co/LNhSU8EH8G
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 18, 2026
جرمنی کے شہر بون میں مظاہرین نے اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر ریلی نکالی اور عالمی ادارے سے افغانستان میں صنفی امتیاز کو تسلیم کرنے اور طالبان کو قانونی حیثیت دینے کی کوششیں روکنے کا مطالبہ کیا۔ جنیوا میں افغان خواتین اور لڑکیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرہ کیا گیا، جبکہ برلن میں احتجاجی خیمہ لگانے کے ساتھ رضاکارانہ بھوک ہڑتال بھی کی گئی۔
میونخ میں افغان کارکنوں، ماہرین تعلیم، انسانی حقوق کے نمائندوں اور شہریوں نے افغانستان میں خواتین کی تعلیم، روزگار، آزادی، انسانی حقوق، معیشت اور مہاجرت کی صورتحال پر گفتگو کی۔ شرکا نے کہا کہ طالبان سے کسی بھی سیاسی رابطے میں انسانی حقوق کی صورتحال کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:کابل اسکول دھماکا: داعش کے ملوث ہونے کا شبہ ہے، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد
کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں مظاہرین نے افغان خواتین کے تعلیم اور روزگار کے حق پر زور دیتے ہوئے حکومت سے طالبان کو تسلیم نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسلام آباد میں افغان خواتین کی مختلف تحریکوں، تنظیموں اور انسانی حقوق گروپوں نے مشترکہ احتجاج کیا اور خواتین کے تعلیم، روزگار اور آزادی کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
On the fifth anniversary of the Taliban's return to power, Afghans took to the streets in 28 cities worldwide, including London, Washington, Paris, Berlin, and Toronto.
Protesters called on the international community not to normalize relations with the Taliban and to formally… pic.twitter.com/E18oC3CPfZ— Zarin TV (@ZarinTVNetwork) August 17, 2026
15 اگست 2021 کو امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے دوران طالبان کابل میں داخل ہوئے اور سابق حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ طالبان اس دن کو ’یوم فتح‘ قرار دیتے ہیں، جبکہ ان کے مخالفین اور انسانی حقوق کے کارکن اسے افغانستان کی تاریخ کا ’یوم سیاہ‘ قرار دیتے ہیں۔
طالبان کی حکومت کو روس کے سوا کسی ملک نے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ اقتدار میں واپسی کے بعد طالبان نے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔













