‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ

بدھ 26 اگست 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تقسیم کے بارے میں فکشن اور نان فکشن سے میں نے مختلف مضامین میں بہت سی کہانیاں بیان کی ہیں پر اس دفعہ میں نے تقسیم کی درد بھری کہانی شاعری کی زبانی سنانے کی ٹھانی ہے جس کا خیال انڈین فلم ‘میں واپس آؤں گا’ سے آیا ہے۔

اس فلم کے ایک سین میں ایک اہم کردار نرویر ریڈ کلف کی بھد اڑاتا ہے کہ اس نے عجلت میں اس خطے کو تقسیم کرنے کے لیے ایسی لکیر کھینچی جس کے بارے میں وہ یکسر بے خبر تھا۔ بدطینت ریڈکلف کے بارے میں نرویر کے خیالات سن کر ذہن ڈبلیو ایچ آڈن کی نظم  ’پارٹیشن‘ کی طرف منتقل ہوا۔

16,17 سال پہلے معروف ادیب مسعود اشعر نے نظم کی تعریف کرتے ہوئے اس کی نقل مجھے دی تھی۔ اس کے بعد میں نے اسے اردو کے دو ممتاز نقادوں شمس الرحمٰن فاروقی اور شمیم حنفی کے الگ الگ ترجمے کی صورت میں بھی پڑھا۔ یہ ریڈکلف کے خلاف تخلیقی فردِ جرم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انکار کا اعزاز

فاروقی صاحب نے اس نظم کے ساتھ نوٹ میں ریڈکلف اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی مجرمانہ ذہنیت اور ہیرا پھیری آشکار کی جس کی وجہ سے فسادات کو ہوا ملی اور برطانوی حکومت نے انہیں روکنے کی تدبیر بھی نہیں کی تھی۔

شمس الرحمٰن فاروقی نے لکھا:

’یہ آڈن کے طنزیہ، بے تکلف، کھردرے لہجے کی نمائندگی تو کرتی ہی ہے… یہ نظم ہمارے اردو ہندی کے عام فساداتی ادب سے بالکل مختلف ہے اور اس انسانی المیے کی طرف ہمیں متوجہ کرتی ہے جو تقسیم کے باعث ملک میں ہر طرف رونما ہوا۔ اس نظم میں انسانی اقدار کے بامعنی اور برحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے اور خود ریڈکلف کی ایمانداری بھی معرضِ شک میں لائی گئی ہے۔ ایسی کوئی نظم یا افسانہ اردو میں کسی نے نہ لکھا…آڈن کی نظم ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ سیاسی شاعری ہو تو ایسی ہو‘۔

فاروقی صاحب نے اس نظم کے ترجمے میں اصل عنوان کو برقرار رکھنے کے بجائے اسے ’ریڈ کلف صاحب کا بٹوارہ‘ کر دیا ہے جبکہ شمیم صاحب نے اسے ’تقسیم‘ ہی رہنے دیا ہے۔ اب آپ نظم کا ترجمہ ملاحظہ کیجیے جو فاروقی صاحب کے کلیات ’مجلسِ آفاق میں پروانہ ساں‘ میں بھی شامل ہے:

کم سے کم اتنا تو ہے کہ جب وہ اس فریضے کی انجام دہی کے لیے پہنچے جو انہیں تفویض ہوا تھا، تو اس وقت وہ بالکل غیر جانب دار تھے۔

جس سرزمین کا بٹوارہ کرنے وہ آئے تھے، انہوں نے اس کی جھلک بھی نہ دیکھی تھی۔

اور بٹوارہ خلقِ خدا کے دو ایسے گروہوں کے درمیان ہونا تھا جو

تشدد کی حد تک باہم دست و گریبان تھے۔ ان کے کھانے الگ، ان کے خدا سراسر مصالحت ناپذیر۔’وقت‘، لندن میں دورانِ ہدایت ان پر واضح کیا گیا، کم ہے۔ بہت دیر ہو چکی، اب امکان نہیں کہ آپس میں مزید مشورہ ہو یا معقولیت اور منطق پر مبنی بحث مباحثہ ہو۔

اب تو ایک ہی حل ہے: دونوں کو الگ کر دیا جائے۔ اور وائسرائے

کا خیال یہ ہے، جیسا کہ آپ کو ان کے مکتوب سے معلوم ہوگا…

آپ ان کے آس پاس جتنا کم نظر آئیں اتنا ہی اچھا ہو گا۔ اس لیے

ہم نے آپ کے قیام کا الگ انتظام کیا ہے۔

صلاح کاروں کے طور پر ہم آپ کے لیے چار جج مہیا کر سکتے ہیں، 2 ہندو، 2 مسلمان۔

مگر آخری فیصلہ ہمیشہ آپ ہی کے اختیار میں ہوگا۔

تو پھر ایک سنسان حویلی میں، چار طرف سے بند، پولیس والے دن رات

باغ میں پہرے پر مستعد، کہ کہیں کوئی قاتل نہ آدھمکے،

وہ کام میں جٹ گئے۔ اور کام تھا کروڑوں انسانوں کی تقدیر

کا فیصلہ کرنا۔ جو نقشے انہیں  مہیا تھے سب پرانے اور سال خوردہ تھے

اور مردم شماری کے اعداد و شمار، تقریباً یقینی ہے کہ غلط تھے۔

لیکن انہیں  چھان بین اور تصدیق کرنے کا وقت ہی کہاں تھا؟ اور نہ

ہی متنازعہ جگہوں کے موقع معائنے کا وقت تھا۔ اور پھر گرمی

بھی بلا کی تھی۔ اس پر طرہ یہ کہ انہیں  پیچش پڑنے لگی اور

بار بار جائے ضرورت جانا لگ گیا۔

لیکن کام 7 ہفتوں میں مکمل ہو ہی گیا۔ سرحدیں طے ہو گئیں،

ایک براعظم، بھلے یا برے تقسیم ہو گیا۔

اور اگلے دن انہوں  نے انگلستان کی راہ لی، جہاں وہ فوراً ہی

سارے معاملے کو بھول گئے، جیسا کہ اچھے وکیلوں کو کرنا ہی چاہیے۔ واپس جانے کو وہ تیار نہ تھے۔ جیسا کہ انہوں  نے اپنے کلب میں بتایا، انہیں ڈر تھا کہ کوئی انہیں  گولی نہ مار دے‘۔

مزید پڑھیے: فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ

فلم میں ریڈ کلف کے بارے میں نرویر کے خیالات نے آڈن کی اس نظم کی طرف متوجہ کیا تو پنجاب میں فسادات کے دوران انسانیت سوز واقعات کے مناظر سے فارسی کے معتبر شاعر مولانا عظامی کے سات شعروں کے اس درد بھرے قطعے کی طرف ذہن گیا جس کا عنوان تھا، ’15 اگست 1947‘

اسے میں نے ڈاکٹر خورشید رضوی کی چند ماہ پہلے شائع ہونے والی کتاب آمیزہ میں شامل مولانا عظامی کے بارے میں مضمون میں پڑھا ہے۔

خورشید رضوی صاحب نے ان سات اشعار کو اردو میں کچھ یوں منتقل کیا ہے:

میں نہیں جانتا کہ میں جاگ رہا ہوں  یا عالمِ خواب میں ہوں

سرزمینِ پنجاب میں ایک قیامت دیکھ رہا ہوں

جب تک کا زمانہ یاد پڑتا ہے

کبھی کسی نے دنیا کو ایسی آفت میں مبتلا نہیں دیکھا

ہر سمت، ہر جانب، ہر سُو

ہر راستے، ہر کوچے اور ہر گلی میں

ہر آنکھ سے خون کے آنسو جاری ہیں

ہر جگہ آہ و فغاں کا عالم ہے

ہر پہلو میں خنجر کا زخمِ کاری ہے

ہر زخم سے کیسی خون کی ندی جاری ہے

ہر طرف آگ کے شعلے بلند ہیں

جس پر انسانوں کے جسم

 دانۂ اسپند کی طرح بھن رہے ہیں

ریچھ کے بچوں کے ہاتھ میں تلوار ہے

اور ہر طرف وہ یوں جھپٹ رہے ہیں

جیسے شکاری شکار پر جھپٹتا ہے

’میں واپس آؤں گا‘ کی کہانی 95 برس کے ایشر سنگھ گریوال کے گرد گھومتی ہے جس کی یادداشت چلی جاتی ہے لیکن اسے سرگودھا بے حساب یاد آتا ہے۔ وہ اس خاکِ دامن گیر کے لیے تڑپتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے دوستو کہ جسے ریاض خیر آبادی کے اس مصرع کی صورت بیان کیا جا سکتا ہے:

وہ گلیاں یاد آتی ہیں جوانی جن میں کھوئی ہے

سرگودھا سے وابستہ تلخ و شیریں یادوں میں محبت کا قصہ بھی ہے جو تقسیم کی وجہ سے ناتمام رہا، البتہ اس فراق  کی کسک تادمِ آخر اسے  تڑپاتی رہی اور بقول میر لگتا یہی ہے کہ

اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا

ایشر سنگھ گریوال کے روپ میں نصیرالدین شاہ اداکاری کے اوج پر نظر آتے ہیں۔ فلم پروپیگنڈا اور فرقہ وارانہ تعصب کی پستی میں نہیں گرتی اور اس کا اسلوب انسان دوستی پر استوار رہتا ہے لیکن میری دانست میں یہ فلم کینو اور جیا کی محبت کی امر کہانی بننے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکی۔ کہیں ایک آنچ کی کسر محسوس ہوتی ہے۔

معروف فکشن نگار رفاقت حیات سے اس فلم کے بارے میں میری جو گفتگو ہوئی اس کا لبِ لباب یہ ہے:

’امتیاز علی کی نئی فلم جس میں تقسیم کو موضوع بنایا گیا ہے، اس میں کچھ کمزوریاں ایسی ہیں کہ اگر وہ نہ ہوتیں تو فلم کو چار چاند لگ جاتے۔ پہلی یہ، ایشر سنگھ سرگودھا سے ہندوستان جانے کے بعد صرف ایک مرتبہ 1953 میں سرگودھا کا چکر لگاتا ہے اور تب بھی وہ خود اپنی محبوبہ سے ملے بغیر چلا جاتا ہے۔ وہ اس کے بعد دوبارہ بھی آ سکتا تھا۔ دونوں ملکوں کے تعلقات 1965 کی جنگ سے پہلے اچھے تھے۔ دوسری بات یہ کہ امتیاز علی نے سرگودھا کے باسیوں کو شدھ اردو بولتے دکھایا ہے۔ اگر وہ اس علاقے کی پنجابی کا تڑکا لگا دیتے تو کیا ہی خوب ہوتا۔ اگر ان کی پنجابی اچھی نہیں ہے تو پھر وہ پنجابی آمیز اردو کو ہی استعمال کر لیتے؛ اگر وہ ایسا بھی کر لیتے تو کرداروں کی بولی زیادہ فطری یا حقیقت کے قریب محسوس ہوتی۔ اب یہ فلم دیکھ کر لگتا ہے سرگودھا پنجاب میں نہیں بلکہ لکھنؤ کے نزدیک کہیں واقع ہے‘۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ایشر سنگھ گریوال سڑک کے راستے سرگودھا جانے پر بضد اور یہ قبول کرنے سے انکاری ہے کہ بٹوارہ ہو چکا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان سرحد ہے۔ اس کی یہ ذہنی کیفیت منٹو کی کہانی ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ کی یاد بھی دلاتی ہے جس میں پاگلوں کی ایک ٹولی اس تذبذب میں ہے کہ وہ پاکستان میں ہیں یا ہندوستان میں۔ ان کے لیے دونوں ملکوں میں تمیز کرنا ممکن نہیں رہا: ’اگر ہندوستان میں ہیں تو پاکستان کہاں ہے! اگر وہ پاکستان میں ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ عرصے پہلے یہیں رہتے ہوئے بھی ہندوستان میں تھے!‘

ایشر سنگھ کی سرگودھا کے لیے بے قراری سے مجھے احمد راہی اور بلراج ساہنی ایک ساتھ یاد آتے ہیں۔

تقسیم سے پہلے گورنمنٹ کالج  لاہور کے طالب علم بلراج ساہنی 1962 میں پاکستان آئے تو وہ ایک معروف اداکار تھے۔ اس دورے میں اپنے آبائی شہر بھیرہ بھی گئے اور جنم بھومی راولپنڈی کا پھیرا بھی لگایا جہاں ان کی نال گڑی تھی۔ پنڈی سے لاہور واپسی پر ان کی ملاقات پنجابی کے مہان شاعر احمد راہی سے ہوتی ہے۔ گھر سے بچھڑنے کے پہلو سے وہ ہم درد تھے۔ ان کی پیڑ سانجھی تھی۔ اپنے گھر میں اجنبیوں کی طرح جانے کے تجربے کی اذیت سے وہ واقف تھے۔ دلگیر بلراج ساہنی کو انہوں نے اپنی پنجابی نظم سنائی تو وہ رونے لگے۔ راہی کے غم کے مقابلے میں انہیں  اپنا غم حقیر نظر آنے لگا کہ وہ امرتسر سے 30 میل کی دوری پر تھے۔

راہی نے بلراج ساہنی کو یہ نظم سنائی تھی:

دیس والیو! آپنے دیس اندر

اسیں آئے ہاں وانگ پردیسیاں دے

گھراں والیو! آپنے گھراں اندر

اسیں آئے ہاں وانگ پروہنیاں دے

ایس مٹی دی ککھ وچ ماں میری

سُتّی پئی اے سمیاں دی ہُوک بن کے

اس پانی نال پانی ہوئے نیر میرے

کسے بن کلڑے رُکھ وانگوں

دُھپاں چھاواں دے بھار نال ڈولنا واں

اپنی ماں دی قبر نوں لبھناں واں

بھیناں بھراواں دیاں ہڈیاں ٹولنا واں

تسیں دیس والے تسیں گھراں والے

اسیں بے گھرے، اسیں پردیسی

تسیں ہس کے سینے نال لا لتا

اساں روک کے اکھ پرچا لتی

تارے بجھے ہوئے فیر اک  وار چمکے

جہیدی آس نہیں سی، او آس پُگی

جیوے شہر میرا ، جیون شہرے والے

اسیں آئے، دعاواں ایہہ دے چلے

چارے کنیاں ساڈیاں ویکھ خالی

اسیں نال نا کچھ لے چلے

بلراج ساہنی نے یہ نظم سفرنامہ پاکستان میں نقل کی جو پنجابی میں لکھا گیا تھا۔ میرے پاس 60 سال پہلے دلی سے شائع ہونے والا اس کا اردو ترجمہ ’پاکستان کا سفر‘ ہے جس پر مترجم کا نام درج نہیں ہے۔ اس میں احمد راہی کی مذکورہ نظم جو بلراج ساہنی کے بقول انہوں نے امرتسر کا جوگی پھیرا لگانے کے بعد لکھی تھی، اس کا ترجمہ ان الفاظ میں پڑھنے کو ملتا ہے:

’دیس والو! اپنے دیس میں ہم پردیسیوں کی طرح آئے ہیں، گھر والو! اپنے گھر میں ہم مہمانوں کی طرح آئے ہیں۔

اس مٹی کی کوکھ میں میری ماں وقت کی ہُوک بن کر سوئی ہوئی ہے۔ اس پانی کے ساتھ میرے آنسو پانی ہو چکے ہیں اور یہاں کوک بن کر میری آس تڑپی تھی۔ کسی جنگل کے تنہا پیڑ کی طرح میں دھوپ چھاؤں کے بار سے ڈولتا ہوں۔ اپنی ماں کی قبر ڈھونڈتا ہوں۔ بہن بھائیوں کی ہڈیاں تلاش کرتا ہوں۔

آپ دیس والے ہیں۔ گھروں والے ہیں۔ ہم بے گھر ہیں، پردیسی ہیں۔ آپ نے ہنس کر چھاتی سے لگا لیا، ہم نے رو رو کر آنکھ کو تسکین دے لی۔ بجھے ہوئے تارے ایک بار پھر چمکے۔ جس کی امید نہیں تھی، وہ امید بر آئی۔ میرا شہر سلامت رہے۔ سلامت رہیں میرے شہر والے۔ ہم آئے تھے، اب یہ دعائیں دے کر جا رہے ہیں، دیکھ تو لیجیے ہماری چاروں کنیاں خالی ہیں، ہم اپنے ساتھ کچھ نہیں لے جا رہے‘۔

بلراج ساہنی کے بقول ’جب راہی آخری بند پر پہنچا تو خیال اپنے دکھ کی طرف بھی لوٹ پڑا۔ میں صوفے پر گر کر رونے لگا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ کون سے آنسو راہی کے لیے تھے اور کون سے اپنے لیے‘۔

مزید پڑھیں: جاوید میانداد کی ایک ناقابل فراموش اننگز کا تذکرہ

کمار پاشی نے کہا تھا کہ ’ایک کہانی ختم ہوئی ہے ایک کہانی باقی ہے‘، بلراج ساہنی نے اپنے حصے کی  کہانی سنا دی ہے اب کچھ احمد راہی کی بھی سن لینی چاہیے جو ان افراد میں شامل تھے جنہوں  نے لاہور ریلوے اسٹیشن سے مہمانِ عزیز کو رخصت کیا تھا۔ احمد راہی اس کے بعد خاصے بے چین رہے اور پھر درد و غم جمع کر کے بلراج ساہنی کے نام ایک نظم کہی جو احمد سلیم کے خیال میں یہ  نہ صرف راہی کے اپنے لیے  بلکہ یہ بچھڑنے والے لاکھوں کروڑوں لوگوں کے لیے بھی ہے۔ نظم کا منتخب حصہ مع رانا محمد آصف کے اردو ترجمے کے ملاحظہ ہو:

بیڑی اساں دی ادھ دریا ڈُبی

کجھ ڈب گئے، کجھ ترے وی نہ

میری پیڑ دے اصلی سانجھیا اوے

تیرے زخم ہرے، میرے بھرے وی نہ

میرے دیس وسیندے پردیسیا اوے

جیہڑا درد میرا، اوہو درد تیرا

ایتھوں جاندیاں چیکی سی روح تیری

اوتھوں آندیاں رویاں سی دل میرا

ایدوں ودھ کے ہور کیہ دکھ ہوسی

تیری اکھ ایتھے میری اکھ اوتھے

ٹٹے دلاں دا کیہ شمار کریئے

کئی لکھ ایتھے، کئی لکھ اوتھے

کیہو جیہا اجاڑیا آہلنا نیں

کوئی ککھ ایتھے کوئی ککھ اوتھے

(ہماری کشتی بیچ دریا ڈوب گئی۔ کچھ ڈوب گئے کچھ پار اتر نہ سکے۔ اے میرے دکھ کے شریکِ حقیقی! تیرے بھی زخم ہرے ہیں اور میرے زخم بھرے نہیں۔ میرے دیس میں بسنے والے اے پردیسی! جو درد میرا وہ تیرا بھی ہے۔ یہاں سے جاتے ہوئے چیخ اٹھی تھی روح تیری، وہاں سے آتے ہوئے رویا تھا دل میرا۔ اس سے بڑھ کر کیا دکھ ہوگا! تیری آنکھیں ادھر لگی ہیں اور میری ادھر۔ ٹوٹے ہوئے دلوں کا کیا شمار کیجیے، کئی لاکھ ادھر، کئی لاکھ ادھر۔ یہ کیسا آشیاں اجاڑا گیا ہائے، کوئی تنکا ادھر، کوئی تنکا ادھر)

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تربیتی پرواز کے دوران حادثے کا شکار، عملہ محفوظ

روات قلعے سے وادی کیلاش تک: پاکستان کے کونسے 12 تاریخی ورثے عالمی شناخت کی دوڑ میں شامل ہیں؟

پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ لگ بھگ 42 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

ویڈیو

پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ لگ بھگ 42 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

کالم / تجزیہ

اِکّو اَلف تیرے دَرکار

مولانا کیا چاہتے ہیں؟

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟