آپ نے یہ گھسا پٹا جملہ تو بہت سنا ہو گا کہ ‘ہم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے’ ۔ مگر شاید یہ نہیں جانتے کہ یہ جملہ اتنا استعمال ہوچکا ہے کہ اب خود تاریخ بھی اسے سن کر جمائیاں لینے لگتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تاریخ تو پڑھتے ہیں مگر اس کے کرداروں یعنی فیصلہ ساز انسانوں کو نہیں پڑھتے کیونکہ ہم تاریخ کی واقعاتی داستانوں میں ہی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہماری دلچسپی کا محور بس یہ رہتا ہے کہ فلاں جنگ ہوئی، فلاں معاہدہ ہوا، فلاں بادشاہ آیا اور فلاں سلطنت الٹ دی گئی۔ حالانکہ تاریخ کا اہم ترین سوال یہ ہے کہ ایک غیر معمولی صورتحال کامنا کرنے والا فیصلہ ساز شخص درپیش صورتحال سے متعلق کیا جانتا تھا ؟
یہ سوال اس لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ آج کی تاریخ میں ہم بہت آرام سے کہہ دیتے ہیں، نپولین روس پر حملہ کرکے تباہ ہوگیا، ہٹلر نے سوویت یونین پر حملہ کرکے تاریخی غلطی کی، سوویت یونین افغانستان میں پھنس گیا، امریکا ویتنام میں اپنی طاقت کے باوجود کامیاب نہ ہوسکا وغیرہ، وغیر۔ لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ فیصلہ ساز کو یہ مستقبل معلوم نہ تھا۔ وہ جس لمحے میں کھڑا تھا وہ شکست کیا حملے سے بھی قبل کی گھڑی تھی۔ لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس گھڑی میں ایسا کیا جانتا تھا جس کے نتیجے میں اسے اپنی کامیابی کے امکانات روشن نظر آرہے تھے ؟
یہ بھی پڑھیں: انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی
وہ تو اپنے وقت کی معلومات، تعصبات، خوف، مفادات اور اپنے مخالف کے بارے میں اپنے اندازوں کی بنیاد پر فیصلہ کر رہا تھا۔ چنانچہ اس سطح پر آجاتا ہے ایک اور اہم ترین سوال۔ وہ یہ کہ تاریخ میں بڑی غلطیاں عموما کم عقل لوگوں نے کیں یا اپنے زمانے کے انتہائی ذہین لوگوں نے؟ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ بہت سے تاریخی لحاظ سے تباہ کن فیصلے ایسے لوگوں نے کیے جو احمق نہیں تھے۔ ہٹلر کو سوویت یونین کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد محض پاگل کہہ دینا آسان ہے، لیکن اگر وہ صرف پاگل تھا تو اتنی تیزی سے یورپ کا بڑا حصہ اس کے سامنے کیوں جھک گیا؟ کئی ممالک محض ایک سے ڈیڑھ ہفتے میں ہی اس کے ٹینکوں کے آگے کیسے ڈھیر ہوگئے ؟ جس فرانس نے کبھی کلونیل پاور کی حیثیت سے جغرافیے کے ایک بڑے حصے کے طول عرض میں پھیلاؤ اختیار کیا تھا وہ صرف ایک ڈیڑھ ماہ میں ہٹلر کے قبضے میں کیسے چلا گیا؟ ذرا ایک لمحے کو اس لمحے میں کھڑے ہوں جب ہٹلر نے ابھی سوویت یونین پر حملہ نہیں کیا تھا۔ لیکن مغربی و مشرقی یورپ کو الٹ چکا تھا۔ اور تب بتائیے کہ ہٹلر پاگل دکھتا ہے یا ایک ایسا غیر معمولی فاتح جس کی برق رفتار پیش قدمی نے یورپ کو سنبھلنے کا بھی موقع نہ دیا ؟۔
نپولین کوئی معمولی شخص نہ تھا۔ اسے جنگی نابغے کی حیثیت حاصل ہے۔ ملٹری مورخین اسے انسانی تاریخ کے 5عظیم کمانڈروں میں گنتے ہیں۔ اس کا ذکر ہر بڑا ملٹری مؤرخ ہی نہیں بلکہ آج کی دنیا کے جدید ترین ملٹری دماغ بھی حضرت خالد بن ولید، سکندر اعظم، ہنی بل اور چنگیز خان کے ساتھ کرتے ہیں۔ سو محض یہ کہنے سے بات نہیں بنتی کہ روس پر اس کا حملہ اس کی مہلک ترین غلطی ثابت ہوا۔ یہ بھی بتانا ہوگا کہ اتنا بڑا عسکری نابغہ جب یہ فیصلہ کر رہا تھا تو وہ ایسا کیا جانتا تھا جس کے تحت اسے حملے کا فیصلہ ٹھیک لگا ؟ کیا ملٹری کمانڈر شکست کھانے کے لیے میدان جنگ میں اترتے ہیں؟ ہر فیصلہ ساز دستیاب معلومات کی بنیاد پر کیلکولیشن کرتا ہے۔ چنانچہ شکست کی وجوہات میں بھی یہی چیز کلیدی کردار ادا کرتی ہے کہ یا تو معلومات ناقص ہوتی ہیں یا کیلکولیشن میں گڑبڑ ہوجاتی ہے۔ سو نپولین نے خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ رشین ماسکو شہر ہی نذر آتش کر ڈالیں گے، اور شدید ترین سردی میں اس کی فوج کے لیے نہ تو جائے پناہ بچے گی اور نہ ہی خوراک و ہتھیاروں کا ذخیرہ۔
کیا سوویت قیادت کے وہم و گمان بھی رہا ہوگا کہ پسماندہ سا قبائلی افغانستان ان کے لیے ایک دلدل بن جائے گا ؟ چنانچہ سوال کھڑا ہوجاتا ہے کہ وہ کیا معلومات تھیں جن کی بنیاد پر سوویت قیادت نے افغانستان آنے کا فیصلہ کیا ؟ اور اندازے کی وہ غلطی کیا تھی جو ان کے لیے مہلک ثابت ہوئی؟ افغانستان میں حکومت آلریڈی ان کے حامیوں کی تھی، چنانچہ کسی ریاستی مزاحمت کا تو چیلنج ہی درپیش نہ تھا۔ معلومات کا یہ اتنا سا حصہ ہی اتنا پرکشش تھا کہ انہوں نے فوج بھیجنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ اندازے کی غلطی یہ کر بیٹھے کہ افغان قبائلی سماج کی بنت نظر انداز کر بیٹھے۔ اور یہی غلطی مہلک ثابت ہوئی۔
سو تاریخ کے آج کے طالب علم کے لیے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کیا ہوا تھا ؟ بلکہ یہ ہے کہ فیصلہ ساز کو اپنا اقدام معقول کیوں نظر آرہا تھا ؟ اور یہ اس لیے اہم ہے کہ جب ہم کسی تاریخی فیصلے کو آج کے علم کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو ہمیں اس کی غلطی بہت صاف نظر آتی ہے۔ لیکن تاریخ سمجھنے کے لیے ہمیں اپنے ذہن سے بعد کا علم نکالنا پڑتا ہے۔ہائنڈ سائٹ یعنی نتیجے کے بعد کی صورتحال پر کسی کو احمق قرار دینا ایسا ہی ہے جیسے کرکٹ میچ کے اختتام پر کہا جائے ’اگر فلاں بلے باز فلاں گیند کو چھوڑ دیتا تو میچ کا نتیجہ مختلف ہوتا‘۔ یہ تبصرہ کرنے والا خود کو ایک سیکنڈ سے بھی کم کے اس لمحے میں کھڑا نہیں کرتا جب بلے باز کو اسٹروک کھیلنے یا نہ کھیلنے کا فیصلہ کرنا پڑا تھا۔ اسی لیے میچ کے بعد کے یہ تبصرے بے معنی ہوجاتے ہیں۔ سو کمال یہ نہیں کہ میچ کے بعد یہ فیصلہ سنایا جائے کہ فلاں اسٹروک کھیلنا غلط ثابت ہوا۔ بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ بلے باز کو وہ گیند ایسی کیوں نظر آرہی تھی کہ اس نے اسٹروک کھیلنے کا فیصلہ کیا؟ اس سے اندازے کی یہ غلطی کیوں ہوئی؟ یہ سوال حل ہوگا تو سبق سیکھنے کی باری آئے گی۔
مزید پڑھیے: گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر
مسئلہ یہ ہے کہ ہم آج بھی روس، امریکا، چین، ایران، اسرائیل، بھارت، اور پاکستان وغیرہ کے بارے میں فیصلے کرتے ہوئے یہی غلطی کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں ’یہ ملک یہ کیوں نہیں کر رہا؟‘ جبکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ اس ملک کی قیادت کو اپنے مفادات، خطرات اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر کیا معقول نظر آ رہا ہے؟ پھر ایک سنگین مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم فیصلہ ساز کردار کے لیے مقام کا تعین نتائج دیکھنے کے بعد کرتے ہیں۔ فاتح ہوا تو مدبر، شکست ہوگئی تو احمق۔ جبکہ بظاہر ناکام یا غلط نظر آنے والا فیصلہ ہمیشہ احمقانہ نہیں ہوتا۔ اسے اپنی ہی قومی تاریخ کے دد ایسے فیصلوں کی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے جو بظاہر صرف برے نہیں بلکہ بہت برے نظر آرہے تھے۔
سیاسی کوچے کے لوگ بہت آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ جنرل ضیاء کے سامنے یہ سوال آ کھڑا ہوا تھا کہ قبر ایک ہے اور افراد 2، قبر میں کون اترے؟ خود جنرل ضیاء یا بھٹو؟ یوں جنرل ضیاء نے فیصلہ کیا کہ بھٹو کو قبر میں اتارا جائے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا جنرل ضیاء کے سامنے واقعی یہی سوال تھا کہ بھٹو یا خود وہ؟ نہیں، سوال یہ نہ تھا۔ یہ فقط سیاسی بیانیہ ہے۔ ان فیصلہ کن ایام میں قریب ہی موجود معتبر لوگوں کا کہنا ہے کہ سوال یہ تھا کہ ملک کا ایٹمی پروگرام امریکا کی نظروں میں آچکا ہے۔ لہٰذا قبر ایک ہے اور جسد 2۔ بھٹو کو قبر میں اتار کر ایٹمی پروگرام بچا لیا جائے یا بھٹو کو بچا کر پاکستان کو ایٹمی طاقت بن جانے والے انڈیا کے ہاتھوں تاریخ کی قبر میں اترنے دیا جائے؟ یوں جنرل ضیاء نے فیصلہ ملک کے حق میں کیا۔
اسی طرح ایک روز جنرل مشرف کے سامنے یہ صورتحال کھڑی ہوگئی کہ امریکا نے تو افغانستان آنا ہی ہے۔ نائن الیون کے نتیجے میں عالمی ماحول ہی ایسا بن گیا ہے کہ دنیا کا ہر ملک امریکا کے ساتھ جا کھڑا ہوا ہے۔ چنانچہ جنرل مشرف کے سامنے یہ سوال کھڑا ہوگیا کہ پاکستان کو طالبان اور اسامہ بن لادن کے ساتھ بریکٹ کرکے اپنی بھی اینٹ سے اینٹ بجوا لی جائے یا امریکا کی جنگ میں بطور حلیف داخل ہوکر اسے اندر ہی اندر سے ناکامی سے دو چار کیا جائے؟
جنرل مشرف یقیناً یہ یہ ادراک رہا ہوگا کہ اس فیصلے کی سیاسی قیمت انہیں خود ادا کرنی پڑے گی۔ پورا ملک انہیں گالیاں دے گا۔ کیونکہ فیصلے کے مرکز سے باہر بیٹھے لوگ وہ نہیں جانتے جو وہ جانتے ہیں۔ یوں مشرف کے لیے اگلا سوال یہ کھڑا ہوا کہ پوری ایمانداری سے امریکا کا ساتھ دے کر پاکستان کے مغربی بارڈر پر کوریا، جاپان اور جرمنی کی طرح مستقل امریکی اڈے بنوا لوں یا اپنی پروا نہ کروں اور امریکا کے پورے منصوبے کو خاک میں ملا دوں؟ یہ ہم نہیں کہہ رہے، ذرا وہ درجنوں ڈاکومینٹریز اٹھا کر دیکھ لیجیے جو وار آن ٹیرر کے چھٹے سال کے بعد ہر سال مغرب میں بنیں۔ اور جس میں امریکی چیخ چیخ کر کہتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان انہیں ڈبل کراس کر رہا ہے، اسے سچا پیار بالکل نہیں دے رہا۔
مزید پڑھیں: ’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘
ایسا قطعاً نہیں ہے کہ ہمیں ان 2 آمروں سے کوئی ہمدردی ہے۔ آپ جب بھی ملک کی داخلی سیاست کے حوالے سے ان دونوں کا ذکر کریں گے، ہمیں انہیں آمر ہی کہتا پائیں گے، اس حوالے سے ہمارے لاتعداد کالم ریکارڈ پر ہیں۔ آپ بجا طور پر سوال اٹھا سکتے ہیں کہ ہم نے سول حکومتوں کے فیصلے بطور مثال کیوں نہ استعمال کیے؟ تو حضور کونسے فیصلے؟ شوگر ملوں اور ٹھیکوں میں حصوں والے فیصلے یا پھر وزیر اعظم ہاؤس کی بھینسیں اور توشہ خانے سے سستے داموں لی گئی گھڑیوں کی چور بازار میں فروخت کے فیصلے؟ ہماری مثالوں کی اہمیت یہ ہے کہ یہ 2 ایسے بڑے اسٹریٹیجک فیصلے تھے جنہوں نے پاکستان کو بچایا۔ ہمیں شکر ادا کرنا چاہیے کہ بظاہر انتہائی برے نظر آنے والے یہ فیصلے، برے ثابت نہیں ہوئے ورنہ تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ یہ ہے کہ فیصلے کی تاریخ پر فیصلہ ساز کو آنے والی تاریخ معلوم نہیں ہوتی!
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













