اے آئی نے کتابیں پڑھیں تو مصنفین عدالت پہنچ گئے: آخر کتابوں کے کاپی رائٹ کا مالک کون؟

جمعہ 21 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک بنیادی سوال اب عدالتوں کے سامنے ہے کہ اگر کسی اے آئی نظام کو انسانوں کی لکھی ہوئی لاکھوں کتابیں پڑھا کر تربیت دی جائے تو کیا یہ جائز ہے اور اگر ان کتابوں کے مصنفین کو نہ اجازت دی گئی ہو اور نہ معاوضہ، تو کیا اے آئی کمپنیاں ان تحریروں کو اپنے تجارتی ماڈلز کی بنیاد بنانے کا حق رکھتی ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: پرانی اور نایاب کتابوں کی خریداری میں اچانک غیر معمولی اضافہ، وجہ شوق مطالعہ یا کچھ اور؟

یہ سوال اب محض نظری بحث نہیں رہا۔ امریکا میں مصنفین اور بڑے پبلشرز نے اے آئی کمپنیوں کے خلاف متعدد مقدمات دائر کر رکھے ہیں جبکہ کچھ مقدمات میں عدالتوں کے ابتدائی فیصلوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو جزوی کامیابی دی ہے۔ دوسری طرف ایسے ہی مقدمات میں کتابوں کے غیر قانونی حصول یا ذخیرہ کرنے کو خلاف قانون قرار دیا گیا ہے۔

یوں اصل قانونی جنگ صرف اس بات پر نہیں کہ اے آئی نے کتابیں استعمال کیں یا نہیں بلکہ اس پر بھی ہے کہ کتابیں کہاں سے حاصل کی گئیں، انہیں کس طرح کاپی کیا گیا، تربیت میں ان کا استعمال کس مقصد کے لیے ہوا اور کیا اس پورے عمل سے مصنفین کی اپنی مارکیٹ کو نقصان پہنچا۔

اینتھروپک کا 1.5 ارب ڈالر کا مقدمہ

اس قانونی جنگ کی سب سے بڑی مثال اے آئی کمپنی این تھروپک اور مصنفین کے درمیان مقدمہ ہے۔

سنہ2024 میں مصنفین نے الزام عائد کیا کہ این تھروپک نے بڑی تعداد میں کتابیں غیر قانونی ذرائع سے حاصل کرکے اپنے اے آئی نظام کلاڈ کی تربیت کے لیے استعمال کیں۔ مقدمے میں لاکھوں کتابوں کی مبینہ غیر مجاز نقل اور ذخیرہ کرنے کا معاملہ سامنے آیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالت نے اس معاملے میں 2 مختلف پہلوؤں کو الگ الگ دیکھا۔ ایک مرحلے پر جج نے قرار دیا کہ کتابوں کو اے آئی ماڈل کی تربیت کے لیے استعمال کرنا امریکی قانون کے تحت منصفانہ استعمال یعنی فیئر یوز کے دائرے میں آ سکتا ہے۔ لیکن کتابوں کو غیر قانونی ذرائع سے حاصل کرنا اور ان کی غیر مجاز کاپیاں ذخیرہ کرنا الگ معاملہ تھا۔

بالآخر جولائی 2026 میں امریکی وفاقی عدالت نے مصنفین کے ساتھ اینتھروپک کے 1.5 ارب ڈالر کے تصفیے کی منظوری دے دی۔ اسے امریکا میں کاپی رائٹ سے متعلق اب تک کے سب سے بڑے تصفیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ عدالت کے مطابق معاوضے کا بڑا حصہ ان کتابوں سے متعلق تھا جنہیں غیر قانونی طور پر حاصل کیا گیا تھا۔

یہ فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے ایک پیچیدہ قانونی فرق سامنے آتا ہے کہ اے آئی کو کتاب سے سکھانا اور وہ کتاب غیر قانونی طریقے سے حاصل کرنا 2 الگ قانونی سوالات ہیں۔

گوگل بھی کتابوں کے مقدمے میں گھِر گیا

یہ تنازع صرف اینتھروپک تک محدود نہیں رہا۔ جولائی 2026 میں معروف پبلشرز ہیچیٹ، سینگج اور ایلسیویر اور معروف مصنف اسکاٹ ٹورو نے گوگل کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ ان کا الزام ہے کہ گوگل نے لاکھوں کاپی رائٹ شدہ تحریری کام اپنے جیمنی اے آئی ماڈلز کی تیاری اور تربیت کے لیے استعمال کیا۔

مزید پڑھیے: اے آئی کا پیٹ بھرنے کے لیے کتابیں جلا کر تلف کی جانے لگیں؟ علمی ذخائر کو ٹیکنالوجی سے نیا خطرہ

مقدمہ دائر کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ ان کتابوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور نہ ہی مصنفین اور پبلشرز کو اس استعمال کا معاوضہ دیا گیا۔

گوگل کے لیے یہ مقدمہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں فکشن، نان فکشن، بچوں کی کتابوں، یادداشتوں، شاعری، تعلیمی مواد اور علمی تحریروں سمیت بہت بڑے پیمانے پر مواد کے استعمال کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ابھی اس مقدمے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا، اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ گوگل نے کاپی رائٹ قانون کی خلاف ورزی ثابت شدہ طور پر کی ہے۔ فی الحال یہ فریقین کے الزامات اور دفاع کا معاملہ ہے۔

میٹا کے خلاف بھی مصنفین اور پبلشرز متحد

مئی 2026 میں پانچ بڑے پبلشرز اور معروف مصنف اسکاٹ ٹورو نے میٹا اور اس کے سربراہ مارک زکربرگ کے خلاف بھی مقدمہ دائر کیا۔

ہیچیٹ، میکملن، میک گرا ہل، ایلسیویر اور سینگج سمیت مدعیان کا الزام ہے کہ میٹا نے لاکھوں کتابیں اور دیگر تحریری مواد اپنے لاما اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے غیر قانونی طور پر حاصل اور استعمال کیا۔

مصنفین اور پبلشرز کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اے آئی نے ان کی کتابیں پڑھ لیں بلکہ یہ ہے کہ ان کی تخلیقی محنت کو ایک ایسے تجارتی نظام کی بنیاد بنانے کے لیے استعمال کیا گیا جو بعد میں خود نئے متن تیار کرکے انہی انسانی تخلیق کاروں سے مقابلہ کرسکتا ہے۔

میٹا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی کی تربیت میں کاپی رائٹ شدہ مواد کا استعمال بعض حالات میں امریکی قانون کے تحت منصفانہ استعمال کے زمرے میں آ سکتا ہے اور کمپنی مقدمے کا بھرپور دفاع کرے گی۔

اصل تنازع ’کتاب پڑھنے‘ سے کہیں بڑا ہے

یہاں ایک اہم بات سمجھنی ضروری ہے۔ اے آئی کسی انسان کی طرح کتاب کو ایک بار پڑھ کر اسے اپنی لائبریری میں محفوظ نہیں رکھتی۔

بڑے زبان ماڈلز کو تربیت دیتے وقت بڑی مقدار میں متن کمپیوٹرز کے ذریعے پروسیس کیا جاتا ہے تاکہ نظام زبان کے نمونے، الفاظ کے باہمی تعلقات، اندازِ تحریر اور معلومات کے درمیان تعلقات سیکھ سکے۔

مزید پڑھیں: مزاح نگاری مصنوعی ذہانت کے بس کی بات نہیں، مصنفین

مصنفین کا اعتراض یہ ہے کہ اگر یہ عمل ان کے کاپی رائٹ شدہ کام کی غیر مجاز نقل کے بغیر ممکن نہیں تو پھر اس نقل کے لیے اجازت اور معاوضے کا نظام ہونا چاہیے۔

اے آئی کمپنیاں اور ان کے حامی دوسری طرف یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ تربیت کے دوران مواد کا استعمال ایک نئے اور تبدیلی پیدا کرنے والے مقصد کے لیے ہوتا ہے اور اس لیے بعض حالات میں اسے منصفانہ استعمال قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسی اختلاف نے ایک ایسا قانونی خلا پیدا کر دیا ہے جس میں ٹیکنالوجی بہت تیزی سے آگے بڑھ چکی ہے لیکن کاپی رائٹ کے پرانے قوانین ابھی ان نئے سوالات کے واضح جواب نہیں دے رہے۔

کیا اے آئی سے بننے والی کتابیں اس بحث کو مزید اہم بنا رہی ہیں؟

یہ سوال اب اس لیے بھی زیادہ اہم ہوگیا ہے کہ اے آئی صرف پرانی کتابیں پڑھ نہیں رہا، بلکہ انہی ٹیکنالوجیز کی مدد سے نئی کتابیں بھی تیار کی جا رہی ہیں۔

حالیہ تحقیق میں ایمیزون پر فروخت ہونے والی ہزاروں خود شائع شدہ کتابوں میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی نشاندہی ہوئی ہے۔

اس صورت حال نے مصنفین کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ ان کی کتابیں ایک طرف اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں اور دوسری طرف انہی ماڈلز سے تیار ہونے والا مواد مارکیٹ میں انسانی مصنفین سے مقابلہ بھی کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: مصنفین مصنوعی ذہانت کے ہاتھوں کام کھو بیٹھنے کے خدشے کا شکار

یہی وہ نکتہ ہے جس پر آنے والے برسوں میں کاپی رائٹ کے مقدمات کا ایک بڑا حصہ منحصر ہوسکتا ہے کہ اگر اے آئی کمپنی کسی مصنف کی کتاب سے تربیت حاصل کرکے ایسا نظام بناتی ہے جو لاکھوں نئی تحریریں پیدا کرسکتا ہے تو اس عمل سے حاصل ہونے والا معاشی فائدہ کس کا حق ہے؟

برطانیہ بھی فیصلہ کن بحث میں

یہ مسئلہ امریکا تک محدود نہیں ہے۔ برطانیہ میں بھی حکومت، پبلشرز، مصنفین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان اے آئی اور کاپی رائٹ کے مستقبل پر بحث جاری ہے۔

برطانوی حکومت نے سنہ 2024 میں ایک ایسے ماڈل پر مشاورت کی تھی جس کے تحت اے آئی کمپنیوں کو کاپی رائٹ شدہ مواد پر تربیت کی اجازت دی جاسکتی تھی جبکہ حقوق رکھنے والوں کو اس استعمال سے الگ ہونے یعنی ’آپٹ آؤٹ‘ کا حق دیا جاتا۔

تاہم تخلیقی صنعتوں کی جانب سے شدید اعتراضات سامنے آئے۔ مارچ 2026 میں برطانوی حکومت نے کہا کہ اب یہ آپٹ آؤٹ والا وسیع استثنائی ماڈل اس کی ترجیح نہیں رہا۔ حکومت نے تسلیم کیا کہ اس معاملے میں شواہد اور قانونی پالیسی ابھی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔

برطانوی پارلیمانی کمیٹی نے بھی اے آئی کمپنیوں کے لیے تربیتی مواد کے بارے میں زیادہ شفافیت اور ایسے کاپی رائٹ اصلاحات سے گریز پر زور دیا ہے جو لائسنسنگ معاہدوں کے لیے مصنفین کی ترغیب کم کریں۔

مصنفین کیا چاہتے ہیں؟

مصنفین اور ان کی نمائندہ تنظیموں کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ان کے کام کو اے آئی کی تربیت میں استعمال کرنے سے پہلے اجازت، شفافیت اور مناسب معاوضے کا نظام قائم کیا جائے۔

امریکی مصنفین کی تنظیم ’آترز گلڈ‘ اے آئی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ ایسے لائسنسنگ نظام کی حمایت کر رہی ہے جس میں مصنفین اپنے کام کے اے آئی استعمال پر کنٹرول رکھ سکیں اور اس کے بدلے معاوضہ حاصل کرسکیں۔

مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کی کہانیاں انسانی تحریروں پر بازی لے گئیں، نئی تحقیق کے حیران کن نتائج

دوسری طرف اے آئی کمپنیوں کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ جدید ماڈلز کی تربیت کے لیے بے پناہ مقدار میں مواد درکار ہوتا ہے۔ اگر ہر کتاب، مضمون یا تحریر کے لیے الگ اجازت لینا ضروری قرار دیا جائے تو ماڈلز کی تربیت کا موجودہ کاروباری ماڈل انتہائی مہنگا اور پیچیدہ ہوسکتا ہے۔

فیصلہ صرف کتابوں کا نہیں ہوگا

اے آئی اور کاپی رائٹ کی یہ جنگ دراصل اس سوال کا فیصلہ کرے گی کہ انسانی تخلیقی کام سے مشینیں کس حد تک سیکھ سکتی ہیں اور اس سیکھنے کی قیمت کون ادا کرے گا۔

اگر عدالتیں مصنفین کے حق میں سخت فیصلے دیتی ہیں تو اے آئی کمپنیوں کو مستقبل میں بڑے پیمانے پر لائسنسنگ معاہدے کرنے پڑسکتے ہیں۔ اس صورت میں کتابوں اور دیگر تخلیقی مواد کے لیے ایک نئی تجارتی مارکیٹ وجود میں آسکتی ہے جہاں مصنفین اپنے کام کو اے آئی تربیت کے لیے لائسنس کرکے آمدنی حاصل کریں۔

اگر عدالتیں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے وسیع تر منصفانہ استعمال کے مؤقف کو تسلیم کرتی ہیں تو اے آئی کی تربیت نسبتاً آسان رہ سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ انسانی تخلیق کاروں کے معاشی مفادات اور کتابی مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات کا سوال بدستور موجود رہے گا۔

مزید پڑھیے: اے آئی سے لکھی کتابوں کی یلغار: کیا تخلیقی مصنفین کے لیے مارکیٹ سکڑ رہی ہے؟

اور شاید یہی اس پوری قانونی جنگ کا سب سے اہم سوال ہے کہ اگر مستقبل کی اے آئی دنیا انسانی کتابوں، فن اور خیالات پر تعمیر ہورہی ہے تو اس مستقبل میں ان انسانوں کا حصہ کیا ہوگا جن کے کام نے مشینوں کو سیکھنے کا موقع دیا؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی