وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم پر حکومت کی نظرثانی درخواست دوبارہ دائر کردی گئی ہے اور اس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صورتحال مزید واضح ہوجائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان صحت مند ہونے کے بعد دوبارہ جیل جائیں گے، طلال چوہدری
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت آئین اور قانون کے مطابق کام کر رہی ہے اس لیے نظرثانی درخواست پر عدالت کے فیصلے کا انتظار کیا جائے۔ ان کے مطابق توقع ہے کہ درخواست پر فیصلہ آج یا کل سامنے آسکتا ہے۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت کی جانب سے عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے 18 اگست کے عبوری حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
حکومتی نظرثانی درخواست پہلے سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراضات کے ساتھ واپس کردی گئی تھی۔ درخواست کے ساتھ پیپر بکس مکمل نہ ہونے پر اعتراض عائد کیا گیا تھا جس کے بعد اعتراض دور کرکے درخواست دوبارہ دائر کردی گئی۔
’سپریم کورٹ کا فیصلہ ماتحت عدالتوں پر اثرانداز ہوگا‘
رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت کو اس معاملے میں یہ تشویش ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک کے فوجداری نظام انصاف پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیے: عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے، بیرسٹر گوہر کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک قیدی کو نجی اسپتال منتقل کرنے کا عدالتی حکم ایک مثال بن جاتا ہے تو کیا مستقبل میں ہر قیدی کو نجی اسپتال منتقل کرنے کی درخواست کا حق حاصل ہوگا؟ ان کے مطابق اس صورت میں ماتحت عدالتوں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
حکومت کی نظرثانی درخواست میں بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جیل سے کسی قیدی کو باہر اسپتال منتقل کرنے کے لیے قانونی طریقہ کار موجود ہے اور متعلقہ حکام کے اختیارات کو نظرانداز کرکے عبوری حکم جاری کیا گیا۔ درخواست میں پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 197 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
نواز شریف کے علاج کی مثال
رانا ثنااللہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے جیل سے اسپتال منتقل کیے جانے کی مثال بھی دی۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو جیل سے سرکاری سروسز اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں کے میڈیکل بورڈ نے ان کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی سفارش کی جس کے بعد حکومت نے انہیں بیرون ملک علاج کی اجازت دی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ عمران خان کے معاملے میں بھی طبی ضرورت اور قیدیوں کی منتقلی سے متعلق قانونی طریقہ کار کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کے تحت عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور ان کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ عدالت نے اہل خانہ اور ذاتی معالج سے متعلق بھی احکامات جاری کیے تھے۔
مزید پڑھیں:عمران خان کی مکمل صحتیابی کے بعد احتجاج ہوگا کیا پی ٹی آئی 27 ستمبر کو احتجاج نہیں کرےگی؟
اب نظرثانی درخواست دوبارہ دائر ہونے کے بعد تمام نظریں سپریم کورٹ کی آئندہ کارروائی پر مرکوز ہیں۔ عدالتی فیصلے سے یہ واضح ہوگا کہ عمران خان کی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی سے متعلق 18 اگست کا حکم برقرار رہتا ہے اس میں کوئی ترمیم کی جاتی ہے یا اسے واپس لیا جاتا ہے۔














