پبلک پروکیورمنٹ نظام میں اصلاحات، پی پی آر اے آرڈیننس میں ترامیم منظور

جمعرات 27 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی نے پی پی آر اے آدٹیننس میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی مقدمات کا اجلاس ہوا، جس میں پبلک پروکیورمنٹ اور پیٹرولیم شعبے سے متعلق اہم قانون سازی کی منظوری دے دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا ای پروکیورمنٹ منصوبے پر عملدرآمد میں سست روی پر اظہار برہمی، ایک ماہ کی ڈیڈ لائن

اجلاس میں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دی گئی، جبکہ نئے پبلک پروکیورمنٹ قواعد 2025 کے مسودے پر بھی غور کیا گیا۔ بعض امور کو مجوزہ قانون سازی مکمل ہونے تک مؤخر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں پبلک پروکیورمنٹ کے قانونی و ادارہ جاتی نظام میں اصلاحات کا جائزہ لیتے ہوئے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور مؤثر نگرانی مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ پبلک پروکیورمنٹ سے متعلق شکایات کے آزادانہ ازالے اور تیسرے فریق کے ذریعے جائزے کے طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا۔

مفادات کے ٹکراؤ سے بچاؤ، ادارہ جاتی آزادی یقینی بنانے اور سرکاری خریداری کے عمل میں برقی نظام کے مؤثر استعمال کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے دی

اجلاس میں اوگرا ترمیمی بل 2026 اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں سے متعلق آرڈیننس 2002 میں مجوزہ ترامیم کی بھی منظوری دی گئی۔

اس کے علاوہ مسودہ پیٹرولیم قواعد 2025 اور پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل و ذخیرے سے متعلق حفاظتی معیارات کے مجوزہ قواعد کی منظوری بھی دی گئی۔ پیٹرولیم شعبے سے متعلق قواعد کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قانون سازی کے عمل میں قانونی اور تکنیکی پہلوؤں کے جامع جائزے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پبلک پروکیورمنٹ کے نظام کو مزید شفاف، مؤثر اور جوابدہ بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی زیر صدارت توانائی کمیٹی کا اجلاس، قومی بجلی منصوبے میں ترامیم کی منظوری

انہوں نے کہا کہ پبلک پروکیورمنٹ میں مؤثر شکایات کے ازالے اور نگرانی کا نظام ضروری ہے، جبکہ مفادات کے ٹکراؤ سے بچاؤ اور ادارہ جاتی آزادی کو یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ جدید تقاضوں کے مطابق پبلک پروکیورمنٹ نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قانونی اصلاحات ضروری ہیں۔

اجلاس میں منظور شدہ ایجنڈا امور پر متعلقہ قانونی کارروائی آگے بڑھانے کی بھی منظوری دی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp