کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں متحدہ اپوزیشن اتحاد حکومت کے لیے خطرہ ہے؟

ہفتہ 22 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) پاکستان اور تحریک تحفظ آئین پاکستان نے پارلیمنٹ سے متحدہ اپوزیشن کے قیام پر اتفاق کرلیا۔ دونوں کی اہم ملاقات کے بعد جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز متحدہ اپوزیشن کے قیام کا باضابطہ اعلان کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن جماعتیں متحدہ محاذ بنانے پر اصولی طور پر متفق ہوچکی ہیں، فضل الرحمان

ملک میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی رابطوں نے ایک بار پھر سیاسی منظرنامے کو گرم کر دیا ہے۔ جے یو آئی، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ملاقاتوں اور ممکنہ مشترکہ حکمت عملی کے بعد یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا نیا اپوزیشن اتحاد حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن سکتا ہے یا یہ محض حکومت پر دباؤ بڑھانے کی سیاسی کوشش ہے۔

جے یو آئی کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ کے مطابق سیاسی رابطوں میں سب سے بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ جب بات چیت کسی نتیجے کے قریب پہنچتی ہے تو رابطے منقطع ہوجاتے ہیں اور کئی ماہ بعد دوبارہ کوشش شروع ہوتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں بھی بات چیت کے کئی دور ہوچکے ہیں، تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ موجودہ کوشش کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان اختلاف براہ راست بانی پی ٹی آئی سے متعلق نہیں بلکہ بعض معاملات میں دونوں جماعتوں کے درمیان موجود سیاسی اختلافات سے متعلق ہے۔ ان کے بقول معاملات طے ہونے کی جانب بڑھ رہے ہیں اور اگر یہ اختلافات دور ہوگئے تو اپوزیشن جماعتیں مل کر آگے بڑھنے کی پوزیشن میں آسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ساتھ رابطے اور پی ٹی آئی کے ساتھ الگ مفاہمت، دونوں عمل بیک وقت جاری رہ سکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی کسی حتمی مفاہمت یا مشترکہ احتجاج کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

مزید پڑھیے: مولانا فضل الرحمان کی بلوچستان میں بڑھتی دلچسپی کی وجہ کیا ہے؟

کامران مرتضیٰ کے مطابق جے یو آئی کی کوشش ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان جو بھی اتفاق رائے ہو اور اسے تحریری شکل دی جائے تاکہ اس اتفاق رائے کو کارکنوں اور عوام کے سامنے بھی پیش کیا جاسکے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما بیرسٹر عقیل ملک نے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کو سیاسی جماعتوں کے معمول کے رابطوں کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف ایک ملاقات کو اپوزیشن اتحاد کی حتمی شکل قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

ان کے مطابق سیاسی جماعتیں اپنے منشور، سیاسی مفادات اور موجودہ سیاسی پوزیشن کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہیں اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ ملاقاتیں کس سمت آگے بڑھتی ہیں۔

بیرسٹر عقیل ملک نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے اتحادیوں کے مسائل حل کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی ایسا کرتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی جانب سے بھی حکومت کے بارے میں قدرے نرم رویہ نظر آنا شروع ہوا ہے اور بعض معاملات میں قانونی راستہ اختیار کیا جا رہا ہے جسے سیاسی رنجش کے بجائے آئینی و قانونی عمل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کی رائے اور مشاورت سے ہونا چاہیے، مولانا فضل الرحمان

تاہم پی ٹی آئی کے سینیٹر عون عباس نے حکومت کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے بیانات اور اس کے اقدامات میں تضاد نظر آتا ہے۔

عون عباس کے مطابق حکومت کو اس بات کا خوف محسوس ہورہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان، پی ٹی آئی اور دیگر جماعتیں مل کر ایک مؤثر اپوزیشن اتحاد قائم نہ کرلیں اسی لیے حکومت کی جانب سے سیاسی رابطوں اور پیشکشوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جے یو آئی اور پی ٹی آئی کا آئندہ پیر کو مشترکہ پارلیمانی اجلاس ہوگا جس میں دونوں جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز شریک ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے: مال دینا آسان، جان دینا مشکل کام ہوتا ہے، گورنر سندھ کی مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید، بیان واپس لینے کا مطالبہ

ان کے مطابق اجلاس میں مشترکہ لائحہ عمل پر بات ہوگی اور یہی وہ مرحلہ ہوگا جہاں دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی تعاون کی سمت زیادہ واضح ہوسکتی ہے۔

عون عباس نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی اپوزیشن کے وسیع تر سیاسی تعاون میں شامل ہونے پر خوش آمدید کہا جائے گا اگرچہ پیپلز پارٹی اس وقت حکومت کا حصہ ہے اور پارلیمان میں بعض مواقع پر حکومت کے حق میں ووٹ بھی دیتی ہے۔

ان کے مطابق ماضی میں پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان کچھ اختلافات ضرور موجود تھے تاہم اب ان میں کمی آرہی ہے۔ اگر پیر کے اجلاس میں دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی طے کرنے میں کامیاب ہوگئیں تو حکومت پر سیاسی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: کارگل کے شہداء پر بیان، متحدہ مدارس کونسل نے مولانا فضل الرحمان سے لاتعلقی کیوں اختیار کی؟

عون عباس نے مزید کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا انحصار اس کے آئندہ فیصلوں پر ہوگا۔ اگر حکومت سیاسی کشیدگی کم کرنے، بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق معاملات اور دیگر اہم مسائل پر اعتماد سازی کے اقدامات کرتی ہے تو بات چیت کا راستہ کھل سکتا ہے تاہم اگر ایسے اقدامات نہ کیے گئے تو مذاکرات کی گنجائش محدود رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘