طالبان نے نیا پولیس قانون منظور کرلیا ہے، جس کے تحت افغانستان بھر میں ہر قسم کے مظاہروں پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ پولیس کے اختیارات میں بھی نمایاں اضافہ کردیا گیا ہے۔
طالبان کی وزارتِ انصاف نے ہفتے کو ’شُرطہ قانون‘ کے نام سے نیا قانون جاری کیا، جس کی منظوری طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ نے دی ہے۔ قانون کے تحت پولیس کو امن و امان برقرار رکھنے اور سیکیورٹی سے متعلق طالبان کے احکامات پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:افغانستان میں احتجاج بھی جرم، طالبان نے ملک گیر پابندی لگا دی
قانون کے آرٹیکل 50 کے تحت افغانستان بھر میں تمام مظاہروں پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ آرٹیکل 14 کی شق 4 کے مطابق سزاؤں پر عمل درآمد کے دوران تصاویر یا ویڈیوز بنانا بھی ممنوع ہوگا۔
نئے قانون کے تحت مشتبہ افراد کو حراست میں رکھنے کی زیادہ سے زیادہ مدت بھی 3 دن سے بڑھا کر 10 دن کردی گئی ہے۔
آرٹیکل 41 میں پولیس کو مشتبہ افراد سے نمٹنے کے لیے وسیع اختیارات دیے گئے ہیں۔ پولیس مشتبہ افراد کو اللہ سے ڈرنے اور دوسروں کے حقوق پامال نہ کرنے کی تنبیہ کرسکے گی، جبکہ تادیبی اقدامات اور سخت زبان استعمال کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔
افغانستان میں طالبان رجیم کی غیرقانونی پابندیاں، افغان خواتین خودکشی پر مجبور
طالبان رجیم کے تاریک دور میں افغان خواتین کیخلاف صنفی امتیاز کو ریاستی پالیسی بنادیا گیا
“دی گارڈین” نے طالبان رجیم کی افغان خواتین کیخلاف یک طرفہ اور سخت گیر پالیسیوں کو آشکار کردیا@KulAalam pic.twitter.com/SuGvDdHwj1— Media Talk (@mediatalk922) August 23, 2026
قانون کے تحت پولیس مشتبہ افراد کو توبہ کرنے پر مجبور کرسکتی ہے، جبکہ سنگین جرائم کے الزام میں گرفتار افراد کو موت کی دھمکی دینے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ بار بار سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو پولیس خود سزا بھی دے سکے گی۔
نئے قانون میں پولیس کی ذمہ داریوں میں عوامی امن و امان برقرار رکھنا، شہری ہوائی اڈوں اور ان کی تنصیبات کی حفاظت، غیر مجاز اسلحے کی روک تھام اور افغان شہریوں کی املاک و اثاثوں کا تحفظ شامل ہے۔
قانون کے تحت پولیس کے مختلف شعبوں میں فائر بریگیڈ، قدرتی آفات سے نمٹنے، ٹریفک پولیس اور امن و امان کے یونٹس بھی شامل ہوں گے۔ سرحدوں پر پولیس افغانستان میں داخل ہونے اور باہر جانے والے افراد، گاڑیوں اور سامان کی نگرانی کی ذمہ دار ہوگی، جبکہ ٹریفک پولیس گاڑیوں کی نقل و حرکت، ڈرائیونگ لائسنس، نمبر پلیٹس اور ٹریفک حادثات کی تحقیقات بھی کرے گی۔














