نئی تحقیق میں 64 ہزار سے زائد افراد کے طویل مدتی ڈیٹا کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ وقت کے ساتھ ایل ڈی ایل اور نان ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ دل کے دورے کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمایاں طور پر وابستہ ہے، جبکہ ٹرائی گلیسرائیڈز کی سطح میں تبدیلی کا ایسا اہم تعلق نہیں پایا گیا۔
مزید پڑھیں:معروف دوا صرف ایک بیماری تک محدود نہیں، تحقیق میں حیران کن طبی فائدہ سامنے آگیا
تحقیق میں 64,031 ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات استعمال نہیں کر رہے تھے۔ شرکا کی اوسطاً سات سال تک نگرانی کی گئی، جس دوران 599 افراد کو دل کا دورہ پڑا۔
محققین کے مطابق جن افراد میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، ان میں سب سے کم اضافے والے افراد کے مقابلے میں دل کے دورے کا خطرہ 96 فیصد زیادہ تھا۔ نان ایچ ڈی ایل کولیسٹرول میں سب سے زیادہ اضافے والے گروپ میں یہ خطرہ قریباً 95 فیصد زیادہ پایا گیا، جبکہ مجموعی کولیسٹرول میں اضافے کے ساتھ خطرہ 56 فیصد زیادہ تھا۔

اس کے برعکس، ایچ ڈی ایل کولیسٹرول میں اضافے کا تعلق دل کے دورے کے 31 فیصد کم خطرے سے پایا گیا، جبکہ دیگر عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد ٹرائی گلیسرائیڈز کی سطح میں تبدیلی اور دل کے دورے کے خطرے کے درمیان نمایاں تعلق نہیں ملا۔
محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ وقت کے ساتھ کولیسٹرول کی سطح میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنا دل کے دورے کے خطرے کی نشاندہی میں اہم ہوسکتا ہے اور صرف ایک مرتبہ کی لپڈ رپورٹ پر انحصار کافی نہیں۔
مزید پڑھیں:دل کی دھڑکن اتنی غیر یکساں کیوں، یہ کس بات کے اشارے ہوسکتے ہیں؟
تاہم تحقیق کو اس معنی میں نہیں لیا جانا چاہیے کہ ٹرائی گلیسرائیڈز غیر اہم ہیں۔ اس مطالعے کا بنیادی سوال وقت کے ساتھ لپڈ کی سطح میں تبدیلی اور myocardial infarction کے تعلق سے متعلق تھا، اور نتائج کا مطلب یہ ہے کہ اس مخصوص مطالعے میں ٹرائی گلیسرائیڈز کی تبدیلی نے دل کے دورے کے خطرے کی پیش گوئی نہیں کی۔














