مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی کے ساتھ ہیومنائیڈ روبوٹس کی صنعت بھی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور روبوٹکس کے شعبے سے وابستہ کئی کمپنیوں کے سربراہان کو امید ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ ٹیکنالوجی بھی ایسا ہی بڑا موڑ دیکھ سکتی ہے جیسا چیٹ جی پی ٹی نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پیدا کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں روبوٹس کے لیے منفرد اسکول، روزگار کے لیے تیار کیے جانے لگے
چین کے مصنوعی ذہانت کے اسٹارٹ اَپ اے سی ای روبوٹکس کے چیف ایگزیکٹو وانگ شیاؤگانگ کے مطابق ہیومنائیڈ روبوٹس کے ’دماغ‘ میں اگلے سال کے اختتام تک ایک بڑی پیشرفت متوقع ہے جو مصنوعی ذہانت کے تیزی سے عام ہونے میں چیٹ جی پی ٹی کے کردار جیسا اثر ڈال سکتی ہے۔
وانگ شیاؤگانگ کا کہنا ہے کہ سنہ 2027 کے اختتام تک ’ایمبوڈیڈ انٹیلی جنس‘ یعنی ایسی مصنوعی ذہانت جو روبوٹ کو اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھ کر جسمانی طور پر کام کرنے کے قابل بنائے، کے لیے ’چیٹ جی پی ٹی لمحہ‘ آسکتا ہے۔
انہوں نے اس پیشرفت کی وجہ ’ورلڈ ماڈلز‘ اور ماحول سے ڈیٹا حاصل کرنے کی صلاحیت میں ترقی کو قرار دیا۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر سنہ 2027 کے آخر تک یہ اہم موڑ حاصل بھی کرلیا جاتا ہے تو مختلف شعبوں میں ایسے ’ایمبوڈیڈ ورلڈ ماڈلز‘ کے وسیع پیمانے پر تجارتی استعمال میں مزید 4 سے 5 سال لگ سکتے ہیں۔
روبوٹ کب عام گھروں میں کام کرسکیں گے؟
چین کی روبوٹکس کمپنی یونٹری کے بانی وانگ شنگ شنگ نے بھی رواں ہفتے اسی نوعیت کی پیشرفت کی پیشگوئی کی تھی تاہم ان کے خیال میں یہ کامیابی کم از کم 2 سے 3 سال میں سامنے آسکتی ہے۔
مزید پڑھیے: گھریلو کام، اسپتال اور کارخانوں کے لیے اب روبوٹس کرائے پر بھی دستیاب، جانیے اضافی فوائد
ان کے مطابق مستقبل میں ایک ایسا وقت آسکتا ہے جب کوئی ہیومنائیڈ روبوٹ کسی ایسے گھر میں داخل کیا جائے جس سے وہ پہلے واقف نہ ہو اور وہ صرف آواز یا تحریری احکامات کے ذریعے گھر کے تقریباً 80 فیصد کام کامیابی سے انجام دے سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ روبوٹکس کی صنعت کے لیے ایک اہم فیصلہ کن مرحلہ ہوگا جس کے بعد اس شعبے میں تیزی سے ترقی اور بڑے پیمانے پر پھیلاؤ شروع ہوسکتا ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ ڈیٹا کی کمی
تاہم ماہرین کے مطابق اس ممکنہ پیش رفت کے راستے میں کئی بڑے تکنیکی چیلنجز موجود ہیں جن میں سب سے اہم ڈیٹا کی کمی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پوری ہیومنائیڈ روبوٹ صنعت نے گزشتہ چند برسوں کے دوران تقریباً ایک لاکھ گھنٹے کا ڈیٹا جمع کیا ہے جو ایسے بنیادی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لیے درکار ڈیٹا کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
مزید پڑھیں: انسان یا مشین؟ چین میں جذبات سمجھنے والے حیرت انگیز حقیقی ہیومنائیڈ روبوٹس متعارف
ہیومنائیڈ روبوٹ کے لیے صرف زبان سمجھنا کافی نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنے اردگرد کے ماحول، اشیا کی جسامت، وزن، حرکت، فاصلے اور جسمانی رکاوٹوں کو سمجھتے ہوئے عملی کارروائی بھی کرنا ہوتی ہے۔ اس کے لیے بہت بڑی مقدار میں حقیقی دنیا کا ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔
اے سی ای روبوٹکس کا نیا طریقہ
اے سی ای روبوٹکس اس ڈیٹا کی کمی کو دور کرنے کے لیے حقیقی پیداواری لائنوں پر کام کرنے والے افراد کو ہلکے وزن کے سینسرز سے لیس کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا انسان نما روبوٹس میدان جنگ میں اترنے والے ہیں؟
کمپنی کا مقصد اگلے دو برسوں میں کروڑوں گھنٹوں کا ڈیٹا جمع کرنا ہے تاکہ ہیومنائیڈ روبوٹس کے لیے ایسے ماڈلز تیار کیے جاسکیں جو حقیقی دنیا کے مختلف حالات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
روایتی طریقوں میں روبوٹس کو تربیت دینے کے لیے جسمانی طور پر انسانوں کی جانب سے انہیں کنٹرول کیا جاتا ہے، جس کے لیے ایکسو اسکیلیٹن اور دیگر کنٹرولرز استعمال کیے جاتے ہیں۔
اے آئی چپس کی دوڑ
ہیومنائیڈ روبوٹس کی ترقی کے ساتھ ان کے لیے درکار طاقتور کمپیوٹنگ چپس کی طلب بھی بڑھ رہی ہے۔ کمپنیاں سپلائی چین کو متنوع بنانے اور اخراجات کم کرنے کے لیے امریکی کمپنی اینویڈیا کے علاوہ چینی ساختہ اے آئی چپس بھی استعمال کررہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اے سی ای روبوٹکس کی بنیاد جولائی 2025 میں رکھی گئی تھی اور کمپنی نے رواں سال کی پہلی ششماہی میں 10 کروڑ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔
کمپنی مستقبل میں حالات سازگار ہونے پر اسٹاک مارکیٹ میں ابتدائی عوامی پیشکش یعنی آئی پی او لانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔
اے سی ای روبوٹکس کا اوپن سورس ماڈل کیروس-4 بی مختلف بینچ مارکس پر نمایاں کارکردگی دکھا رہا ہے اور رپورٹ کے مطابق اس نے اینویڈیا کے کاسموس 3 اور اینٹ گروپ کے لنگ بوٹ جیسے ماڈلز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اوپن اے آئی جلد اے آئی ڈیوائسز متعارف کرائے گا، چیٹ جی پی ٹی کے لیے نئے آلات کی تیاری
ہیومنائیڈ روبوٹس کے لیے اصل چیلنج اب صرف انہیں چلانا نہیں بلکہ انہیں دیکھنے، سمجھنے، فیصلہ کرنے اور حقیقی دنیا میں قابلِ اعتماد انداز میں کام کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اگر سنہ 2027 کے آس پاس اس شعبے میں متوقع پیشرفت حاصل ہوگئی تو یہ روبوٹکس کی صنعت کے لیے وہی فیصلہ کن موڑ ثابت ہوسکتا ہے جو چیٹ جی پی ٹی نے مصنوعی ذہانت کے لیے پیدا کیا تھا۔














