جنوبی کوریا نے اپنے تمام 52 ملین شہریوں کو پبلک براڈ بینڈ اور تعلیم کی طرز پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی مفت اور لامحدود سہولیات فراہم کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔
اس حکومتی منصوبے کا بنیادی مقصد عوام کو جدید اے آئی چیٹ بوٹس تک رسائی دینا ہے تاکہ صحت، مالیات اور روزمرہ کے دیگر معاملات باآسانی حل کیے جا سکیں۔
اس شاندار اقدام کے ذریعے جنوبی کوریا مصنوعی ذہانت کو ایک لازمی عوامی ضرورت کے طور پر تسلیم کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بننے جا رہا ہے۔
حکومتی سرپرستی میں ‘اے آئی فار ایوری ون’ منصوبہ
جنوبی کوریا کی سائنس اور آئی سی ٹی کی وزارت نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ اس نے ‘اے آئی فار ایوری ون’ پراجیکٹ کے لیے بولی دینے والی 6 کمپنیوں میں سے 3 سنڈیکیٹس کا انتخاب کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سال 2027: روبوٹس دنیا بدل دیں گے؟ ’چیٹ جی پی ٹی لمحے‘ کی پیشگوئی
اس منصوبے کو ملک بھر کے مقامی ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) میں وسعت دینے کے لیے حکومت ان تینوں گروپس کو مجموعی طور پر 512 نودیا بی 200 گرافکس پروسیسنگ یونٹس فراہم کرے گی۔
South Korea just became the first G20 nation to give every citizen free AI access.
All 52 million residents get an unlimited AI chatbot & public-service AI agent, treated the same way as public broadband or education.
SK Telecom, KT & Kakao consortiums were just selected to… pic.twitter.com/yKeQ0USWEX
— Russell Sean (@RussellQuantum) August 28, 2026
مزید برآں حکومت نے 2027 سے اس ملک گیر سروس کے تمام تر اخراجات خود برداشت کرنے کا جامع منصوبہ بھی تیار کر لیا ہے۔
وزارت کا ارادہ ہے کہ ستمبر تک ان گروپس کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ طے پا جائے، جس کے بعد اس سروس کا بیٹا ورژن لانچ کیا جائے گا اور سال کے آخر تک اسے مکمل طور پر عوام کے لیے فعال کر دیا جائے گا۔
روایتی چیٹ بوٹس سے جدید ایجنٹک اے آئی تک کا سفر
یہ منصوبہ روایتی چیٹ بوٹس سے کہیں زیادہ جدید اور جامع ہے۔ اس میں ایجنٹک اے آئی کا استعمال کیا جائے گا جو پبلک سروسز کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم، خزانہ اور ہاؤسنگ جیسے مخصوص شعبوں کو نیویگیٹ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
اس حوالے سے ‘ایس کے ٹیلی کام’ ایک ایسا خود مختار ایجنٹ تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو کسی بھی درخواست کو منصوبہ بندی سے لے کر اس کی تکمیل تک خود انجام دے سکے گا۔
صارفین کو اس جدید ٹیکنالوجی تک ویب سائٹس، فون کالز اور ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے ڈیجیٹل رسائی حاصل ہوگی۔
مزید پڑھیں:اوپن اے آئی نے نوجوانوں کے لیے زیادہ محفوظ چیٹ جی پی ٹی متعارف کرا دیا
سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ اے آئی سسٹم ان اداروں تک رسائی کے لیے بھی کارآمد ہوگا جو ڈیجیٹل انٹرفیس کے بجائے اینالاگ مواصلات پر کام کرتے ہیں اور یہ سسٹم صارفین کی رہنمائی اور کام کی تکمیل محض ایک ہی گفتگو کے دوران یقینی بنائے گا۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا سنگِ میل
دنیا بھر میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، تاہم اسے زیادہ تر نجی کمپنیوں کی جانب سے کمرشل بنیادوں پر بھاری فیسوں کے عوض پیش کیا جاتا ہے۔
جنوبی کوریا کی جانب سے اے آئی کو ریاستی سرپرستی میں مفت فراہم کرنا اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور انقلابی قدم ہے۔ یہ منصوبہ اس بات کا عکاس ہے کہ مستقبل کی جدید ترین ٹیکنالوجی کو صرف چند مخصوص طبقات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عام آدمی کی روزمرہ زندگی کا حصہ کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
اس اقدام سے نہ صرف کورین عوام کا معیارِ زندگی بلند ہوگا بلکہ یہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل جدت اور عوامی سہولیات کا ایک نیا معیار بھی قائم کرے گا۔














