پمز اسپتال میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے کے بعد قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے ارکان نے اسپتال کا دورہ کیا، جہاں انہیں واقعے سے متعلق بریفنگ دی گئی، تاہم کمیٹی ارکان نے بریفنگ میں دیے گئے بیانات میں تضاد پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
کمیٹی ارکان کے مطابق مختلف متعلقہ افراد کی جانب سے واقعے کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آئے۔ ایک نرس نے بتایا کہ اس نے ایئر کنڈیشنر میں اسپارک دیکھا، جبکہ دوسری کا کہنا تھا کہ اسے اتنا وقت بھی نہیں ملا اور وہ باہر بھاگی تو دھماکا ہو چکا تھا۔
ارکان کمیٹی کا کہنا تھا کہ واقعے کی ابتدائی تحقیقات 48 گھنٹوں میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور رپورٹ موصول ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
قائمہ کمیٹی کے رکن گل اصغر خان نے بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دی جانے والی وضاحتیں قابلِ اطمینان نہیں اور مختلف ذرائع سے 3 مختلف نوعیت کے بیانات سامنے آئے ہیں۔
رکن کمیٹی عالیہ کامران نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک منٹ کے اندر دھماکا ہوا اور اس کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تو واقعے کی اصل وجہ کیا تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں مبینہ غفلت کے ذمہ دار ڈاکٹرز، نرسز اور انتظامی افسران کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
کمیٹی رکن زہرا فاطمی نے کہا کہ محض کسی سیکریٹری یا انتظامی افسر کو چند ماہ کے لیے معطل کرنا کافی نہیں، بلکہ اگر تحقیقات میں غفلت ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف ایسی کارروائی ہونی چاہیے جو آئندہ کے لیے بھی مثال بنے۔
کمیٹی ارکان نے واضح کیا کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد معاملہ دوبارہ زیرِ بحث لایا جائے گا، اور اگر رپورٹ تسلی بخش نہ ہوئی تو معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔













