اسلام آباد ہائیکورٹ نے 3 عام قیدیوں کی نجی اسپتال منتقلی اور بیرونِ ملک اہلخانہ سے ٹیلی فونک رابطے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو ملنے والے ریلیف کی طرز پر 3 عام قیدیوں کو نجی اسپتال منتقل کرنے اور بیرونِ ملک موجود اہلخانہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی اجازت دینے سے متعلق درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی کا معاملہ: سپریم کورٹ نے توہین عدالت درخواست کی جلد سماعت کی استدعا مسترد کردی
جسٹس محمد آصف نے درخواستوں پر سماعت کی، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ اور جیل حکام عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ تینوں قیدیوں سے متعلق جیل حکام کی رپورٹس بھی عدالت میں پیش کی گئیں۔
اویس الطاف، الیاس خان اور محمد اسماعیل نامی قیدیوں نے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک قیدی اندرونی خون بہنے کے مرض میں مبتلا ہے، جو تھیلیسیمیا کی ایک قسم ہے اور گزشتہ 6 ماہ سے جیل میں ہے۔ اسے متعدد مرتبہ علاج کے لیے اسپتال لایا گیا، تاہم بڑی آنت میں خون بہنے کے باعث اس کی جان کو خطرہ ہے، لہٰذا اسے نجی اسپتال منتقل کیا جائے۔
وکیل نے کہا کہ اگر قیدی کو مناسب طبی سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو جیل حکام ذمہ دار ہوں گے۔ سپریم کورٹ کا 18 اگست کا حکم بھی موجود ہے اور یہ زیرِ سماعت قیدی کا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ نے سزا یافتہ قیدی کے معاملے میں بھی خصوصی علاج سے متعلق ریلیف دیا، تو عام قیدی کو یہ سہولت کیوں نہیں دی جاسکتی۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے علاج کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قواعد کے مطابق قیدی کو جیل سے باہر صرف سرکاری اسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے۔ وکیل کے مطابق قواعد میں ‘سول اسپتال’ کا لفظ درج ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی صحت کے متعلق افواہیں دم توڑ چکیں، پی ٹی آئی کے پاس اب اسٹریٹ پاور نہیں، شمائلہ رانا
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کے تحت بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے نجی اسپتال کے اخراجات خود برداشت کرنے کی اجازت دی گئی، اس لیے اگر ایک قیدی اپنے علاج کے اخراجات خود اٹھانے کو تیار ہے تو اسے بھی یہ سہولت ملنی چاہیے۔ قانون کے سامنے سب برابر ہیں اور ریاست کی نظر میں ان کے موکل کو بھی مساوی حقوق حاصل ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کا معاملہ ابھی زیرِ التوا ہے۔ وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2 روز میں بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا اور اس حکم سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ جیل کے قواعد پابند نوعیت کے نہیں ہیں۔
دوسرے درخواست گزار محمد اسماعیل کے وکیل ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ محمد اسماعیل بھی زیرِ سماعت قیدی ہے اور 6 ماہ سے جیل میں ہے۔ وہ دل کے عارضے میں مبتلا ہے جبکہ اس کا نچلا دھڑ بھی کام نہیں کررہا اور وہ چلنے کے قابل نہیں۔
وکیل نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے ڈاکٹر سے مشاورت کے بغیر علاج کی درخواست مسترد کردی۔ اس پر جسٹس محمد آصف نے استفسار کیا، ‘کیا جیل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بھی ہیں؟’
یہ بھی پڑھیں:جیل رولز کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ اسپتال سے علاج کی اجازت نہیں دیتے: سینیئر وکلا
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ اگر قانون میں گنجائش موجود ہوگی تو قیدی کی خواہش پوری کی جائے گی۔ ان کے مطابق 3 درخواستیں ہیں، جن میں 2 بنیادی معاملات ہیں، ایک علاج اور دوسرا بیرونِ ملک اہلخانہ سے ویڈیو کال کا معاملہ۔
جسٹس محمد آصف نے استفسار کیا کہ اگر کوئی قیدی ایسی بیماری میں مبتلا ہو جس کا علاج سرکاری اسپتال میں ممکن نہ ہو تو وہ کیا کرے گا۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ملک کے بڑے عہدیداروں کا علاج بھی پمز میں ہوتا ہے اور وہاں بہترین ڈاکٹرز موجود ہیں۔
جسٹس محمد آصف نے پمز کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے اسپتال میں اگر اس قسم کی سہولت موجود نہ ہو تو لوگ علاج کے لیے کہاں جائیں گے۔ انہوں نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ حالیہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور صدمہ پہنچانے والا ہے۔ انہوں نے کہا، ‘کل کے واقعے کی کوئی وضاحت نہیں، اس واقعے پر میرا سر شرم سے جھک گیا۔’
دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے قیدیوں کی میڈیکل رپورٹس بھی عدالت کے سامنے پڑھیں اور کہا کہ موجودہ جیل قواعد پرانے قوانین کے تحت بنائے گئے ہیں، تاہم پنجاب کے قانون میں تبدیلی کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل سے علاج کے لیے اسپتال منتقل سزا یافتہ قیدی فرار
جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے، ‘اگر کسی قیدی کو بیماری لاحق ہوجائے تو کیا کریں گے؟ قیدی کی بیماری سے آپ نہیں کھیل سکتے۔’
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ انہیں انسانی حقوق کے قانون کا بھی کچھ علم ہے۔
سماعت کے دوران ایک فوجی یونیفارم میں ملبوس اہلکار بھی کمرہ عدالت پہنچا۔ جسٹس محمد آصف نے استفسار کیا کہ وہ کس کیس میں آئے ہیں۔ اہلکار نے بتایا کہ وہ ایک قیدی کے معاملے میں متاثرہ فریق ہیں اور متفرق درخواست کے ذریعے فریق بننا چاہتے ہیں۔ عدالت نے انہیں بیٹھنے کی ہدایت کی، تاہم بعد ازاں وہ کمرہ عدالت سے روانہ ہوگئے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے تینوں قیدیوں کو نجی اسپتال منتقل کرنے کی درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی قیدی یہ کہے کہ پاکستان میں اس کا کوئی عزیز نہیں تو کیا اس کی بیرونِ ملک موجود اہلخانہ سے بھی ٹیلیفونک بات کرائی جائے گی؟ حکومت قانون میں درج طریقہ کار پر عمل کرے گی۔
جسٹس محمد آصف نے استفسار کیا، ‘قانون میں کہاں لکھا ہے کہ فیملی سے بات نہیں کرا سکتا، بے شک وہ بیرونِ ملک ہی کیوں نہ ہو؟’
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ قانون میں پاکستان میں موجود افراد سے ٹیلیفونک رابطے کی اجازت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جیل سے اسپتال منتقلی کے بعد قیدی کو کیا سہولیات حاصل ہوتی ہیں؟
جسٹس محمد آصف نے مزید استفسار کیا کہ اگر کسی قیدی کی حالت ایسی ہو کہ وہ مرنے کے قریب ہو تو کیا اس وقت بھی قانون دیکھا جائے گا؟ اگر کوئی سزائے موت کا قیدی اپنی آخری خواہش کا اظہار کرے تو پھر کیا ہوگا؟
بعد ازاں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے دلائل کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مؤقف یہ نہیں کہ کسی قیدی کا علاج نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تسلیم شدہ اصول ہے کہ جیل میں موجود شخص کے بھی حقوق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 9 زندگی کی ضمانت، آرٹیکل 14 تحفظ اور آرٹیکل 25 برابری کی ذمہ داری دیتا ہے۔ جیل قواعد کے باب 32 میں قیدی کے بیمار ہونے کی صورت میں مکمل طبی نظام موجود ہے۔ میڈیکل افسر قیدی کا معائنہ کرکے اپنی سفارشات دیتے ہیں اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ میں بھی میڈیکل افسر کی رائے موجود ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ درخواست گزار نے خواہشات کی بات کی ہے، لیکن بہترین طبی افسران پمز میں موجود ہیں اور یہ ملک کا اعلیٰ اسپتال ہے۔ کسی رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ قیدیوں کا علاج پمز میں ممکن نہیں۔
اس پر جسٹس محمد آصف نے کہا، ‘پمز اسپتال کی حالت آپ دیکھ لیں، اس کی کیا حالت ہو چکی ہے۔’
جسٹس محمد آصف نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور پنجاب کو ہدایت کی کہ دونوں افسران کو پمز کا دورہ کرنا چاہیے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے بھی تینوں قیدیوں کو نجی اسپتال منتقل کرنے کی درخواستوں کی مخالفت کی۔
دلائل مکمل ہونے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے تینوں درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔














