امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پریس سیکریٹری کی خالی ہونے والی نشست کے تناظر میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ طنزیہ تصاویر شیئر کرتے ہوئے خود کو ’بیسٹ پریس سیکریٹری ‘ قرار دے دیا۔
ٹروتھ سوشل پر جاری تصاویر میں ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم کے پوڈیم پر دکھایا گیا، جہاں وہ خود کو اس عہدے کے لیے موزوں ترین امیدوار کے طور پر پیش کرتے نظر آئے۔
TRUMP: Calls himself “The Best Press Secretary” in image at White House podium pic.twitter.com/kLIi7BxLlu
— Trump Truths (@trumptruthsbot) August 21, 2026
ان پوسٹس نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی اور ٹرمپ کی جانب سے ’اے آئی‘ کے ذریعے سیاسی طنز اور خود کو نمایاں کرنے کی حکمت عملی ایک بار پھر زیر بحث آگئی۔
ٹرمپ کی ’پریس سیکریٹری‘ بننے کی طنزیہ مہم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر کی ایک سیریز شیئر کی، جن میں انہیں وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم میں پریس سیکریٹری کے پوڈیم پر کھڑے دکھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وائٹ ہاؤس کی تاریخ کی کم عمر ترین ترجمان کیرولین لیویٹ کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان، وجہ کیا بتائی؟
تصاویر کے ساتھ ایسے کیپشنز شامل تھے جن میں ٹرمپ کو خود ہی ’بہترین پریس سیکریٹری‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ پوسٹس بظاہر ایک طنزیہ ڈیجیٹل مہم کا حصہ تھیں، جس کے ذریعے صدر نے وائٹ ہاؤس میں پریس سیکریٹری کی خالی ہونے والی پوزیشن کے پس منظر میں اپنے ہی نام کو مذاقاً امیدوار کے طور پر پیش کیا۔
یہ ڈیجیٹل اسٹنٹ ایسے وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس کو پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کی روانگی کے بعد اس اہم عہدے پر خلا کا سامنا ہے۔
سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی ’اے آئی‘ تصاویر کا چرچا
ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر نے سوشل میڈیا پر فوری توجہ حاصل کی اور ’ایکس‘ سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر صارفین، مبصرین اور میڈیا سے وابستہ حلقوں میں اس پر بحث شروع ہوگئی۔
مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر کے ذریعے خود کو غیر معمولی یا طاقتور کرداروں میں پیش کرنا ٹرمپ کی سوشل میڈیا حکمت عملی میں کوئی نیا رجحان نہیں۔ وہ اس سے قبل بھی ’اے آئی‘ سے تیار کردہ متعدد تصاویر شیئر کرچکے ہیں، جن میں انہیں مختلف سیاسی اور ثقافتی کرداروں میں دکھایا گیا۔
’بادشاہ‘ سے ’پاپ‘ تک، اے آئی کا مسلسل استعمال
ٹرمپ نے اس سے قبل ایسی ’اے آئی‘ تصاویر بھی شیئر کی تھیں جن میں انہیں پوپ کے لباس میں دکھایا گیا، جبکہ ایک اور تصویر میں ان کے سر پر تاج دکھا کر ’لونگ لیوو کنگ‘ جیسا پیغام نمایاں کیا گیا تھا۔
ان کے سرکاری اور ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایسی مصنوعی تصاویر بھی سامنے آتی رہی ہیں جن میں ٹرمپ کو فلمی، ہیروک یا مزاحیہ کرداروں میں دکھایا گیا۔ ان میں مافیا طرز کی ٹوپی پہنے ہوئے تصویر سے لے کر ’جیڈی نائٹ‘ کے روپ تک مختلف انداز شامل رہے ہیں۔
سیاسی مخالفین پر بھی اے آئی کا استعمال
ٹرمپ کی ’اے آئی‘ سے متعلق سوشل میڈیا سرگرمی صرف خود کو طنزیہ یا خود ستائشی انداز میں پیش کرنے تک محدود نہیں رہی۔ ان کے پلیٹ فارمز سے سیاسی مخالفین، غیر ملکی رہنماؤں اور میڈیا شخصیات کو نشانہ بنانے والی مصنوعی تصاویر اور ویڈیوز بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:وائٹ ہاؤس ترجمان کیرولین لیویٹ امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے فیشن سینس، انداز گفتگو کی مداح
اس رجحان نے سیاسی ابلاغ میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار اور اس کے ذریعے طنز، سیاسی پیغام رسانی اور عوامی تاثر کو متاثر کرنے کے امکانات پر بھی بحث کو تقویت دی ہے۔
ٹرمپ کی حالیہ ’پریس سیکریٹری‘ کی پوسٹس بھی اسی وسیع تر سوشل میڈیا حکمت عملی کی ایک مثال سمجھی جا رہی ہیں، جس میں سیاسی بیان بازی، مزاح اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ بصری مواد کو ملا کر زیادہ سے زیادہ عوامی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔














