جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی وبا سنگین صورت اختیار کرگئی، جہاں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 5 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ وبا پر قابو پانے کی کوششیں مطلوبہ نتائج نہیں دے رہیں۔
کانگو میں ایبولا کی یہ 17ویں وبا ہے جو جولائی کے اواخر میں ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی وبا بن گئی۔ سرکاری ادارے کے مطابق وبا سے ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 2 ہزار 378 ہوگئی ہے، جو 2018 سے 2020 کے دوران سامنے آنے والی سابقہ بدترین وبا میں ہونے والی ہلاکتوں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں:کانگو میں ایبولا بے قابو، ہلاکتیں 1,300 سے تجاوز، وائرس جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے لگا
تازہ صورتحال رپورٹ کے مطابق کانگو کے پبلک ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ نے اب تک 5 ہزار 21 کیسز ریکارڈ کیے ہیں، جس کے بعد یہ دنیا میں کیسز اور ہلاکتوں کے اعتبار سے دوسری بدترین ایبولا وبا بن گئی ہے۔ اس سے قبل 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقہ میں پھیلنے والی ایبولا وبا کو دنیا کی بدترین وبا قرار دیا جاتا ہے۔
#BREAKING
🚨The #Ebola outbreak in the Democratic Republic of the Congo has killed 2,325 people, according to government data released, surpassing the death toll of 2,299 from the 2018-2020 outbreak. #DRCongo
🔴 More on https://t.co/nyjAZvZznIpic.twitter.com/qprWgWEaUW pic.twitter.com/EtYZtjUJXT— ⚡️🌎 World News 🌐⚡️ (@ferozwala) August 16, 2026
حکام کے مطابق موجودہ وبا بنڈی بگيو نسل کے ایبولا وائرس کے باعث پھیلی ہے، جس کے خلاف فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج دستیاب نہیں۔
کانگو میں موجودہ وبا کا باضابطہ اعلان 15 مئی کو کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد سے وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آئی ہے۔ کمزور طبی و صحت کا بنیادی ڈھانچہ، مقامی آبادی کی جانب سے مزاحمت، سیاسی و سماجی عدم استحکام اور وبا کے خلاف کام کرنے والے کارکنوں کے احتجاج نے متاثرہ افراد کی بروقت نشاندہی اور علاج و روک تھام کی کوششوں کو متاثر کیا ہے۔
مزید پڑھیں:ایبولا کے خلاف امید کی نئی کرن، 50 رضاکاروں پر ویکسین کے ٹرائل کا آغاز
صحت کے حکام کے مطابق وبا پر قابو پانے کے لیے متاثرہ علاقوں میں نگرانی، مریضوں کی شناخت اور رابطوں کا سراغ لگانے کے اقدامات جاری ہیں، تاہم موجودہ حالات میں بیماری کے پھیلاؤ کو روکنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔














