پاکستان قومی ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے کہا ہے کہ دبئی میں 28 اگست سے 13 ستمبر تک کھیلے جانے والے ایشیا کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں ان کی ٹیم نے دباؤ سے نمٹنے اور مشکل حالات سے ہم آہنگ ہونے پر خصوصی توجہ دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برمنگھم فینکس کی فتح کے بعد فاطمہ ثنا کی جوڈ بیلنگھم سے ملاقات کی ویڈیو وائرل
فاسٹ بولر و آل راؤنڈر فاطمہ ثنا ایشیا کپ کے اس اہم ٹورنامنٹ میں قومی ٹیم کی کارکردگی میں واضح بہتری لانے کے لیے پرعزم ہیں۔
ایشیا کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں قومی ویمنز ٹیم نے مردوں کی ٹیم کے ساتھ پریکٹس میچز کی سیریز کھیلی ہے۔ کپتان فاطمہ ثنا کے مطابق ان سیشنز کا مقصد میچ کے دوران دباؤ کی صورتحال اور چیلنجنگ حالات سے جلد از جلد ہم آہنگ ہونے میں مدد حاصل کرنا تھا۔
فاطمہ ثنا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقابلہ جاتی کرکٹ کی اہمیت کہ کسی بھی بڑے ٹورنامنٹ سے قبل مسابقتی اور سخت کرکٹ کھیلنا سب سے اہم ہوتا ہے اور ہم نے بحیثیت ٹیم پریشر میں بہتر کارکردگی دکھانے کی پوری کوشش کی ہے۔
دباؤ اور فیصلہ سازی
انہوں نے تسلیم کیا کہ ماضی میں ٹیم کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی جس کے لیے دباؤ کی صورتحال میں زیادہ دلیرانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیے: فاطمہ ثنا کی عالمی کرکٹ میں دھوم، کینیڈا سپر 60 کی فرنچائز سے معاہدہ
انہوں نے بتایا کہ پریکٹس کے دوران بیٹرز اور بولرز کو مشکل سچوئیشن میں رکھ کر پریکٹس کروائی گئی تاکہ اہم مواقع پر صحیح فیصلے کیے جا سکیں۔
مرد کرکٹرز کے ساتھ پریکٹس کا فائدہ: فاطمہ ثنا نے بتایا کہ مرد کرکٹرز کے ساتھ کھیلنے سے پاور ہٹنگ اور دباؤ میں شاٹس کھیلنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں بہت مدد ملی ہے جس کا فائدہ بین الاقوامی میچز میں ہوگا۔
فیلڈنگ پر خصوصی توجہ
کپتان نے فیلڈنگ کو ایسا شعبہ قرار دیا جہاں ٹیم نمایاں بہتری لا سکتی ہے۔ ایک نوجوان اسکواڈ ہونے کے ناطے کھلاڑیوں کی توانائی اور چستی سے فیلڈنگ کا معیار بلند کر کے زیادہ میچز جیتے جا سکتے ہیں۔
ویمنز کیریبین پریمیئر لیگ میں کھیلنے والی پہلی پاکستانی خاتون کرکٹر بننے کے تجربے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اسے اپنے لیے اعزاز قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے دیگر پاکستانی ویمن کرکٹرز کے لیے بھی غیر ملکی لیگز کے راستے کھلیں گے۔
بھارت کے خلاف میچ پر بات کرتے ہوئے قومی کپتان نے واضح کیا کہ ٹیم اپنا تمام تر فوکس صرف ایک مخصوص میچ پر رکھنے کے بجائے پورے ٹورنامنٹ کو میچ بائے میچ جیتنے اور مثبت نتائج حاصل کرنے پر مرکوز رکھے گی۔
مزید پڑھیں: فاطمہ ثنا نے تاریخ رقم کر دی، ویمنز دی ہنڈرڈ کھیلنے والی پہلی پاکستانی کرکٹر بن گئیں
انہوں نے امید ظاہر کی کہ دبئی کی کنڈیشنز سے واقفیت بھی پاکستان کے حق میں بہتر ثابت ہوگی۔














