جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے متحدہ اپوزیشن کے قیام کے اعلان کے بعد پاکستانی سیاست میں 2020 میں بننے والی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی یاد تازہ ہوگئی ہے تاہم موجودہ اپوزیشن اتحاد اور ماضی کی پی ڈی ایم میں جماعتوں کی شمولیت، سیاسی اہداف اور اس وقت کے حالات کے اعتبار سے نمایاں فرق موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں متحدہ اپوزیشن اتحاد حکومت کے لیے خطرہ ہے؟
سب سے اہم فرق یہ ہے کہ ماضی میں پی ڈی ایم کی بڑی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف متحد تھیں جبکہ اب تحریک انصاف خود مولانا فضل الرحمان اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مشترکہ اپوزیشن کا حصہ بن رہی ہے۔
موجودہ سیاسی صف بندی میں محمود خان اچکزئی کا کردار بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی ماضی کی پی ڈی ایم کا حصہ تھے اور اس اتحاد میں نائب صدر کی حیثیت سے بھی ذمہ داری ادا کرچکے ہیں۔
سنہ 2021 میں محمود خان اچکزئی نے پی ڈی ایم کے بیانیے کو ملک کے کروڑوں عوام کا بیانیہ قرار دیا تھا لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مل کر موجودہ متحدہ اپوزیشن کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔
مزید پڑھیے: مولانا فضل الرحمان کی بلوچستان میں بڑھتی دلچسپی کی وجہ کیا ہے؟
اس سلسلے میں حالیہ ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمان نے متحدہ اپوزیشن کے قیام پر اصولی اتفاق کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمان میں مشترکہ کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔
پی ڈی ایم میں کون کون شامل تھا؟
ستمبر 2020 میں قائم ہونے والی پی ڈی ایم میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی (ف)، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)، نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی سمیت مختلف اپوزیشن جماعتیں شامل تھیں۔ اس اتحاد کی قیادت مولانا فضل الرحمان کے پاس تھی جبکہ محمود خان اچکزئی بھی اس کے اہم عہدیداروں میں شامل تھے۔
اس وقت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں اپوزیشن میں تھیں اور عمران خان کی حکومت کو ہدف بنائے ہوئے تھیں۔ پی ڈی ایم کا بنیادی سیاسی مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا اور عمران خان کو اقتدار سے الگ کرنا تھا۔
پی ڈی ایم کا سب سے نمایاں مطالبہ عمران خان سے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دینے کا تھا۔ اس کے ساتھ آزاد اور شفاف انتخابات، انتخابی اصلاحات، پارلیمان کی بالادستی، آئین کی حکمرانی اور سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے خاتمے جیسے مطالبات بھی اس کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ تھے۔
مزید پڑھیں: نئے صوبے، محسن نقوی کا بیان، مولانا فضل الرحمان کے بیان پر سخت ردعمل، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کیا کہا؟
پی ڈی ایم نے حکومت کے خلاف جلسوں، احتجاج، لانگ مارچ اور اسمبلیوں سے استعفوں سمیت مختلف آپشنز استعمال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں اپوزیشن نے عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اپریل 2022 میں عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا۔
موجودہ متحدہ اپوزیشن میں کون ہے؟
موجودہ مرحلے میں جے یو آئی (ف)، تحریک انصاف، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، مجلس وحدت المسلمین اور دیگر اپوزیشن قوتوں کے درمیان تعاون بڑھ رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کی حالیہ ملاقات کے بعد متحدہ اپوزیشن کی طرف بڑھنے پر اصولی اتفاق کیا گیا ہے تاہم اس اتحاد کی حتمی تنظیم، جماعتوں کی مکمل فہرست اور مشترکہ منشور ابھی ماضی کی پی ڈی ایم کی طرح مکمل شکل میں سامنے نہیں آیا۔
موجودہ اتحاد کا سب سے بڑا فرق تحریک انصاف کی شمولیت ہے۔ سنہ 2020 میں تحریک انصاف حکومت میں تھی اور پی ڈی ایم اس حکومت کے خلاف بنی تھی۔ سنہ 2026 میں تحریک انصاف اپوزیشن میں ہے اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مشترکہ اپوزیشن تشکیل دے رہی ہے۔
دونوں اتحادوں کے درمیان ایک بنیادی فرق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی موجودہ پوزیشن بھی ہے۔ سنہ 2020 میں دونوں جماعتیں پی ڈی ایم کا حصہ تھیں جبکہ اب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کا حصہ ہیں۔ اسی وجہ سے مولانا فضل الرحمان نے موجودہ متحدہ اپوزیشن کی تشکیل کے لیے ان جماعتوں کے بجائے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مشاورت کی ہے۔
موجودہ اتحاد کے مطالبات کیا ہیں؟
موجودہ متحدہ اپوزیشن کا حتمی چارٹر ابھی پی ڈی ایم کے سنہ 2020 کے اعلامیے کی طرح سامنے نہیں آیا تاہم حالیہ مشاورت سے اس کی چند ترجیحات واضح ہورہی ہیں۔
ان میں پارلیمان میں مشترکہ اپوزیشن کا کردار، آئین کی بالادستی، سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن کے حقوق کا تحفظ، انتخابی معاملات، الیکشن کمیشن سے متعلق امور، عمران خان کے لیے مناسب طبی سہولیات اور سیاسی معاملات پر حکومت پر دباؤ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کارگل کے شہداء پر بیان، متحدہ مدارس کونسل نے مولانا فضل الرحمان سے لاتعلقی کیوں اختیار کی؟
محمود اچکزئی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے عمران خان کی صحت اور علاج کے معاملے کو بھی احتجاجی سیاست کا اہم مطالبہ بنایا گیا ہے۔ فروری 2026 میں اچکزئی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے دوران عمران خان کے علاج کو ان کا حق قرار دیتے ہوئے مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رکھا تھا تاہم جے یو آئی اس میں شامل نہ تھی۔
دوسری طرف مولانا فضل الرحمان پارلیمانی کردار کو اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کے حالیہ اعلان کے مطابق اپوزیشن جماعتیں مشترکہ پارلیمانی کردار ادا کرنے پر متفق ہوئی ہیں جس کے بعد مزید مشاورت اور دیگر جماعتوں کو ساتھ ملانے کا عمل جاری ہے۔
محمود اچکزئی دونوں اتحادوں کے درمیان اہم کڑی
موجودہ صورتحال میں محمود خان اچکزئی کا کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ دونوں ادوار میں اپوزیشن اتحاد کا حصہ رہے ہیں۔ پی ڈی ایم کے دور میں وہ اس اتحاد کے نائب صدر تھے اور عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک میں شریک رہے۔ اب وہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے مولانا فضل الرحمان اور تحریک انصاف سمیت دیگر اپوزیشن قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کررہے ہیں۔
اصل فرق حکومت مخالف ایجنڈے کا ہے
پی ڈی ایم کا فوری مقصد نسبتاً واضح اور یہ تھا کہ عمران خان حکومت کو اقتدار سے ہٹانا تھا جبکہ موجودہ اتحاد کا فوری مقصد ابھی اس قدر واضح اور یک نکاتی نہیں ہے۔ اس کا پہلا مرحلہ پارلیمان میں مشترکہ اپوزیشن کا کردار اور حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانا دکھائی دیتا ہے جبکہ احتجاجی سیاست اور لانگ مارچ کی طرف جانے کا امکان بھی موجود ہے۔
دونوں اتحادوں کے درمیان ایک اور بنیادی فرق یہ ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے درمیان عمران خان حکومت کے خلاف ایک واضح مشترکہ مقصد موجود تھا، جبکہ موجودہ اتحاد میں شامل جماعتوں کے سیاسی مفادات اور ترجیحات ایک دوسرے سے خاصی مختلف ہیں۔ تحریک انصاف کا بنیادی زور عمران خان اور اپنے سیاسی و انتخابی معاملات پر ہے، جے یو آئی (ف) کا اپنا سیاسی ایجنڈا ہے جبکہ محمود اچکزئی آئین کی بالادستی، پارلیمان کی خودمختاری اور وفاقی سیاسی ڈھانچے سے متعلق مؤقف رکھتے ہیں۔
اس لیے موجودہ اتحاد کے لیے سب سے بڑا چیلنج صرف حکومت کے خلاف متحد ہونا نہیں بلکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے متضاد مفادات کو ایک مشترکہ کم از کم ایجنڈے پر برقرار رکھنا بھی ہوگا۔
موجودہ اتحاد کی سب سے نمایاں سیاسی تبدیلی یہ ہے کہ 5، 6 سال پہلے کے بڑے سیاسی حریف اب ایک ہی اپوزیشن صف میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔
سنہ2020 میں مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جے یو آئی (ف)، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور محمود اچکزئی کی جماعت سمیت مختلف جماعتیں عمران خان حکومت کے خلاف متحد تھیں۔ آج مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی حکومت میں ہیں،ؤ جبکہ مولانا فضل الرحمان اور تحریک انصاف ایک ہی اپوزیشن پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔













