امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت امریکا اور کینیڈا کی سرحد پر واقع جھیل ‘لیک اونٹاریو’ کا نام فوری طور پر تبدیل کر کے ‘لیک امریکا’ رکھ دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کے ساتھ ریاست جیسا سلوک ختم، اب 50 فیصد ٹیرف لگے گا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان تجارتی مذاکرات کی ناکامی اور دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کے بعد تعلقات میں شدید تلخی آئی ہے جس کے بعد صدر ٹرمپ نے یہ قدم اٹھایا ہے۔
سرکاری ریکارڈ میں تبدیلی
اوول آفس میں دستخط کی تقریب کے دوران وائٹ ہاؤس حکام نے بتایا کہ اس حکم نامے کے تحت وزیر داخلہ ڈوگ برگم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جغرافیائی ناموں کے قومی انفارمیشن سسٹم میں اس جھیل کا نام ’لیک امریکہ‘ کے طور پر اپ ڈیٹ کریں۔
دوسری جانب کینیڈین حکام نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ وہ اس نئے نام کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اس سے قبل ٹرمپ کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے کی باتیں کر کے بھی کینیڈین عوام میں شدید غصہ پھیلا چکے ہیں۔
مزید پڑھیے: امریکا کینیڈا تجارتی مذاکرات ناکام، ٹرمپ کی ٹیرف بڑھانے کی دھمکی
دریں اثنا ایک صحافی کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا ایک طویل عرصے سے تجارت کے معاملے میں امریکا کا استحصال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی چیز کی قیمت ادا نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ امریکی ریاست جیسا سلوک ہو جبکہ وہ کوئی ریاست نہیں ہیں۔














