اپوزیشن جماعتیں متحدہ محاذ بنانے پر اصولی طور پر متفق ہوچکی ہیں، فضل الرحمان

جمعرات 20 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمانی سطح پر مشترکہ کردار مؤثر بنانے اور متحدہ اپوزیشن تشکیل دینے پر اصولی طور پر متفق ہوگئی ہیں، اس حوالے سے مزید مشاورت جاری رہے گی۔

اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان آج ابتدائی مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس بھی شریک تھے۔

یہ بھی پڑھیں: نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کی رائے اور مشاورت سے ہونا چاہیے، مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اصولی طور پر طے کیا گیا ہے کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب پیش رفت کی جائے گی تاکہ پارلیمان میں مشترکہ کردار زیادہ مؤثر انداز میں ادا کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا اجلاس تھا، مزید مشاورت ہوگی اور تمام اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔

انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے متحدہ اپوزیشن میں شامل ہونے سے متعلق سوال پر کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ ہے، اس لیے وہ اپوزیشن جماعتوں کی بات کر رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جانا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے، محسن نقوی کا بیان، مولانا فضل الرحمان کے بیان پر سخت ردعمل، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کیا کہا؟

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان کے مطابق ملاقات میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں کو مؤثر بنانے، پارلیمانی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے اور مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں انہیں جلد از جلد اسپتال منتقل کرکے بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ شرکا نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور انہیں انسانی و طبی بنیادوں پر فوری علاج کی سہولت ملنی چاہیے۔

اپوزیشن رہنماؤں نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومت کے رویے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے بجائے اسے سنا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: کارگل کے شہداء پر بیان، متحدہ مدارس کونسل نے مولانا فضل الرحمان سے لاتعلقی کیوں اختیار کی؟

ملاقات میں حکومت کی پالیسیوں، پارلیمان میں اپوزیشن کے کردار اور آئین و جمہوریت کے تحفظ کے لیے آئندہ کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں وفد نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات میں آئندہ قانون سازی، قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن کی واپسی، چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری سمیت انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن اور پیپلز پارٹی کے درمیان رابطہ کاری پر زور دیا گیا تھا۔

محمود خان اچکزئی نے بھی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت کی خاطر سیاسی قوتوں کو متحد ہونا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالی مسائل حل نہ ہوئے تو بی پی ایل منعقد نہیں کریں گے، تمیم اقبال

واٹس ایپ اب کاروباری اداروں سے صارفین کے جوابات پر بھی فیس وصول کرے گا

پاکستانی کوہ پیما عاصمہ مشتاق اسپینٹک سر کرنے کے بعد انتقال کرگئیں

بی این پی رہنما مرزا فخرالاسلام عالمگیر بنگلہ دیش کے نئے صدر منتخب

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 27 پیسے اور ڈیزل ایک روپے 64 پیسے مہنگا

ویڈیو

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

شاہی خاندان سے تعلقات بہتر ہوگئے، شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کا 6 سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپسی کا فیصلہ

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان ہوں گے، صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن متفق

کالم / تجزیہ

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟