وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو پہلے سرکاری اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی اور اگر وہاں علاج ممکن نہ ہوا تو انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے گا، ضرورت پڑنے پر انہیں بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی پر حکومت کی نظرثانی درخواست دوبارہ دائر کردی گئی، فیصلہ آج یا کل متوقع ہے، رانا ثنااللہ
سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت عمران خان کے علاج کے حوالے سے عدالتی حکم کی پابند ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع صرف اس لیے کیا تھا تاکہ وضاحت حاصل کی جاسکے کہ عدالت کا فیصلہ صرف ایک قیدی کے لیے ہے یا ملک کے تمام دیگر قیدیوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
حکومت پابند ہے کہ عمران خان کو شفا ہسپتال بھیجیں اور حکومت اگر محسوس کرے گی کہ عمران خان کو سہولیات کی ضرورت ہے بیرون ملک جانا ہے وہ بھی فیصلہ ہو سکتا ہے
۔۔!!
طارق فضل چوہدری pic.twitter.com/TEGr2T3KCt— Sajjad Bhatti (@SajjadBhatti) August 20, 2026
حکومت کے پاس عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے چند گھنٹے باقی ہیں، جبکہ حکم پر عمل نہ ہونے کی صورت میں پی ٹی آئی نے حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی تیاری کرلی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی اسپتال منتقلی تعطل کا شکار کیوں ہے؟
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے آج کے دن کو فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عدالتی حکم کے خلاف نظرثانی کی درخواست واپس لے چکی ہے، اب اس کے پاس عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں۔
اس سے قبل سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے حکم کے خلاف حکومت کی نظرثانی درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کردی تھی، حکومت کی جانب سے اعتراضات دور کرکے نئی نظرثانی درخواست آج ہی دائر کیے جانے کا امکان ہے۔














