بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا ہے کہ ضلع دُکی کی ایک اہم سڑک کو تیزاب گردی کا شکار ہونے والی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی بہادری، ثابت قدمی اور بطور طبی ماہر خدمات کے اعتراف میں کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: تیزاب حملے کی متاثرہ ڈاکٹر ماہ نور کو مزید علاج کے لیے امریکا منتقل کرنے کا فیصلہ
29 سالہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کوئٹہ کے سول اسپتال میں ڈاکٹر ہیں۔ جون میں اسپتال کے ایک ملازم نے ان پر تیزاب پھینک دیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ چہرے، سینے، ٹانگوں اور جسم کے دیگر حصوں پر شدید جھلسنے کے باعث بری طرح زخمی ہوگئی تھیں۔
پولیس کے مطابق حملے کے بعد ملزم کی شناخت ہمایوں شاہ کے نام سے ہوئی، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فرار ہونے کی کوشش کے دوران ایک بس میں تلاش کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کو مقابلے کے دوران ہلاک کردیا گیا۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی بہادری، حوصلے اور احساسِ ذمہ داری کو سراہا اور بتایا کہ دُکی کی ایک سڑک کو ان کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کا عزم بلوچستان کی بیٹیوں کے لیے ایک مثال ہے۔
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بہادر اور فرض شناس شہریوں کی خدمات کو تسلیم کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
سڑک کا نیا نام کیا ہوگا؟
وزیراعلیٰ کی جانب سے شیئر کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی بہادری، ثابت قدمی اور بطور طبی ماہر خدمات کے عوامی اعتراف کے طور پر حاجی امان اللہ مسجد روڈ دُکی کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے ’ڈاکٹر ماہ نور ناصر روڈ، دُکی‘ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تیزاب حملے کے خلاف ملک بھر میں تشویش
ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملے کی مختلف حلقوں کی جانب سے شدید مذمت کی گئی تھی، جن میں ڈاکٹرز، سرکاری حکام اور عدلیہ کے لوگ بھی شامل تھے۔ واقعے کے بعد کوئٹہ کے ڈاکٹرز نے ہڑتال بھی کی اور حملے کی مکمل اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
واقعے کے چند ہی روز بعد سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا تھا کہ تیزاب گردی قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان حکومت کا ڈاکٹر ماہ نور کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ
ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملے کے بعد سامنے آنے والے اس عدالتی فیصلے کو تیزاب گردی کے واقعات کے خلاف ایک اہم پیشرفت قرار دیا گیا تھا۔













