خواتین کرکٹ میں اب کئی کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں تاہم کچھ خواتین کرکٹرز ایسی بھی ہیں جنہوں نے مردوں کی ٹیموں کے ساتھ یا ان کے خلاف کھیل کر اس گیم کی روایتی حدود کو توڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مردانہ ٹیم کے ساتھ میچز سے ایشیا کپ میں مدد ملے گی، قومی ویمنز ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا کا اظہار اعتماد
پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم نے بھی ایشیا کپ 2026 کی تیاری کے لیے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے دبئی روانگی سے قبل لاہور کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں مردوں کی ٹیم کے خلاف 2 ٹی 20 میچز کھیلے۔ ان مقابلوں میں سینیئر اور جونیئر مرد کھلاڑی شامل تھے۔
پاکستان نے آج تک خواتین ایشیا کپ نہیں جیتا۔ قومی ٹیم سال 2012 اور سال 2016 میں مسلسل 2 مرتبہ فائنل تک پہنچی لیکن دونوں مرتبہ اسے روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ گزشتہ 2 ایڈیشنز میں بھی پاکستان سیمی فائنل سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
فاطمہ ثنا کی قیادت میں قومی ٹیم نے اس مرتبہ تیاریوں میں کوئی کسر نہ چھوڑنے کے لیے مردوں کی ٹیم کے خلاف یہ 2 میچز کھیلے۔
خواتین کرکٹ کی تاریخ میں اس نوعیت کی مثالیں اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہیں کہ خواتین کھلاڑی مختلف سطحوں پر مردوں کے ساتھ کھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
مزید پڑھیے: فاطمہ ثنا کی عالمی کرکٹ میں دھوم، کینیڈا سپر 60 کی فرنچائز سے معاہدہ
ایسی ہی 5 نمایاں خواتین کرکٹرز جنہوں نے مردوں کی ٹیموں کے لیے کھیلا
کلیئر کونر: برائٹن کالج کی پہلی ٹیم
انگلینڈ کی سابق کپتان کلیئر کونر نے فروری 2026 میں انگلینڈ ویمن کی منیجنگ ڈائریکٹر اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی ڈپٹی چیف ایگزیکٹو کی ذمہ داریوں سے علیحدگی اختیار کی۔
کونر نے 18 سال سے زائد عرصے تک انگلینڈ اور ویلز میں خواتین اور لڑکیوں کی کرکٹ کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور خواتین کرکٹ کو شوقیہ کھیل سے پیشہ ورانہ دور میں منتقل کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
تاہم ان کے کرکٹ کیریئر کی بنیاد اس وقت پڑی جب انہیں برائٹن کالج کی پہلی مردوں کی کرکٹ ٹیم میں کھیلنے کا موقع ملا۔
کونر نے بعد میں اپنے کالج کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کے کوچ نے اس بات کی پروا نہیں کی کہ کرکٹ ان کے لیے زیادہ خطرناک، جسمانی طور پر سخت یا مشکل ہوسکتی ہے۔
مزید پڑھیں: فاطمہ ثنا نے تاریخ رقم کر دی، ویمنز دی ہنڈرڈ کھیلنے والی پہلی پاکستانی کرکٹر بن گئیں
کوچ کا مؤقف تھا کہ اگر کلیئر پہلی ٹیم کے لیے کھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں تو انہیں ضرور منتخب کیا جائے گا۔
یہ موقع کونر کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوا۔ انہوں نے انگلینڈ کے لیے 10 سال کرکٹ کھیلی جن میں 6 سال کپتان رہیں جبکہ سنہ 2005 میں خواتین ایشز دوبارہ جیتنے والی انگلش ٹیم کا بھی حصہ تھیں۔
ارن برنڈل: اومبی کرکٹ کلب ٹروجنز
23 مئی 2021 کو انگلینڈ کی سابق آل راؤنڈر ارن برنڈل نے اپنے 12 سالہ بیٹے ہیری کے ساتھ مردوں کی کلب کرکٹ میں تاریخ رقم کردی۔
Is this the first 100 opening partnership by a mum and son in men’s league cricket ??? @BBCSport @bbctms @SkyCricket @henrymoeranBBC @ConnorCricket @C_Edwards23 @SundayLeague13 pic.twitter.com/Lscl2PLIYq
— FirstCricketTrojans (@FirstTrojans) May 23, 2021
ماں اور بیٹے نے مل کر 143 رنز کی شراکت قائم کی اور اومبی کرکٹ کلب ٹروجنز کی جانب سے کھیلتے ہوئے نیٹلہم کرکٹ اکیڈمی الیون کو 10 وکٹوں سے شکست دی۔
برنڈل نے سنہ 2005 سے سنہ 2011 تک بین الاقوامی کرکٹ سے وقفہ لے کر ماں بننے پر توجہ دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: فاطمہ ثنا کا ایک اور سنگ میل: صرف 15 گیندوں پر نصف سینچری بناکر ٹی 20 کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا
وہ مردوں کی پریمیئر لیگ کرکٹ میں سنچری بنانے والی پہلی خاتون بھی بنیں جب انہوں نے لنکن شائر پریمیئر لیگ میں لوتھ کی نمائندگی کرتے ہوئے مارکیٹ ریزن کے خلاف سنچری اسکور کی۔
انگلینڈ کے لیے اپنے 15 سالہ کیریئر میں برنڈل نے 2,852 رنز بنائے۔
کلوی وال ورک: والشاؤ کی پہلی ٹیم
سنہ2013 میں اس وقت 20 سالہ کلوی وال ورک نے انگلینڈ میں لنکاشائر کی قدیم ترین لیگز میں سے ایک بولٹن ایسوسی ایشن میں مردوں کے ساتھ کھیلنے والی پہلی خاتون بن کر تاریخ رقم کی۔
وال ورک نے کم عمری میں ہی کرکٹ شروع کردی تھی اور 8 سال کی عمر میں بَری کلب میں شامل ہونے کے بعد مختلف میچز میں عمدہ کارکردگی کے ذریعے والشاؤ کی پہلی ٹیم میں جگہ بنائی۔
وہ بعد میں انگلینڈ کی نمائندگی کرنے والی کھلاڑیوں میں شامل ہوئیں اور مردوں کے ساتھ کھیل کر خواتین کرکٹ کے لیے ایک نئی مثال قائم کی۔
کیٹ کراس: لنکاشائر کرکٹ کلب
انگلینڈ کی سابق فاسٹ بولر کیٹ کراس نے صرف 13 سال کی عمر میں سال 2005 میں لنکاشائر کے لیے سینیئر کاؤنٹی ڈیبیو کیا۔
ایک سال بعد وہ لنکاشائر کی اکیڈمی میں شامل ہونے والی پہلی خاتون بن گئیں۔
مزید پڑھیے: فاطمہ ثنا نے ٹی 20 میں 4 کیچ لے کر بسمہ معروف کا ریکارڈ توڑ دیا
اپنے ابتدائی کیریئر کے دوران خواتین کی ڈومیسٹک کرکٹ ابھی مکمل طور پر پیشہ ورانہ نہیں ہوئی تھی اس لیے کراس نے لنکاشائر کی مختلف مردوں کی ٹیموں کے لیے بھی کھیلنے کا تجربہ حاصل کیا۔
وہ لنکاشائر کی مختلف سطحوں پر کھیلنے والی واحد خاتون رہیں اور مختلف ٹیموں کے لیے مجموعی طور پر 239 وکٹیں حاصل کیں۔
بعد میں انہوں نے انگلینڈ کی نمائندگی کی اور تقریباً 12 سال تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی۔
ایلیس پیری: کرکٹ کے ساتھ فٹبال بھی
آسٹریلیا کی اسٹار آل راؤنڈر ایلیس پیری نے نہ صرف کرکٹ بلکہ فٹبال میں بھی اپنے ملک کی نمائندگی کی ہے۔ وہ آسٹریلیا کی واحد خاتون ہیں جنہوں نے کرکٹ اور فٹبال دونوں کے عالمی کپ میں ملک کی نمائندگی کی۔
2010 میں پیری نے سڈنی کی گریڈ کرکٹ میں مردوں کے خلاف کھیلنے والی پہلی خاتون بن کر تاریخ رقم کی۔
نوجوان پیری نے سڈنی کی جانب سے بلیک ٹاؤن کے خلاف پوئیڈون گرے شیلڈ ٹی ٹوئنٹی میچ میں شرکت کی اور شاندار بولنگ کرتے ہوئے 4 اوورز میں صرف 14 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ انہیں میچ کی خطرناک ترین فاسٹ بولر قرار دیا گیا۔
&
Pakistan captain Fatima Sana’s media talk in Lahore | Camp Ahead of ACC Women’s Asia Cup#BackOurGirls | #AsiaCup pic.twitter.com/d2rXHZuatF
— PCB Media (@TheRealPCBMedia) August 24, 2026
یہ تجربہ ان کے شاندار بین الاقوامی کیریئر کی جانب ایک اور اہم قدم ثابت ہوا۔ پیری نے سنہ 2007 میں آسٹریلیا کے لیے بین الاقوامی ڈیبیو کیا اور بعد میں ٹیم کی اہم ترین کھلاڑیوں میں شامل ہوگئیں۔
وہ آسٹریلیا کی ایسی ٹیموں کا حصہ رہیں جنہوں نے 7 ٹی 20 عالمی کپ اور 2 ون ڈے عالمی کپ جیتے۔
سنہ2020 میں پیری نے بھارتی کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر کو بھی سوشل میڈیا پر ایک اوور کھیلنے کا چیلنج دیا تھا تاکہ آسٹریلیا میں جنگلات کی آگ سے متاثرہ افراد کے لیے فنڈز جمع کیے جاسکیں۔ ٹنڈولکر نے چیلنج قبول کیا اور اس خصوصی ایک اوور کے مقابلے سے ہونے والی چیریٹی میچ کی آمدنی سے متاثرہ کمیونٹیز کے لیے لاکھوں ڈالر جمع کیے گئے۔
مزید پڑھیے: ویمنز ایشیا کپ 2026: قومی خواتین ٹیم کا مردانہ اسکواڈ کے ساتھ پریکٹس میچ
خواتین کرکٹرز کی یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ کھیل میں صلاحیت کا تعلق صرف صنف سے نہیں بلکہ محنت، مہارت اور کارکردگی سے ہے۔ مردوں کے ساتھ کھیلنے والی ان کھلاڑیوں نے نہ صرف اپنی انفرادی صلاحیت ثابت کی بلکہ خواتین کرکٹ کی حدود کو بھی وسیع کیا۔














