نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ہفتہ 22 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے نوجوان نسل خصوصاً ’جن زی‘ سے رابطے کے لیے اپنی طویل عرصے سے قائم رسمی اور طاقتور رہنما کی شبیہ سے ہٹ کر سوشل میڈیا پر غیر رسمی انداز اپنانا شروع کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی بھارت میں ہونے والے نوجوانوں کے حالیہ احتجاج کے بعد سامنے آئی، جب حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سوشل میڈیا پر اپنے بیانیے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

نریندر مودی نے گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران ایک مضبوط، بااثر اور انتہائی منظم سیاسی رہنما کی شبیہ بنانے پر توجہ دی۔ ان کی تقاریر، سرکاری نشریات اور عوامی انداز عموماً انتہائی منصوبہ بندی کے تحت ہوتی رہی ہیں، تاہم اب 75 سالہ بھارتی وزیراعظم نوجوان نسل سے قربت ظاہر کرنے کے لیے انسٹاگرام پر بالکل مختلف انداز اختیار کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق مودی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر حالیہ ہفتوں میں ’گیٹ ریڈی ود می‘ جیسی ریلز، سیلفی انداز کی ویڈیوز اور نوجوانوں سے براہِ راست گفتگو سامنے آئی ہے۔ وہ نوجوانوں کو ’دوست‘ کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں اور جن زی میں مقبول زبان اور انداز اپنانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ مودی کے انسٹاگرام پر 10 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں، جس کے باعث وہ دنیا کے سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے سیاسی رہنماؤں میں شامل ہیں۔

تاہم بی بی سی کے مطابق مودی اور بی جے پی کی یہ اچانک تبدیلی نوجوانوں کو متاثر کرنے کے بجائے کئی مواقع پر مذاق کا موضوع بن گئی۔ مودی کی پہلی سیلفی ویڈیو، جس میں انہوں نے نوجوانوں کے احتجاج پر بات کرتے ہوئے ’دوستو‘ کہا، سوشل میڈیا صارفین نے مختلف طنزیہ ایڈیٹس اور مزاحیہ تبصروں کے ساتھ دوبارہ شیئر کی۔ ویڈیو کے کیمرہ اینگل، روشنی اور مودی کے انداز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ بھارت میں رواں سال ہونے والے نوجوانوں کے احتجاج ہیں، جو میمز، لائیو اسٹریمز اور انسٹاگرام ریلز کے ذریعے تیزی سے پھیلے۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے شروع ہونے والی طنزیہ آن لائن تحریک اتنی مؤثر ثابت ہوئی کہ اس کے نتیجے میں ایک وفاقی وزیر کو استعفیٰ دینا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:ہیروں کے ارب پتی تاجر ’نیرَو مودی‘ کا عروج سے اربوں کے بینک فراڈ تک کا سفر

بی بی سی کے مطابق بھارت کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی 35 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جبکہ 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والی جن زی نسل 2029 کے عام انتخابات تک ملک کے بڑے ووٹر گروہوں میں شامل ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی اب انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تاہم نوجوانوں کا کہنا ہے کہ محض مقبول زبان، میمز اور ریلز بنانے سے ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ 22 سالہ گنی مالیہ کے مطابق مودی حکومت کی اچانک سوشل میڈیا سرگرمی کی اصل وجہ اور اس کا وقت زیادہ اہم سوال ہے، کیونکہ احتجاج کے دوران اٹھائے گئے بنیادی مسائل اب بھی موجود ہیں۔

بی بی سی نے ماہرین کے حوالے سے لکھا ہے کہ انسٹاگرام پر توجہ حاصل کرنا اور وہاں سیاسی بیانیے پر کنٹرول رکھنا 2 مختلف چیزیں ہیں۔ مودی کی ایک ریل 40 کروڑ سے زیادہ مرتبہ دیکھی گئی، لیکن اسے نوجوان صارفین نے طنزیہ انداز میں دوبارہ پیش کیا، جس سے ویڈیو کا اصل پیغام ہی تبدیل ہوگیا۔

ماہرین کے مطابق بی جے پی اگرچہ انتخابی کامیابی کے لیے صرف سوشل میڈیا پر انحصار نہیں کرتی، تاہم نوجوان نسل کے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل رویوں نے پارٹی کو سیاسی ابلاغ کے نئے طریقے سیکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا میں گوردوارے پر حملہ، مذہبی پیشوا سمیت 2 افراد زخمی، ملزم گرفتار

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

وزیراعظم کا بگھی سواری پر سخت نوٹس، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو تحریری انتباہ

اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘