گرمی میں کچھ عام ادویات جسم کو زیادہ متاثر کرسکتی ہیں، ماہرین کا انتباہ

جمعرات 20 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈپریشن، اضطراب، اے ڈی ایچ ڈی، بلند فشار خون اور دل کے امراض کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی بعض عام ادویات شدید گرمی میں جسم کے لیے درجہ حرارت کو معمول پر رکھنا مشکل بنا سکتی ہیں اور پانی کی کمی سمیت گرمی سے متعلق دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مستقبل میں خلا میں ادویات کی تیاری معمول بن سکتی ہے،  ماہرین کی پیشگوئی

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا کے مختلف حصوں میں گرمی کی لہریں زیادہ بار بار اور شدید ہو رہی ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بعض ادویات جسم کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے، پسینہ خارج کرنے، خون کی روانی اور پیاس محسوس کرنے کے قدرتی نظام میں مداخلت کرسکتی ہیں جس سے شدید گرمی میں مریضوں کو اضافی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

برسلز میں رہنے والی 28 سالہ ایلیانا اوکومس کو رواں برس جون میں یورپ میں آنے والی شدید گرمی کی لہر کے دوران محسوس ہوا کہ گرمی انہیں دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ متاثر کر رہی ہے۔

وہ ایک ایسی عمارت کی اوپری منزل پر رہتی ہیں جہاں ایئر کنڈیشنر موجود نہیں۔ ان کے مطابق گھر سے باہر نکلتے ہی ان کے چہرے پر پسینہ آنے لگتا اور ٹھنڈا ہونے میں آدھے گھنٹے سے ایک گھنٹے تک کا وقت لگ جاتا۔

ایک دن ان کے اپارٹمنٹ کے اندر درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا اور انہیں تقریباً 18 گھنٹے سونا پڑا۔ انہیں بیدار ہونے میں بھی دشواری ہوئی اور خدشہ پیدا ہوا کہ شاید ان کا بلڈ پریشر کم ہوگیا ہے۔

اوکومس اس سے قبل دنیا کے ایسے علاقوں میں بھی رہ چکی ہیں جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا تھا لیکن اس بار گرمی نے انہیں غیر معمولی طور پر متاثر کیا۔

مزید پڑھیے: شدید گرمی ذہن کو بھی متاثر کرتی ہے، ماہرین نے ’ہیٹ ویو اینگزائٹی‘ سے نمٹنے کے طریقے بتا دیے

بعد میں سوشل میڈیا پر ایسے افراد کی پوسٹس دیکھنے کے بعد جنہیں ملتی جلتی علامات کا سامنا تھا، انہیں احساس ہوا کہ ان کی مشکلات کا تعلق ان ادویات سے بھی ہوسکتا ہے جو وہ تقریباً دو برس سے ڈپریشن اور اضطراب کے علاج کے لیے استعمال کر رہی تھیں۔

ذہنی صحت کی ادویات اور گرمی

ماہرین کے مطابق ڈپریشن، اضطراب اور دو قطبی عارضے سمیت مختلف ذہنی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی کئی ادویات گرمی میں جسم کو زیادہ حساس بنا سکتی ہیں۔

یہ ادویات دماغ کے اس حصے، ہائپوتھیلمس، پر اثر انداز ہوسکتی ہیں جو جسم کے درجہ حرارت کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ گرمی میں یہی نظام جسم کو زیادہ پسینہ خارج کرنے، سرگرمی کم کرنے اور میٹابولزم میں تبدیلی جیسے اقدامات کے ذریعے ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ڈپریشن کے علاج کے لیے عام طور پر استعمال ہونے والی ایس ایس آر آئی اور ایس این آر آئی گروپ کی ادویات بشمول سرٹرالین، فلوکسیٹین، ایس سائیٹوپرام اور وینلافیکسین بھی جسم کے درجہ حرارت کو متاثر کرسکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق بعض افراد میں یہ ادویات زیادہ پسینہ آنے کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے پانی اور جسم میں موجود نمکیات کی کمی ہوسکتی ہے۔ شدید گرمی میں اگر پہلے ہی جسم پانی کی کمی کا شکار ہو تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہوسکتا ہے۔

پرانی قسم کی بعض ڈپریشن کی ادویات بھی پسینہ آنے میں اضافہ یا کمی کرسکتی ہیں۔ اگر پسینہ کم خارج ہو تو جسم کے لیے اضافی حرارت خارج کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور جسم کا درجہ حرارت بڑھ سکتا ہے۔

لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والی 36 سالہ کیریئر کوچ کیرولین فریسینیٹ بھی رواں موسم گرما میں ایسی ہی صورتحال سے گزریں۔ وہ ڈپریشن کی دوا، موڈ کو مستحکم رکھنے والی دوا اور اے ڈی ایچ ڈی کی دوا استعمال کر رہی تھیں۔

مزید پڑھیں: شدید گرمی میں عام پنکھا بھی ایئرکنڈیشنر جیسی ٹھنڈک دے سکتا ہے، بس یہ طریقے اپنالیں

جولائی میں غیر معمولی طور پر طویل اور مرطوب گرمی کے دوران انہیں توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، چڑچڑاپن اور معمول سے زیادہ پسینہ آنے کی شکایت ہوئی۔ ابتدا میں انہوں نے ان علامات کو ناقص خوراک اور کم پانی پینے سے جوڑا لیکن بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ ان کی ادویات بھی اس صورتحال میں کردار ادا کرسکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ذہنی صحت اور ادویات کے مضر اثرات کے بارے میں کافی معلومات رکھتی ہیں، لیکن گرمی سے متعلق یہ اثر انہیں معلوم نہیں تھا۔

اے ڈی ایچ ڈی اور دیگر ادویات بھی اثر انداز ہوسکتی ہیں

ماہرین کے مطابق شیزوفرینیا اور دو قطبی عارضے کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی بعض اینٹی سائیکوٹک ادویات بھی جسم کے قدرتی ٹھنڈک کے نظام کو متاثر کرسکتی ہیں۔ گزشتہ گرمی کی لہروں کے مطالعات میں ایسی ادویات کے استعمال اور گرمی سے ہونے والی اموات کے زیادہ خطرے کے درمیان تعلق بھی سامنے آیا ہے۔

اے ڈی ایچ ڈی کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی محرک ادویات، مثلاً ریٹالِن، جسم میں حرارت پیدا کرنے میں اضافہ اور خون کی نالیوں کو سکڑنے کا سبب بن سکتی ہیں جس سے جسم کا قدرتی ٹھنڈا ہونے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسی ادویات بعض اوقات جسمانی تھکن کے احساس کو بھی چھپا سکتی ہیں جس کے باعث کسی شخص کو یہ اندازہ نہیں ہوپاتا کہ اس کا جسم خطرناک حد تک گرم ہوچکا ہے۔

بلڈ پریشر اور دل کی ادویات بھی اہم ہیں

گرمی میں خطرہ صرف ذہنی صحت کی ادویات تک محدود نہیں۔ بلند فشار خون اور دل کے امراض کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی بعض ادویات بھی جسم کو شدید گرمی سے نمٹنے میں دشواری کا شکار بنا سکتی ہیں۔

پیشاب آور ادویات، اے سی ای انہیبیٹرز اور اے آر بیز جیسی ادویات جسم میں پانی اور نمکیات کے توازن کو متاثر کرسکتی ہیں۔ بعض ادویات پیاس محسوس کرنے کے قدرتی نظام پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق شدید پانی کی کمی بعض صورتوں میں گردوں کو نقصان، دل کے دورے اور دیگر سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: شدید گرمی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں متاثر کرتی ہے؟

دوسری جانب بیٹا بلاکرز جلد تک خون کی روانی محدود کرسکتے ہیں جس سے جسم کے لیے اضافی حرارت خارج کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

اسی طرح اینٹی کولینرجک ادویات جو پارکنسنز، مثانے کی بعض بیماریوں، سانس کے مسائل اور الرجی سمیت متعدد امراض کے علاج میں استعمال ہوتی ہیں پسینے اور جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے نظام کو متاثر کرسکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ سکتا ہے جب کوئی شخص بیک وقت ایسی کئی ادویات استعمال کر رہا ہو جو جسم کی ٹھنڈا ہونے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہوں۔

عمر رسیدہ افراد زیادہ خطرے میں

65 سال سے زیادہ عمر کے افراد خاص طور پر توجہ کے مستحق ہیں کیونکہ وہ گرمی سے متعلق بیماریوں کا پہلے ہی زیادہ شکار ہوتے ہیں اور عموماً ایک سے زیادہ ادویات بھی استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔

امریکا میں کیے گئے ایک مطالعے میں بھی یہ نتیجہ سامنے آیا کہ پیشاب آور ادویات، اینٹی سائیکوٹکس، بیٹا بلاکرز، محرک ادویات اور بلند فشار خون کی ادویات استعمال کرنے والے عمر رسیدہ افراد گرمیوں میں، حتیٰ کہ شدید گرمی کی لہر نہ ہونے کی صورت میں بھی، گرمی سے متعلق بیماری کے باعث اسپتال پہنچنے کے زیادہ خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سے زیادہ ادویات کے امتزاج سے خطرہ کسی ایک دوا کے استعمال کے مقابلے میں بڑھ سکتا ہے، تاہم یہ ابھی پوری طرح واضح نہیں کہ کون سے امتزاج سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔

مزید پڑھیں: شدید گرمی میں کیا کھانا اور پینا چاہیے؟ ماہرین نے ہیٹ ویو کے دوران بہترین خوراک بتا دی

سماجی اور معاشی حالات بھی اس خطرے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے افراد جو شدید گرمی میں جسمانی محنت کا کام کرتے ہیں، کھلے آسمان تلے رہتے ہیں یا ایسے شہری علاقوں میں مقیم ہیں جہاں درخت کم اور کنکریٹ کی سطحیں زیادہ ہیں، زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایئر کنڈیشنر یا ٹھنڈی جگہ تک رسائی نہ ہونا بھی خطرہ بڑھاتا ہے۔

گرمی میں کن علامات پر فوری توجہ ضروری ہے؟

لاس ویگاس میں ایک طبی ماہر نے حال ہی میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو تقریباً 43 ڈگری سینٹی گریڈ گرمی میں پارک میں سو رہا تھا۔ وہ شخص بہت زیادہ پسینہ بہا رہا تھا اور اس کے دل کی دھڑکن تیز تھی۔

وہ پیشاب آور دوا اور ڈپریشن کے علاج کی دوا استعمال کر رہا تھا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کی علامات میں ادویات بھی کردار ادا کرسکتی ہیں۔

ماہر نے اسے زیادہ پانی پینے، شدید دھوپ کے اوقات میں دھوپ سے بچنے اور ٹھنڈی جگہوں کا رخ کرنے کا مشورہ دیا۔

ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کی ذہنی حالت تبدیل ہونے لگے وہ الجھن کا شکار ہو، غیر معمولی رویہ اختیار کرے یا عام حالت میں نہ رہے تو یہ ہیٹ اسٹروک کی علامت ہوسکتی ہے جو ایک طبی ہنگامی صورتحال ہے اور ایسے شخص کو فوری طور پر ہسپتال پہنچانا چاہیے۔

ادویات خود سے بند نہ کریں

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ گرمی سے متعلق خطرات کے باوجود مریضوں کو اپنی ادویات خود سے بند نہیں کرنی چاہییں۔ کسی دوا کے بارے میں تشویش ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کو بھی نئی دوا تجویز کرتے وقت اس کے اہم مضر اثرات کے ساتھ یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ شدید گرمی میں مریض کو کن اضافی خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے خصوصاً ایسے افراد کو جو پہلے ہی گرمی سے متعلق بیماریوں کے زیادہ خطرے میں ہوں۔

اوکومس کے لیے اس تجربے نے انہیں اپنی دوا کے استعمال پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا، جبکہ فریسینیٹ کا کہنا ہے کہ ان کی دوا ان کے لیے مؤثر ثابت ہورہی ہے اور اسے چھوڑنے کا انہوں نے نہیں سوچا۔

مزید پڑھیے: شدید گرمی میں کون سے کپڑے پہنیں؟ جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ماہرین کے بہترین مشورے

ان کے مطابق صرف یہ جان لینا کہ گرمی میں محسوس ہونے والی علامات ان کی ادویات کا ایک ممکنہ اثر ہیں ان کے لیے اطمینان کا باعث بنا ہے۔

اہم احتیاط

یہ معلومات عمومی آگاہی کے لیے ہیں اور طبی مشورے کا متبادل نہیں۔ اگر آپ کوئی مستقل دوا استعمال کرتے ہیں اور شدید گرمی میں غیر معمولی علامات محسوس کرتے ہیں تو دوا خود سے بند یا تبدیل کرنے کے بجائے اپنے ڈاکٹر یا مستند طبی ماہر سے مشورہ کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالی مسائل حل نہ ہوئے تو بی پی ایل منعقد نہیں کریں گے، تمیم اقبال

واٹس ایپ اب کاروباری اداروں سے صارفین کے جوابات پر بھی فیس وصول کرے گا

پاکستانی کوہ پیما عاصمہ مشتاق اسپینٹک سر کرنے کے بعد انتقال کرگئیں

بی این پی رہنما مرزا فخرالاسلام عالمگیر بنگلہ دیش کے نئے صدر منتخب

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 27 پیسے اور ڈیزل ایک روپے 64 پیسے مہنگا

ویڈیو

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

شاہی خاندان سے تعلقات بہتر ہوگئے، شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کا 6 سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپسی کا فیصلہ

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان ہوں گے، صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن متفق

کالم / تجزیہ

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟