کبھی پاکستان ہاکی میں صرف کھیلتا نہیں تھا، حکم چلاتا تھا۔ دنیا کے کسی میدان میں گرین شرٹس اترتیں تو مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی حریف کو معلوم ہوتا تھا کہ سامنے صرف گیارہ کھلاڑی نہیں، ایک ایسی ٹیم کھڑی ہے جس نے دنیا کو ہاکی کا نیا اسلوب سکھایا ہے۔ آج وہی پاکستان عالمی کپ میں گیارہویں پوزیشن پر کھڑا ہے۔
یہ جملہ پڑھتے ہوئے شاید ہماری ہاکی کی پوری تاریخ آنکھوں کے سامنے سے گزر جائے۔ کیونکہ جس ملک نے چار مرتبہ عالمی کپ، تین مرتبہ اولمپک طلائی تمغہ اور آٹھ مرتبہ ایشین گیمز کا ہاکی ٹائٹل جیتا ہو، اس کے لیے گیارہویں پوزیشن بیک وقت خوشی بھی ہے اور سوال بھی۔
خوشی اس لیے کہ پاکستان ایک طویل وقفے کے بعد دوبارہ عالمی کپ کے میدان میں آیا اور گیارہویں پوزیشن تک پہنچا، سوال اس لیے کہ چار مرتبہ عالمی چیمپیئن بننے والی ٹیم آخر گیارہویں نمبر تک کیسے پہنچی؟
یہ پاکستان ہاکی کے عروج و زوال کی پوری داستان ہے۔ پاکستان نے 1971 میں بارسلونا میں پہلا ہاکی ورلڈ کپ جیتا۔ 1978 میں بیونس آئرس، 1982 میں ممبئی اور پھر 1994 میں سڈنی میں ایک بار پھر دنیا کا چیمپیئن بنا۔ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پاکستان کے نام چار طلائی اور دو چاندی کے تمغے ہیں۔
چھ مرتبہ فائنل کھیلنے والی پاکستانی ٹیم چار عالمی ٹائٹلز کے ساتھ ورلڈ کپ تاریخ کی کامیاب ترین ٹیموں میں شامل ہے، جبکہ جرمنی نے بھی 2026 کا عالمی کپ جیت کر چار ٹائٹلز کے ساتھ پاکستان کے ریکارڈ کی برابری کرلی۔
1971 میں آغاز ہی چیمپیئن بن کر کیا، 1973 میں چوتھی، 1975 میں دوسری، 1978 میں پہلی، 1982 میں پہلی، 1986 میں گیارہویں، 1990 میں دوسری اور 1994 میں پھر پہلی پوزیشن حاصل کی۔
ذرا اس تسلسل کو دیکھیے کہ 1971 میں چیمپیئن، 1975 میں دوسری پوزیشن، 1978 میں چیمپیئن، 1982 میں چیمپیئن، 1990 میں دوسری پوزیشن اور 1994 میں چیمپیئن۔ چار عالمی تاج، دو چاندی کے تمغے اور چھ فائنلز۔ یہ محض کھیل کا ریکارڈ نہیں، پاکستان کی عالمی شناخت کا ایک باب تھا۔
اور یہ صرف ورلڈ کپ کی بات نہیں۔ اولمپکس میں بھی پاکستان نے تین طلائی، تین چاندی اور دو کانسی کے تمغے جیتے۔ 1960، 1968 اور 1984 میں سبز ہلالی پرچم سب سے اوپر لہرایا۔ 1956، 1964 اور 1972 میں چاندی جبکہ 1976 اور 1992 میں کانسی کا تمغہ پاکستان کے حصے میں آیا۔
پاکستان نے 1956 سے 1984 تک مسلسل سات اولمپکس میں ہاکی کا تمغہ جیتا۔ یہاں سے زوال کی گہرائی کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔ 1992 کے بارسلونا اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتنے کے بعد پاکستان کو اولمپک ہاکی کا کوئی تمغہ جیتے بھی 34 برس ہوچکے ہیں۔ پھر کیا ہوا؟
1994 میں پاکستان نے آخری مرتبہ ورلڈ کپ جیتا۔ اس وقت شاید کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ یہ پاکستان کی عالمی حکمرانی کا آخری تاج ثابت ہوگا۔
اس کے بعد 1998 کے ورلڈ کپ میں پاکستان پانچویں، 2002 میں پانچویں اور 2006 میں چھٹی پوزیشن پر رہا۔ 2006 کی چھٹی پوزیشن کے بعد زوال نے اچانک رفتار پکڑی۔ 2010 میں پاکستان 12ویں نمبر پر چلا گیا۔ 2014 میں ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی ہی نہ کرسکا۔ 2018 میں دوبارہ ورلڈ کپ میں پہنچا تو پھر 12ویں پوزیشن ملی۔ 2023 میں ایک مرتبہ پھر پاکستان عالمی کپ کے لیے کوالیفائی نہ کرسکا اور پھر 2026 آیا۔
یہ اعداد ایک کھیل کے زوال کی رپورٹ ہیں۔ 2026 میں پاکستان نے مارچ میں مصر کے شہر اسماعیلہ میں ورلڈکپ کوالیفائنگ ٹورنامنٹ کھیلا۔ آٹھ ٹیموں کے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان نے فائنل تک رسائی حاصل کی اور انگلینڈ سے 4-1 سے شکست کے باوجود ورلڈ کپ کی نشست حاصل کرلی۔ یوں وہ 16 ٹیموں پر مشتمل عالمی کپ میں پہنچا۔
عالمی ٹورنامنٹ میں پاکستان کی کہانی بھی کچھ عجیب رہی۔ انگلینڈ کے ہاتھوں 4-1 شکست، پھر جاپان کے خلاف 4-3 کامیابی، ویلز کے خلاف 3-3 برابری اور بھارت کے خلاف 5-3 شکست۔ پول مرحلے کے بعد نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 4-2 سے شکست دی، جس کے بعد گرین شرٹس کو گیارہویں پوزیشن کے میچ میں جنوبی افریقا کا سامنا کرنا پڑا۔
جنوبی افریقا کے خلاف مقابلہ شاید گرین شرٹس کی کہانی کا بہترین استعارہ تھا۔ پاکستان 2-0 سے پیچھے تھا۔ پھر 2-2 ہوگیا۔ پاکستان نے 3-2 کی برتری حاصل کی۔ مقابلہ دوبارہ 3-3 ہوگیا۔ جنوبی افریقا نے 4-3 کی برتری لے لی، اور جب ’فائنل وسل‘ آخری لمحات گن رہی تھی، پاکستان نے گول کرکے مقابلہ 4-4 کردیا۔ پھر پنالٹی شوٹ آؤٹ میں پاکستان نے 4-3 سے کامیابی حاصل کرکے گیارہویں پوزیشن حاصل کرلی۔
اس ایک میچ میں پاکستان ہاکی کی پوری تاریخ سمٹ آئی تھی کہ گرنا بھی، اٹھنا بھی، پیچھے رہنا بھی اور پھر جیتنا بھی مگر سوال اب بھی وہی ہے کہ ہم اتنا پیچھے کیوں گئے؟
پاکستان کی ہاکی کا اصل کمال صرف یہ نہیں تھا کہ ہمارے پاس حسن سردار، سمیع اللہ، شہباز احمد، منظور الحسن اور اصلاح الدین جیسے کھلاڑی تھے۔ اصل کمال یہ تھا کہ ایک ایسا ماحول موجود تھا جو ہر چند برس بعد ایک نیا ستارہ پیدا کرسکتا تھا۔
اسکول ہاکی تھی۔ کالج ہاکی تھی۔ کلب ہاکی تھی۔ محکموں کی ٹیمیں تھیں۔ مقامی ٹورنامنٹس تھے۔ قومی سطح پر مسلسل مقابلے تھے۔ بچے میدان میں اترتے تھے اور ان میں سے بہترین اوپر آتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ یہ پوری زنجیر کمزور ہوتی گئی۔ اور جب نچلی سطح پر کھلاڑی پیدا کرنے کا نظام کمزور ہوجائے تو قومی ٹیم میں معجزاتی کھلاڑی کہاں سے آئیں گے؟
ہم نے ماضی کے ہیروز کی تصاویر تو سنبھال کر رکھ لیں، مگر ہیرو بنانے والا نظام نہ سنبھال سکے۔ دنیا بدل گئی، ہم رفتار نہ بدل سکے، ہاکی میں جدت آتی گئی۔آسٹرو ٹرف نے کھیل بدل دیا، رفتار بڑھ گئی۔ فٹنس کھیل کا بنیادی ستون بن گئی۔ ویڈیو اینالیسس، ڈیٹا، جدید کوچنگ، اسپورٹس سائنس، غذائیت اور نفسیاتی تربیت نے عالمی ہاکی کو پہلے سے بالکل مختلف کھیل بنا دیا۔
پنالٹی کارنر صرف ایک موقع نہیں رہا بلکہ مکمل سائنس بن گیا۔ دفاع صرف گیند روکنے کا نام نہیں رہا بلکہ پریسنگ، زون، ٹرانزیشن اور پوزیشننگ کا کھیل بن گیا۔ دنیا نے ہاکی کو سائنس بنا دیا۔ ہم کئی برس تک اسے صرف ہنر سمجھتے رہے۔ اور ہنر جتنا بھی عظیم ہو، جدید کھیل میں نظام کے بغیر زیادہ دور نہیں جاسکتا۔
کرکٹ کو الزام دینا بھی آسان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں ہاکی کا زوال کرکٹ کی مقبولیت نے کیا۔ یہ بات مکمل طور پر درست نہیں۔ کرکٹ نے عوام کی توجہ ضرور حاصل کی، اسپانسرز کو ضرور اپنی طرف کھینچا، میڈیا میں جگہ ضرور بنائی، مگر سوال یہ ہے کہ اگر ہاکی کا نظام مضبوط ہوتا تو کیا صرف کرکٹ کی مقبولیت اسے ختم کرسکتی تھی؟
دنیا کے بڑے ممالک میں کئی کھیل بیک وقت مقبول ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کرکٹ بڑی ہوگئی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہاکی چھوٹی ہوتی گئی۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ہمیں 2026 میں گیارہویں پوزیشن پر خوش ہونا چاہیے؟ میرا جواب ہے ہاں بھی، اور نہیں بھی۔
ہاں! کیونکہ 2014 اور 2023 کے عالمی کپ مقابلوں سے محرومی کے بعد واپسی اور 2010 اور 2018 کی 12ویں پوزیشن سے ٹیم ایک قدم اوپر آئی ہے۔ نہیں! کیونکہ پاکستان ہاکی کی سنہری تاریخ ہمیں گیارہویں پوزیشن پر جشن منانے کی اجازت نہیں دیتی۔
جس ٹیم کے نام چار عالمی کپ اور چھ عالمی کپ فائنلز ہوں، جس نے تین اولمپک طلائی تمغے جیتے ہوں اور آٹھ مرتبہ ایشین گیمز میں سونے کا تمغہ حاصل کیا ہو، اس کے لیے اصل ہدف گیارہواں نہیں، دوبارہ پہلا نمبر ہونا چاہیے۔
گیارہویں پوزیشن کو منزل سمجھ لیا تو یہ زوال کا نیا باب ہوگا۔ اسے واپسی کی پہلی سیڑھی سمجھا تو شاید کہانی بدل جائے۔ ابھی دیر نہیں ہوئی۔ 2026 کی ٹیم نے کم از کم ایک بات ثابت کی ہے کہ پاکستان میں ہاکی مری نہیں، ابھی سانس لے رہی ہے۔
لیکن ٹوٹتے سانسوں کو زندگی میں بدلنے کے لیے صلاحیت سے زیادہ نظام ضروری ہے۔ ہمیں دس سالہ منصوبہ چاہیے، دس ماہ کا نہیں۔ اسکول ہاکی کی بحالی چاہیے۔ کلب ہاکی کی بحالی چاہیے۔ محکموں کی ٹیموں کو دوبارہ مضبوط کرنا ہوگا۔ ضلعی اور صوبائی سطح پر مستقل مقابلے کرانا ہوں گے۔ کوچز کو جدید تربیت دینا ہوگی۔ اسپورٹس سائنس، فٹنس، غذائیت، ڈیٹا اینالیسس اور اسپورٹس سائیکالوجی کو قومی پروگرام کا حصہ بنانا ہوگا۔ اور سب سے بڑھ کر میرٹ اور تسلسل چاہیے۔
فیڈریشن بدلے تو نظام نہ بدلے۔ حکومت بدلے تو منصوبہ نہ بدلے۔ کوچ بدلے تو قومی پالیسی نہ بدلے۔ کیونکہ عالمی چیمپیئن اتفاق سے نہیں بنتے۔ عالمی چیمپیئن برسوں میں تیار ہوتے ہیں۔
پاکستان ہاکی کے عروج کی کہانی اگر ایک بچے سے شروع ہوئی تھی تو واپسی بھی شاید ایک بچے سے ہی ہوگی۔ کسی سرکاری اسکول کے میدان میں۔ کسی چھوٹے سے شہر میں۔ کسی ایسے گراؤنڈ میں جس کی گھاس سوکھ چکی ہو مگر ایک بچہ پھر بھی اسٹک لیے کھڑا ہو۔ ہمیں صرف اسے یہ موقع دینا ہے کہ وہ کھیل سکے۔ کیونکہ حسن سردار دوبارہ پیدا ہونے کے لیے حسن سردار کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صرف ایک میدان، ایک اسٹک، ایک گیند، ایک اچھا کوچ اور ایک ایسا نظام چاہیے جو اس بچے کو راستے میں گم نہ ہونے دے۔
1971 سے 1994 تک پاکستان نے چار مرتبہ دنیا فتح کی۔ 1994 کے بعد 32 برس گزر گئے، مگر ایک اور عالمی تاج پاکستان کے سر نہیں سج سکا۔ اور 2026 میں عالمی کپ کی 16 ٹیموں میں پاکستان گیارہویں نمبر پر ہے۔
یہ اعداد مایوسی کے لیے کافی ہیں مگر شاید جگانے کے لیے بھی۔ کیونکہ جس ملک نے کبھی دنیا کو ہاکی میں راستہ دکھایا تھا، اسے صرف اپنا راستہ دوبارہ تلاشنا ہے۔ بادشاہت ختم ہوئی ہے، صلاحیت اور ٹیلنٹ نہیں۔
اگر اس بار گیارہویں پوزیشن کو جشن کے بجائے سبق سمجھ لیا، تو ممکن ہے کسی آنے والے عالمی کپ میں یہی سوال الٹا پوچھا جائے کہ پاکستان ہاکی کا زوال کیسے ختم ہوا؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












