خیبر پختونخوا کے اضلاع بنوں اور لکی مروت میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور بڑھتی ہوئی سماجی انارکی کی بڑی وجہ صوبائی حکومت کی کمزور گرفت کے باعث فعال ’سیلف اسٹائلڈ‘ پولیس امن کمیٹیاں بن گئی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹس اور سینیئر صحافیوں کے انکشافات کے مطابق یہ کمیٹیاں دراصل جرائم پیشہ عناصر اور ملازمت سے برطرف سابق پولیس اہلکاروں کا گروہ ہیں جو ریاست کے اندر ریاست قائم کیے ہوئے ہیں۔
بنوں اور لکی مروت میں آپریشنل یہ پولیس امن کمیٹیاں کسی قانونی چھتری کے بغیر کام کر رہی ہیں۔ ان میں شامل اکثریت ان سابق پولیس اہلکاروں کی ہے جنہیں خیبر پختونخوا پولیس کے آئی جی پی اختر حیات خان کے دور میں سنگین الزامات پر ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا۔ ان اہلکاروں پر بدعنوانی، ڈسپلن کی خلاف ورزی، بدتمیزی اور سب سے بڑھ کر دہشتگرد گروہوں کے ساتھ روابط اور ان کے سہولتکار ہونے کے شواہد انکوائریوں میں سامنے آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان کا فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی کا دعویٰ جھوٹا، دونوں کا گٹھ جوڑ برقرار
ایک سینیئر صحافی نے نام نہاد امن کمیٹیوں کے کرتوتوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کہ لکی مروت کے سادہ لوح عوام کو امن کے نام پر لوٹا جا رہا ہے۔ یہ گروہ غیر قانونی طور پر پولیس پوسٹوں پر کھڑے ہو کر لوگوں سے پیسے بٹور رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ عناصر نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی اسمگلنگ اور ڈارک فنانسنگ میں ملوث ہیں۔ رپورٹس کے مطابق میر عالمی، انگارہ تنگ اور قبول خیل جیسی مختلف چیک پوسٹوں پر یہ نام نہاد امن رضاکار بھاری رشوت لے کر این سی پی گاڑیوں کو گزرنے دیتے ہیں۔ یہ گاڑیاں نہ صرف ریاست کو ٹیکس کے نقصان کا باعث بن رہی ہیں بلکہ سنگین جرائم اور دہشتگردی کی کارروائیوں میں بھی استعمال ہو رہی ہیں۔ مثال کے طور پر شانگلہ میں چینی باشندوں پر ہونے والے حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی نان کسٹم پیڈ تھی۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ کمیٹیاں امن کے بجائے دشمنیاں پال رہی ہیں اور معاشرے میں خوف و ہراس پھیلا رہی ہیں۔ یہ عناصر دفعہ 144 اور اسلحے کی نمائش پر پابندی کے باوجود سرعام جدید اسلحہ لے کر گھومتے ہیں، جس سے سوشل انارکی پھیل رہی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار فوج اور پولیس کے دیگر دستوں کی مدد کے بجائے یہ گروہ پولیس کے اندر موجود حاضر سروس اہلکاروں کے ساتھ بھی دست و گریبان ہیں، جو صوبائی حکومت کی انتظامی کمزوری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجگور میں فتنہ الہندوستان کے اہم سرغنہ وزیر ولد جمال سمیت 5 دہشتگرد ہلاک
ان کمیٹیوں کے ارکان کے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک واقعے میں، جب سیکیورٹی فورسز اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ کارروائی میں ٹی ٹی پی کمانڈر نصرت کو ہلاک کیا، تو امن کمیٹی کے ایک رکن نے ہلاک کمانڈر کا اسلحہ چوری کر لیا۔ اسی طرح، امپورٹڈ سگریٹس کی پنجاب اسمگلنگ کی کوشش ناکام ہونے اور مال ضبط ہونے کے بعد انہی سگریٹس کو لکی مروت شہر میں فروخت کیا گیا۔
اخلاقی پستی کا یہ عالم ہے کہ 10 دسمبر 2025 کو امن کمیٹی کے ایک رکن کانسٹیبل وحید اللہ نے چھٹی جماعت کے ایک معصوم بچے کو جنسی خواہش پوری نہ کرنے پر بے دردی سے قتل کر دیا اور الزام نامعلوم افراد پر لگا کر کیس رفع دفع کرنے کی کوشش کی۔ ایک اور واقعے میں کمیٹی نے کانسٹیبل داوڑ خان کو محض اس لیے شہید کر دیا کیونکہ اس نے سوشل میڈیا پر لکی مروت امن کمیٹی کی مخالفت کی تھی۔
ذرائع کے مطابق یہ پولیس امن کمیٹیاں، جو خود کو ریاست سمجھتی ہیں، نہ تو آئی جی پی خیبر پختونخوا کے احکامات مانتی ہیں اور نہ ہی صوبائی حکومت کو خاطر میں لاتی ہیں۔ انہوں نے اپنا متوازی نظام قائم کر رکھا ہے، اور صوبائی حکومت کی مجرمانہ خاموشی اور کمزوری نے انہیں لکی مروت اور بنوں میں کھلی چھٹی دے رکھی ہے، جس کا خمیازہ مقامی عوام بھگت رہے ہیں۔














