معروف پاکستانی اداکار عدنان صدیقی بھارت میں واقع اپنے آبائی گھر کی ویڈیو دیکھ کر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہوگئے۔
عدنان صدیقی نے سوشل میڈیا پر بھارتی مؤرخ عبیدالرحمٰن صدیقی کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو دوبارہ پوسٹ ک، جس میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے گاؤں پاہیٹیا کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ ویڈیو میں عدنان صدیقی کے خاندان کے تقسیمِ ہند سے قبل کے آبائی گھر کے مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔
View this post on Instagram
اداکار نے بتایا کہ ویڈیو دیکھنے سے قبل انہوں نے معروف بھارتی فلم ساز امتیاز علی کی نئی فلم ’میں واپس آؤں گا‘ دیکھی تھی جس نے انہیں جذباتی کر دیا۔ ان کے مطابق فلم میں ہجرت، جدائی، اپنے گھر واپسی کی خواہش اور ماضی سے جڑے جذبات نے انہیں اپنی اور اپنے خاندان کی کہانی یاد دلا دی۔
ادنان صدیقی نے کہا کہ فلم دیکھنے کے بعد اتفاقاً بھارتی مؤرخ نے ان سے رابطہ کیا اور پاہیٹیا میں موجود ان کے آبائی گھر کی ویڈیو بھیجی۔ ویڈیو دیکھتے ہی وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور رو پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا
اداکار کے مطابق ان کے آباؤ اجداد تقسیمِ ہند کے وقت اپنا سب کچھ پیچھے چھوڑ کر پاکستان منتقل ہوئے تھے تاہم اپنے آبائی گھر واپسی کی امید ہمیشہ دل میں لیے رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسے گھر کی ویڈیو دیکھ کر رو رہے تھے جسے انہوں نے کبھی دیکھا تک نہیں تھا لیکن اس سے جڑی تاریخ اور مٹی کی کشش نے انہیں جذباتی کردیا۔
عدنان صدیقی نے اپنے والد کی ایک یاد بھی شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بھارت کو ’میرا ملک‘ کہا کرتے تھے کیونکہ ان کا بچپن وہیں گزرا تھا۔ اداکار کے مطابق وہ اس احساس کو پوری طرح اس وقت سمجھ سکے جب کراچی میں ان کے اپنے بچپن کے گھر کو منہدم کیا گیا اور وہ تقریباً ایک گھنٹے تک صدمے کی کیفیت میں رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’صرف ڈگری نہیں، بچوں کی کردار سازی پر بھی توجہ دیں‘، عدنان صدیقی کا والدین کو نصیحت بھرا پیغام
انہوں نے کہا کہ گھر صرف وہ جگہ نہیں جہاں انسان زیادہ وقت گزارتا ہے بلکہ وہ جگہ ہے جہاں انسان پہلی بار خود کو پہچانتا ہے۔
عدنان صدیقی کے مطابق ان کے والد نے بھارت کو اپنے اندر اسی طرح محفوظ رکھا جس طرح وہ اب پاکستان کو اپنی شناخت کا حصہ سمجھتے ہیں کیونکہ بعض جگہیں انسان کو بناتی بھی ہیں اور ان کی یاد زندگی بھر انسان کے ساتھ رہتی ہے۔
واضح رہے کہ امتیاز علی کی فلم ’میں واپس آؤں گا‘ تقسیمِ ہند کے دوران بچھڑنے والے خاندانوں اور محبتوں کی داستان بیان کرتی ہے۔ فلم میں نصیرالدین شاہ، شرواری واگھ اور دلجیت دوسانجھ نے اہم کردار ادا کیے ہیں اور اسے دونوں ممالک میں تقسیم کے انسانی المیے کی عکاسی کرنے والی جذباتی کہانی قرار دیا جا رہا ہے۔














