سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیاں محدود، نئی حکمت عملی کیا ہے؟

جمعرات 20 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے احکامات کے بعد پارٹی رہنماؤں نے کارکنوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے حکومت مخالف سیاسی سرگرمیاں بھی وقتی طور پر محدود کر دی ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، جنہوں نے چند روز قبل 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کے لیے اپنے آبائی علاقے سے اسٹریٹ مہم کا آغاز کیا تھا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور ان کی تمام توجہ عمران خان کی منتقلی پر مرکوز ہے۔

سہیل آفریدی کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وزیراعلیٰ نے اپنے قریبی حلقوں سے مشاورت کی ہے، جبکہ پارٹی رہنماؤں نے بھی انہیں اس وقت سیاسی سرگرمیاں محدود کرنے اور حکومت مخالف سخت بیانات سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 27 ستمبر کے حوالے سے اسٹریٹ مہم کے تحت اپنی سیاسی سرگرمیاں وقتی طور پر معطل کر دی ہیں اور اس وقت ان کی توجہ عمران خان کے علاج پر ہے۔

’تصادم سے گریز کر رہے ہیں‘

پی ٹی آئی کے ایک اہم رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پارٹی کی بعض شرائط مان لی گئی ہیں، اس لیے اس وقت پی ٹی آئی نے مزید کسی قسم کے سیاسی تصادم سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں ہفتے سہیل آفریدی کا اسٹریٹ مہم کے تحت مختلف علاقوں کا سیاسی دورہ شیڈول تھا، جسے انہوں نے وقتی طور پر معطل کر دیا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کے بہتر علاج تک مزید سیاسی احتجاج نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیا عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟

پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ سہیل آفریدی عمران خان کی بہن سے ملاقات کے بعد صورتحال سے آگاہ ہو گئے ہیں۔

’مجھے اس وقت معلوم نہیں کہ عمران خان نے سہیل آفریدی یا پارٹی کے لیے کیا پیغام بھیجا ہے، لیکن اتنا پتا ہے کہ خان کا پیغام پہنچ گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت مخالف سیاسی سرگرمیاں محدود کرے گی اور کارکنوں کو بھی پُرامن رہنے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پارٹی رہنما نے مزید بتایا کہ عمران خان کی بہن کے ذریعے بھی پارٹی قیادت کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے۔

کیا سہیل آفریدی کے تمام مطالبات مان لیے گئے؟

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے رواں ماہ پشاور میں جلسے کے دوران اسلام آباد مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے دو مطالبات نہ مانے گئے تو اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندی ختم کی جائے اور ان کے مقدمات کی سماعت تیز کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں بہتر علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔

باخبر ذرائع کے مطابق عمران خان سے ان کی بہن کی ملاقات اس شرط پر کرائی گئی کہ ملاقات کے بعد سیاسی بیان بازی نہیں کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان صحت مند ہونے کے بعد دوبارہ جیل جائیں گے، طلال چوہدری

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم کے بعد عمران خان کو کسی بھی وقت اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے، جس پر مقتدر حلقے غور کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اہل خانہ سے مزید ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جس کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے شکوے دور ہونے کا امکان ہے۔

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کٹھانہ کے مطابق ابھی تک سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا اور وہ اس کے منتظر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سیاسی حکمت عملی حالات کو دیکھ کر بنائی جائے گی۔

’ہم دیکھیں گے کہ کیا عمران خان کو ریلیف مل رہا ہے یا یہ صرف تاخیری حربے ہیں۔‘

اکرام کٹھانہ نے کہا کہ پی ٹی آئی قانونی اور آئینی دائرے میں رہ کر جدوجہد کر رہی ہے اور اس کا مقصد عمران خان کو انصاف دلانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کو انصاف ملتا نظر آیا تو احتجاج کی ضرورت نہیں ہوگی، ورنہ کارکن سڑکوں پر ہوں گے۔

’اسلام آباد مارچ کی کال بدستور موجود ہے‘

پی ٹی آئی کے مطابق پارٹی رہنماؤں نے اس وقت سیاسی سرگرمیاں محدود ضرور کی ہیں، تاہم 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کی کال واپس نہیں لی گئی۔ صوبائی رہنما اکرام کٹھانہ نے بتایا کہ جو بھی فیصلہ ہوگا، مشاورت سے کیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد میں وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 27 ستمبر کی کال اپنی جگہ موجود ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مستقبل میں مارچ کی کال واپس لی جائے گی یا نہیں۔

پی ٹی آئی کیا لائحہ عمل بنا رہی ہے؟

پی ٹی آئی نے ابھی تک ستمبر کے مارچ کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق اپوزیشن لیڈر اور دیگر پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کے ایک باخبر رہنما نے بتایا کہ پارٹی قیادت مارچ کے حوالے سے غور ضرور کر رہی ہے، تاہم فوری طور پر کال واپس لینے کے حق میں نہیں۔

ان کے مطابق سہیل آفریدی پر مارچ کی کال واپس لینے کے لیے دباؤ بھی ہے، تاہم وہ اس کے حق میں نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کیا عمران خان کو بنی گالہ منتقل کرنے کی تجویز زیر غور ہے؟ اسد قیصر نے بتادیا

رہنما نے بتایا کہ سہیل آفریدی سیاسی سرگرمیاں محدود کریں گے اور کارکنوں کو پُرامن رہنے کی ہدایت دیں گے، تاہم مارچ کی کال برقرار رہے گی۔

’اگر کال واپس لیتے ہیں تو اس بات کی کیا ضمانت ہوگی کہ تمام مطالبات پر عمل ہوگا؟‘

ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی مارچ کے دباؤ کے ذریعے تمام مطالبات منوانے کی پوری کوشش کریں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مطالبات نہ مانے جانے کی صورت میں پی ٹی آئی بھرپور احتجاج کی تیاری بھی کر رہی ہے۔ سہیل آفریدی اسٹریٹ مہم کو مزید زور و شور سے جاری رکھیں گے اور 27 ستمبر کو بھرپور تیاری کے ساتھ اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp