علی بابا کا اے آئی کے لیے 10.2 ارب ڈالر کے حصص فروخت کرنے کا فیصلہ

پیر 24 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا نے مصنوعی ذہانت سے متعلق منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 10.2 ارب ڈالر مالیت کے نئے حصص فروخت کرنے کا اعلان کردیا۔

مزید پڑھیں:علی بابا نے اب تک کا سب سے طاقتور مصنوعی ذہانت کا ماڈل متعارف کرا دیا

رائٹرز کے مطابق علی بابا 80 ارب ہانگ کانگ ڈالر مالیت کے 71 کروڑ نئے حصص 112.70 ہانگ کانگ ڈالر فی حصص کے حساب سے جاری کرے گی۔ یہ ہانگ کانگ میں فہرست ہونے والی کسی کمپنی کی جانب سے اب تک کی سب سے بڑی اضافی حصص فروخت ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس فروخت سے حاصل ہونے والی تمام خالص رقم مصنوعی ذہانت کی مکمل صلاحیتیں، جن میں چپس، بنیادی ڈھانچہ اور اے آئی ماڈلز کی تیاری و تنصیب شامل ہے، مزید بہتر بنانے پر خرچ کی جائے گی۔

مزید پڑھیں:امریکا میں چینی مصنوعی ذہانت ماڈلز پر پابندی کا امکان

حصص کی فروخت کی خبر سامنے آنے کے بعد پیر کو ہانگ کانگ اسٹاک مارکیٹ میں علی بابا کے حصص کی قیمت قریباً 8 فیصد گر گئی۔ کمپنی نے حالیہ سہ ماہی میں اے آئی پر بھاری اخراجات کے باعث خالص منافع میں 75 فیصد کمی بھی رپورٹ کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

علی ظفر نے شمالی امریکا میں دھوم مچا دی، ’روشنی ٹور‘ میں 75 ہزار سے زائد مداح اُمڈ آئے

بھارت میں نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی، ایمنسٹی انٹرنیشنل

صدر آصف علی زرداری کا کیٹی بندر پورٹ کی مربوط ترقی پر زور

انگلینڈ کے فاسٹ بولر برائیڈن کارس نائٹ کلب کے باہر ہتھکڑیوں میں پکڑے گئے

شوہر اور بیٹیوں پر تشدد کا مقدمہ: آمنہ سعید کی ضمانت منظور، اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری

ویڈیو

بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟

ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا متبادل تیار، چینی سائنسدانوں کا کرشماتی علاج، 90 فیصد ہارٹ فیلیئر مریض صحتیاب

ٹیک ٹائکون زکربرگ نے تاریخی آئرش قلعہ خرید لیا، حقیقت اور قیمت جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟