پولکا ڈاٹ کوئین یایوئی کوساما دنیا سے رخصت ہوگئیں

جمعرات 27 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا کی معروف ترین معاصر فنکاروں میں شمار ہونے والی جاپان کی یایوئی کوساما 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

ان کی کمپنی نے جمعرات کو ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 14 اگست کو وفات پا گئی تھیں، جس کے بعد دنیا بھر سے ان کے لیے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: مارول کی مشہور اداکارہ وائی چنگ ہو 82 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

’پولکا ڈاٹ کوئین‘ کے نام سے شہرت رکھنے والی یایوئی کوساما نے ذہنی صحت کے مسائل اور بصری کیفیات کو اپنے فن میں ڈھالتے ہوئے رنگا رنگ فن پارے تخلیق کیے۔

ان کے فن کی نمایاں خصوصیات میں نقطوں، جال نما ڈیزائن اور لامحدودیت کی علامتوں کا استعمال شامل تھا۔

ان کی کمپنی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ کوساما نے اپنی پوری زندگی فن کی تخلیق کے لیے وقف کی اور ایک ایسی جدت پسند فنکارہ کے طور پر عالمی شہرت حاصل کی جس کے فن کا دائرہ بصری فن، پرفارمنس، افسانہ نگاری اور شاعری تک پھیلا ہوا تھا۔

بیان کے مطابق کوساما نے زندگی کے آخری ایام تک مصوری جاری رکھی اور اپنا برش کبھی ایک طرف نہیں رکھا۔

یہ بھی پڑھیں: گیم آف تھرونز کے معروف اداکار مائیکل پیٹرک 35 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

’وہ ہمیشہ کی محبت اور لازوال روح کی تلاش میں آخری وقت تک مصروف رہیں۔‘

1929 میں ایک خوشحال اور قدامت پسند خاندان میں پیدا ہونے والی کوساما نے محض 10 برس کی عمر میں اپنے منفرد فن پارے بنانا شروع کر دیے تھے۔

اپنی خودنوشت میں انہوں نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک میز پوش پر سرخ پھولوں کا نقش دیکھنے کے بعد انہیں وہی نقش چھت، کھڑکیوں اور ستونوں پر بھی دکھائی دینے لگا اور یوں محسوس ہوا جیسے پورا کمرہ اس نقش سے بھر گیا ہو۔

جاپان میں فنون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کوساما 1950 کی دہائی کے اواخر میں امریکا منتقل ہوگئیں۔ معروف امریکی فنکارہ جارجیا اوکیف کی مدد سے انہوں نے نیویارک کے جدت پسند فنون کے حلقوں میں اپنی جگہ بنائی۔

مزید پڑھیں: بکنگھم پیلس سے ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ تک، ڈولی پارٹن کی یاد میں دنیا بھر میں خراجِ عقیدت

جاپانی خاتون ہونے کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنے کے باوجود کوساما نے بڑے حجم کی جرات مندانہ پینٹنگز اور 1960 کی دہائی میں منعقد ہونے والے متنازع فنّی مظاہروں کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ ان مظاہروں میں جسم پر پینٹنگ اور پولکا ڈاٹس کا نمایاں استعمال کیا جاتا تھا۔

کوساما کے فن پارے لاکھوں ڈالر میں فروخت ہوتے رہے، انہوں نے فیشن لائن بھی متعارف کرائی، ’چرچ آف سیلف آبلیٹریشن‘ قائم کیا اور خود کو ’ہائی پریسٹِس آف پولکا ڈاٹس‘ قرار دیا۔

1970 کی دہائی میں جاپان واپسی کے بعد انہوں نے ٹوکیو کے ایک نفسیاتی اسپتال میں داخلہ لیا، جہاں وہ اپنی زندگی کے آخری حصے تک مقیم اور فن تخلیق کرتی رہیں۔

1980 کی دہائی کے بعد کوساما کی عالمی شہرت میں ایک مرتبہ پھر نمایاں اضافہ ہوا۔ ان کے مشہور ’انفینٹی رومز‘، کدو کے مجسمے، خصوصاً جاپان کے فنون سے مشہور جزیرے ناؤشیما میں نصب زرد پولکا ڈاٹ کدو، اور دیگر فن پارے آج بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔

دنیا بھر سے فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات اور مداحوں نے کوساما کو خراج عقیدت پیش کیا۔ ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک نے انہیں ایک حقیقی بصیرت رکھنے والی فنکارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دنیا کو بے حد وسیع تخیل کی طاقت دکھائی۔

ٹوکیو میں یایوئی کوساما میوزیم کے باہر موجود مداحوں نے بھی ان کے فن کو منفرد اور عام لوگوں کے لیے قابلِ فہم قرار دیا۔

ان کے مطابق کوساما نے شوخ رنگوں، منفرد ڈیزائن اور روزمرہ اشیا کو فن میں تبدیل کرکے اپنی دنیا کو انتہائی منفرد انداز میں پیش کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نگاہے یا رسول اللہ نگاہے

معروف PUBG کنٹینٹ کریئیٹر فاروق احمد کا انتقال کیسے ہوا؟ موت کی وجہ سامنے آگئی

اسحاق ڈار کی برطانوی قومی سلامتی مشیر سے ملاقات، خطے کی سیکیورٹی اور پاک برطانیہ تعاون پر تبادلہ خیال

انڈونیشیا: بدعنوانی کے خلاف ہزاروں افراد پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گئے، پولیس کے ساتھ جھڑپیں

بچوں کے لیے فیس بک، انسٹاگرام پر بڑا کریک ڈاؤن، روزانہ صرف 2 گھنٹے استعمال کی اجازت

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ