مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے ابھرنے والی امریکی کمپنی اینتھروپک تاریخ کی سب سے بڑی ابتدائی حصص فروخت میں سے ایک کی تیاری کر رہی ہے، جس کے ذریعے کمپنی تقریباً ایک کھرب ڈالر تک سرمایہ حاصل کرسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اینتھروپک کے مالیاتی مشیروں نے ممکنہ سرمایہ کاروں کو بتایا ہے کہ کمپنی ابتدائی عوامی حصص فروخت کے ذریعے تقریباً ایک کھرب ڈالر حاصل کرنے کا ہدف رکھ سکتی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں 5 سال پرانی کمپنی کی مجموعی قدر تقریباً 2 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو رواں سال جون میں ہونے والے آخری سرمایہ کاری مرحلے میں مقرر کی گئی 965 ارب ڈالر کی قدر سے دگنی سے بھی زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی کے بعد اینتھروپک کا اے آئی ماڈل بھی حدود توڑ بیٹھا، 3 اداروں کے سسٹمز تک رسائی کا انکشاف
رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی ملکیت اسپیس ایکس نے رواں سال جون میں ابتدائی حصص فروخت کے ذریعے 85.7 ارب ڈالر حاصل کیے تھے اور 1.77 کھرب ڈالر کی مجموعی قدر کے ساتھ تاریخ کی بڑی عوامی پیشکش کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
بلوم برگ کے مطابق اینتھروپک اپنی حصص فروخت کا حجم اسپیس ایکس کے برابر یا اس سے بھی زیادہ رکھنے کی توقع کر رہی ہے۔ اگر کمپنی اپنے منصوبے پر عمل کرتی ہے تو اس کے حصص رواں سال خزاں میں بازار میں لین دین کے لیے پیش کیے جاسکتے ہیں۔
View this post on Instagram
اینتھروپک نے جون میں عوامی سطح پر حصص جاری کرنے کے لیے دستاویزات جمع کرائی تھیں اور نیویارک ٹائمز کے مطابق کمپنی جلد ہی اس حوالے سے تفصیلی دستاویز جاری کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اینتھروپک کے سی ای او کی اہلیہ کامی کلارک کے جیفری ایپسٹین سے رابطے سامنے آگئے
ممکنہ طور پر حصص بازار میں آنے کے بعد اینتھروپک اپنی بڑی حریف کمپنی اوپن اے آئی سے پہلے عوامی کمپنی بن جائے گی۔ اوپن اے آئی نے 2027 میں حصص بازار میں آنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔
2021 میں ڈاریو اور ڈینیئلا اموڈی اور اوپن اے آئی کے سابق عہدیداروں نے اینتھروپک کی بنیاد رکھی تھی۔ کمپنی نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ اس کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پروگرامنگ معاون ’کلاڈ کوڈ‘ کمپنی کی مقبول ترین مصنوعات میں شامل ہے، جس کے باعث کمپنی کی متوقع سالانہ آمدن 47 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
تاہم اینتھروپک کو کئی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ جدید چپس اور سرورز کی قلت کے باعث کمپیوٹنگ بنیادی ڈھانچے کی بڑھتی ہوئی طلب کمپنی کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اینتھروپک نے محققین کے لیےکلاڈ سائنس متعارف کرا دی، مصنوعی ذہانت سے سائنسی تحقیق میں تیزی لانے کا دعویٰ
دوسری جانب اینتھروپک کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بھی کشیدہ ہیں۔ مارچ میں امریکی حکومت نے کمپنی کو اپنے معاہدے ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ امریکی حکومت نے اس کی وجہ رسد کے نظام کو لاحق خطرات قرار دیے تھے، جبکہ اینتھروپک نے امریکی فوج کو اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تک غیر محدود رسائی دینے سے انکار کیا تھا۔
اس کے بعد سے اینتھروپک اور امریکی حکومت کے درمیان تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے۔














